EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

چار درویش اور ایک کچھوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 دہشت گردی کی انڈسٹری میں اس عمل کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے۔ تاہم اس عمل کا تعلق یوں عمومیت کے ساتھ سماج کے کسی بھی گروہ سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی ہاسٹل کا وارڈن، کسی سکول کا استاد، کسی مدرسے کا استاد یا کسی جہادی تنظیم کا استاد اپنے شاگردوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہو سکتا ہے۔ بات اگر یہاں تک محدود رہتی تو نظر انداز کی جا سکتی تھی۔ معاملہ مگر ذرا اور بھی دراز ہے۔ اس واقعہ کے ظہور پذیر ہونے سے بہت پہلے کچھوا اس عمل کو اپنے انداز میں راوی سے پہلے ہی نہ صرف اردو بلکہ انگریزی میں بھی دو متصل ابواب میں بہت برے اور کراہت آمیز اندازمیں بیان کرتا ہے۔

میں اس بیان کے اقتباسات لکھنے سے معذرت کا اظہار کرتا ہوں۔ بطور قاری میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک کہانی کار خود کو معاشرتی گھٹن سے آزاد کرتے ہوئے اورایک بے لاگ نقاد تصور کرتے ہوئے، ایسے عمل پر کھلے انداز میں تبرا کرنا چاہتے ہیں تو اسے ضرور کرنا چاہیے تاہم ایک ادبی تحریر میں ایسی کراہت آمیزی کو جگہ دینے سے کہانی میں ایک برے ذائقے کا ا ضافہ ہوا ہے۔ کہانی کار اکثر اخلاقی قدروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور سوال اٹھانے میں تو وہ حق بجانب بھی ہیں اس کے باجود ہر کہانی کار یا تخلیق اپنے لئے خود کچھ اخلاقی اقدار متعین کرتا ہے۔

اس کہانی میں بھی کہانی نویس نے جنسی عمل کے لئے مروج اصطلاحات کی بجائے کچھ اور اصطلاحات استعمال کیں ہیں جن کا بیان اوپر ہو چکا ہے۔ پھر کہانی کے عمومی منظر نامے سے متعلق رہتے ہوئے صرف راوی کا سادہ بیان اس واقعہ کے بیان کے لئے کافی ہونا چاہیے تھا اور کہانی کو یوں برے ذائقے سے آلودہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

کہانی کا چوتھا درویش تحصیلدار اقبال محمد خاں ہے۔ یہ پہلے تینوں درویشوں کا باپ ہے، جن میں سے جاوید اقبال اور آفتاب اقبال ان کے جائز اور بالا ناجائز اولاد ہے۔ اس باب میں بھی ناول نگار نے ناول کے دونوں موضوعات سے زیادہ کہانیت پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ گو بالے کے باب کے مقابلے میں یہاں اقبال محمد خاں کا کردار جنس سے بہت متعلق ہے مگر کہانیت حاوی ہے۔

اقبال محمد خاں کا پہلا تعارف ہمیں ان کا بیٹا آفتاب اقبال شروع میں کراتا ہے۔ آفتاب بہت ابتدا میں ہمیں بتاتا ہے کہ اقبال محمد خاں کے پاس کتابوں کا ایک اچھا ذخیرہ تھا۔ ان میں اقبال محمد خاں کی ڈائریاں بھی شامل تھیں۔ آفتاب اقبال کی والدہ نے اپنے شوہر سے اس وقت علیحدگی اختیار کی جب آفتاب ابھی کم عمر تھا۔ اس لئے آفتاب اپنے والد کی شخصیت سے پوری طرح واقف نہیں ہے۔ وہ اپنے والد کی ڈائریوں سے ان کی شخصیت کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں۔

 وہ بتاتے ہیں کہ خواتین کی تفصیلات کے اور دیگر رطب و یابس کے علاوہ اقبال محمد خان کی ڈائریوں میں آثار قدیمہ سے متعلق بہت مواد موجودہے۔ وہ آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھتے تھے اور اس شہر کی کھوج میں تھے جو سکندر اعظم نے دریائے جہلم کے کنارے آباد کیا تھا۔ وہ اپنی ان دریافتوں کا احوال اپنی زندگی کے احوال کے ساتھ ڈائریوں میں لکھتے تھے۔ آثار قدیمہ سے ان کی دلچسپی کا ذکر آفتاب نے دو تین مختلف مقامات پر کیا ہے۔

اس سے پہلے مگر ایک اور واقعہ سن لیجیے۔ ایک معاصر سیاسی و ادبی شخصیت پر ایک صحافی نے ان کی برسی کے موقع پر ایک تحریر لکھی جس کا عنوان تھا ”شیخ صاحب کی قید و بند کی صعوبتیں“۔ ان کا پہلا جملہ یوں تھا کہ شیخ صاحب نے اپنے نظریات کی پاداش میں قید و بند کی بہت صعوبتیں برداشت کیں۔ اس کے بعد انہوں نے شیخ صاحب کی تعلیم، ان کی سیاست، ان نظریات پر طویل روشنی ڈال کر کالم کا اختتام کر دیا تھا۔ وہ عموماَ اپنے کالم دوستوں کو وٹس ایپ بھی کرتے ہیں۔

ہمارے ایک کرم فرما ان کے دوستوں میں ہیں۔ انہوں نے یہ کالم پڑھا تو ان کو جواباَ لکھا کہ حضور والا آپ کا کالم پڑھا۔ خوب لکھا تھا۔ عرض صرف یہ کرنا مقصود تھا کہ عنوان کی تفصیل کالم میں دستیاب نہ تھی۔ کیا شیخ صاحب کے دیگر کارناموں کو قید و بند کی صعوبتیں سمجھ لیا جائے؟ ایسے ہی آفتاب اقبال تو شروع میں بتا دیتے ہیں کہ ان کے والد کی آثار قدیمہ سے بہت دلچسپی تھی اور انہیں سکندر اعظم کے بسائے گئے شہر کی بھی تلاش تھی۔

 مشکل مگر یہ ہے کہ جب خود اقبال محمد خاں کا باب تمام ہوتا ہے تو قاری کو احساس ہوتا ہے کہ تحصیلداری، نظر بازی، شکار، محبتیں، لوگوں کی تفصیل مثلوں سے نکالنے کے علاوہ اقبال محمد خاں آثار قدیمہ میں کس وقت دلچسپی لیتے تھے؟ ان کا باب آثار قدیمہ جیسی دلچسپی کے ذکر سے یکسر خالی ہے۔ ایک زیرک ناول نگار سے ایسی غلطی کیونکر ہو سکتی ہے؟

جہاں تک اقبال محمد خاں کا ناول کے موضوعات سے تعلق ہے تو اقبال محمد خاں کم و بیش ویسے ہی شخص ہیں جیسے ان کے بیٹے جاوید اقبال ہیں۔ کہانی کے بڑے کینوس سے ان کا تعلق کم و بیش اسی تناظر میں ہے جن میں جاوید اقبال کا ہے۔ ان کی دلچسپی بھی عورت ہی تھی۔ تاہم جاوید اقبال کے برعکس وہ اس دور کے نمائندہ تھے جب جنس کے ساتھ اولاد کا تصور بھی ملحق تھا۔ انہوں نے ایک پولیس والے کی بیوی کے ساتھ ایک ناجائز بچہ جن دیا تھا جس کا انہیں کوئی افسوس نہیں تھا۔

 بطور کردار اقبال محمد خاں کو جیسے جزیات نوٹ کرنے کی عادت تھی، اس سے توقع تھی کہ وہ اپنے اس عمل کا جائزہ بھی لیتا۔ دوصورتیں ممکن تھیں، یا تو اسے شرمندگی ہوتی کہ جو کام کیا ہے وہ درست نہیں تھا یا اسے ڈٹ کر کہنا چاہیے تھا کہ میں محبت پر یقین رکھنے والا شخص ہوں اور یہ میری محبت کی نشانی ہے جس کے جائز ہونے کے لئے میں کسی جنتر یا سماجی رشتے پر یقین نہیں رکھتا۔ مگر انہوں نے دونوں کام کرنے کی بجائے ابارشن کا ارادہ اس سماجی امیج کے خوف سے کر لیا تھا جو ان کی ساکھ برباد کر سکتی تھی۔ گویا جنس کا پیچیدہ سوال یہاں بھی صرف بائنریز سے ہی متعلق رہا جس کا تناظر خالص پرانا اور روایتی تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 183 posts and counting.See all posts by zafarullah