چار درویش اور ایک کچھوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 مرزا صاحب نے کہانی سنانے والے شخص کے ساتھ ساتھ بطور کہانی کار جگہ جگہ خود مداخلت کی ہے اور کردار یا راوی پر تبصرہ کیا ہے۔ اس طرز کو انہوں نے ’حسن کی صورت حال، خالی جگہیں پر کریں میں‘ مدیر حیرت ’کا نام دیا ہے۔ مدیر حیرت کہانی میں کہیں سے بھی نمودار ہو کر کسی کردار، یا کسی منظر کی وضاحت یا اس پر اعتراض کر سکتا ہے۔ کاشف رضا نے بھی کم و بیش کہانی بیان کرنے کے لئے اسی جدید تیکنک کا سہارا لیا ہے۔ اردو ناول کے روایتی طرز کے برعکس یہ طرز قارئین کے لئے نہایت دلچسپی کا سبب ہو گا۔

اس تیکنیک کے ساتھ ساتھ کاشف نے ناول میں دو تصویری خاکے بھی چھاپ دیے۔ میں نہیں جانتا کہ ناول میں یہ روایت کب اور کہاں پڑی۔ میں اس پر روایت سے جڑ کر ادبی پولیسنگ کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کوئی شخص روایت کا سہارا لے کر اس طرز پر اعتراض کرے گا تو میں خود کو کاشف کے ساتھ کھڑا پاؤں گا۔ تاہم میرا اس پر اعتراض بطور قاری بالکل ایک ریشنل سطح پر ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر لکھنے والے کو کہانی لکھتے وقت اشکال بنانے کی نوبت پیش آتی ہے تو اسے اپنے لفظ ضائع کرنے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟

 اگر ایسا کرنا درست ہے تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ وہ ہر مرکزی کردار کی تصویر چھاپ دے۔ پھر سلمی، زرینہ اور مشعال کے خدوخال پر سینکڑوں جملے لکھنے کی بجائے ان کی تصاویر چھاپنے میں کیا امر مانع ہے؟ آخر یہی روایت ڈائجسٹ نے بھی تو برسوں تک چلائے رکھی بلکہ اب بھی جاری ہے۔ اگر ایک ناول میں کچھوے کی تصویر چھپ سکتی ہے تو سلمی کی کیوں نہیں۔ اور پھر اگر بات تصاویر پر چلی ہی گئی ہے اور آپ ایک میڈیم سے نکل کر دوسرے میڈیم میں جانا چاہ رہے تو پھر تصویر ہی کیوں؟ کیا ناول کو فلما کر اس کی ایک ڈی وی ڈی کتاب کے ساتھ منسلک نہیں کرنی چاہیے؟ یہ سوال جواب طلب ہے۔ اس سے پرے مجھے روایت ٹوٹنے کی کوئی فکر نہیں۔

کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاشف رضا عالمی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں اپنے ناول میں جا بجا عالمی ادب سے شستہ اقتباسات اٹھا کر اپنی کہانی میں جوڑے ہیں۔ تاہم بطور قاری میرا خیال ہے کہ یہ اقتباسات کہانی کی اساس میں پوری طرح ڈھلنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ یہ ایک باریک نکتہ ہے۔ میں اگر اپنے بیان کو واضح کرنے میں کامیاب ہو سکا ہوں تو میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اگر ان کی کہانی سے یہ اقتباسات منہا کر دی جائیں تب بھی کہانی کے تسلسل پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یوں یہ اقتباسات مصنف کے وسیع مطالعہ کی دھاک تو بٹھاتے ہیں مگر کہانی میں ڈھل کر کہانی کو کومپلیمنٹ نہیں کرتے۔

جہاں تک ناول کی کہانی کا تعلق ہے تو یہ پانچ کرداروں پر مشتمل کہانی ہے جن میں ایک کچھوا بھی شامل ہے۔ آئیے ناول کے ایک ایک کردار کے ساتھ بطور قاری منظر بینی کے سفر پر چلتے ہیں اور دیکھتے کہ قاری اور کرداروں میں سے کس کا سانس پہلے اکھڑتا ہے۔

جاوید اقبال ایک صحافی ہیں۔ کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں جس کو انہوں نے کرینہ کپور کی کئی قد آدم اور چھوٹی تصاویر سے مزین کر رکھا ہے۔ ایک صحافتی ادارے میں نوکری کرتے ہیں۔ اکیلے رہتے ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔ ارشمیدس جو کہانی کا ایک اور کردار ہے دراصل جاوید اقبال کا پالتو کچھوا ہے۔ جاوید اقبال کا زندگی کے بارے ایک الگ تناظر ہے یا کم از کم وہ اس کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ تناظر مختلف ہے۔

 ان کی دلچسپی کا اہم موضوع عورت ہے۔ جاوید اقبال کی کہانی کا آغاز یوں ہوتا ہے، ’زندگی کے اگلے برسوں کے دوران اس روز کو کئی مرتبہ دھیان میں لاتے ہوئے اسے واضح طور پر یاد آتا ہے کہ اس روز وہ مشعال کی گردن کی ناڑ کو بہت دیر تک دیکھتا رہا تھا۔ کسی عورت کو سوچتے رہنا، اسے دیکھنے اور اس کے جمال کی ذاتی ترین تفاصیل کو کھوجنے کی جستجو کرنا اور پھر ان تفاصیل کو اپنانے کی خواہش اور کاوش کرنا زندگی کی کتنی بڑی عیاشی تھی جو ان دنوں اسے فراوانی سے فراہم تھی اور وہ سوچا کرتا‘ ۔

 کچھ عورتوں کو دیکھ جاوید اپنی رگوں میں جھاگ بھرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ایسے موقعوں پر اسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے جسم کو کسی غیر مرئی طاقت نے اپنے شکنجے میں کس لیا ہو۔ کوئی مزیدار عورت اس کے قریب ہو تو وہ اپنے تمام تر جسم سے اور اپنی حسیات سے اس سے کلام کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بعض اوقات اتنا شدید ہوتا ہے کہ اسے اپنی بعض نسیں پھٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ بظاہر وہ خود کو ایک شریف النفس آدمی سمجھتا ہے۔ وہ عورتوں سے اتنا obsessed ہے کہ اپنی ڈائیریوں میں ان خواتین کی مکمل تفصیلات لکھتا ہے جن سے وہ تعلق کے کسی بھی مرحلے میں ہوں۔

 وہ ان کے نام، ان کی ادائیں، ان سے تعلق کے دوران محسوسات تک لکھتا ہے۔ ان چیزوں کے نوٹ کرنے سے وہ آئندہ کے لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ اسے ان سے ایک خاص خوشبو محسوس ہوتی ہے جو اگر اس کے تعلق میں موجود خواتین میں نہ پائی جائے تو وہ فلمی اداکاروں کی تصاویر سے پورا کرتا ہے۔ اس پورے معاملے کو وہ اپنی جبلت قرار دیتا ہے۔ نہ صرف جبلت بلکہ یہ طے کرنے کے بعد کہ یہ جبلت ہے اسے اس عمل میں پاکیزگی محسوس ہونے لگتی ہے۔

 وہ اس پاکیزگی کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ ایسی چیز ہے جو کسی، ’رشی منی یا صوفی صافی اپنے گیان دھیان یا عبادت و ریاضت میں محسوس کر سکتا ہے‘ ۔ وہ عورتوں کے ساتھ تعلق کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اپنے اس جذبے کو وہ محبت قرار دیتا ہے۔ اسی جذبے سے مغلوب ہو کر وہ ایک دن زرینہ سے صرف دیکھنے کے وعدے پر زبردستی کرتا ہے کیونکہ اس کے جسم سے اس کی نسیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ یہ جنسی زیادتی کے عمل کا آغاز تھا جسے راوی نے دوران جنسی عمل زرینہ کی آمادگی پر منتج کر کے باہمی رضامندی کا معاملہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 180 posts and counting.See all posts by zafarullah