چار درویش اور ایک کچھوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی میں ایک اور ضمنی کردار صادق عرف ککی کا بھی ہے۔ ککی بھائی زرینہ کے شوہر ہیں۔ ان کی خصوصیت خواب دیکھنے کی ہے۔ ان کے کئی خواب جو تمثیلی زبان میں ہوتے ہیں مگر عملی سطح پر مکمل حقیقت میں ڈھلتے ہیں۔ یہ کیسے ہوا؟ ایسا کیونکر ممکن ہے جب کہانی میں سرے سے کوئی فینٹاسائزڈ ماورائیت موجود ہی نہیں ہے۔ راوی نے خوابوں کے یوں حقیقت میں ڈھل جانے پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کیا جو ان خوابوں کی توجیہ کر سکے۔

میری کاشف رضا سے ذاتی شناسائی نہیں ہے۔ کاشف رضا سے میری کل واقفیت ان کے اسی ناول کے توسط سے ہے۔ میں نے اس ناول کا ذکر فیس بک پر سنا تھا۔ کہیں ایک آدھ جملہ یوں بھی نظر سے گزرا کہ اردو زبان میں ناول میں جنس پر لکھے جانے والے ناولوں میں کاشف رضا کا ناول سب سے بڑا ناول ہے۔ کتاب کیسے حاصل کی، یہ تفصیل بیان ہو چکی ہے۔ طبیعت کی سست روی کا یہ عالم ہے کہ کتاب کئی دن گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پڑی رہی۔ ایک دن اپنی روایتی منظر بینی کے سفر پر ابوبکر نے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ ناول پڑھ لیا؟

 تب مجھے یاد آیا کہ ایک کام تو زندگی میں کرنے کا یہ بھی رہتا ہے۔ حق تجھے میری طرح صاحب پیکار کرے۔ سو حق کی جستجو میں تین دن پہلے ناول کا آغاز کر ڈالا۔ میری خوش قسمتی سمجھ لیجیے کہ کسی ادبی سوسائٹی کے ساتھ براہ راست تعلق سے محرومی کے ساتھ ساتھ کسی اعزازی ممبر سازی سے بھی محروم ہوں سو کوئی تعلق بار خاطر نہیں ہے اور کسی بھی جانبداری سے بری الذمہ ہوں۔

میں نے پوری دیانتداری سے اس ناول کو ایک قاری کی نظر سے پرکھا ہے۔ کاشف رضا کے موضوع میں جدت ہے۔ انہوں کہانی کی بنت اور بیان کو جدید طرز میں بیان کیا ہے۔ ان کا ناول کم ازکم اتنا دلچسپ ضرور ہے کہ فکشن کا ایک عمومی قاری ناول خرید کر نہ صرف توجہ سے پڑھتا ہے بلکہ اس کے نوٹس لے کر پڑھنے کے دوران ہی یہ طے کرتا ہے کہ مجھے اس ناول کا ریویو لکھنا ہے۔ یوں قریباً سات ہزار الفاظ کی طویل تحریر لکھتا ہے۔ کسی طویل کہانی کا ریویو لکھنا بالذات ایک نہایت کٹھن اور اذیت ناک کام ہے۔

اور جدید ناول میں کہانی کی جہتیں اتنی متنوع موضوعات لئے ہوتی ہیں کہ ہر موضوع پر کلام ممکن نہیں رہتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کسی کالم یا کہانی سے اس لئے بھی زیادہ مشقت آمیز ہے کہ اس میں پڑھنے کے ساتھ جزیات اور باریکیوں کے نوٹس رکھنے پڑتے ہیں۔ کہانی پوری توجہ اور یکسوئی مانگتی ہے۔ اس کے بعد ریویو لکھنے کا عمل بہت تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک تو بدقسمتی سے فرمائشی ریویوز کا چلن عام ہے اور پھر وہ ریویوز عموماَ غیر ادبی پیرائے میں ہوتی ہیں جو ایک کالم کی شکل میں سپرد قلم کی جاتی ہیں جہاں چند کرداروں اور پلاٹ کے بارے میں عمومی تحسین سے مزین خوبصورت جملے لکھے جاتے ہیں اور یوں ریویو کا قرض اتر جاتا ہے۔

میرے خیال میں یہ ریویو پڑھنے والے قارئین اور مصنف دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ میرا اپنا ماننا ہے کہ کسی کتاب خصوصاَ ایک ناول کا ریویو، کہانی کی گہرائی میں اتر کر ایک ایک کردار کے ساتھ چل کر اسے محسوس کر کے، اس کے پیغام کو سمجھ کر لکھنا چاہیے۔ اس لئے طوالت لازم ہو جاتی ہے۔ عمومی طور پر میرا اس ناول کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ اس نے دو بڑے کائناتی موضوعات کو زیر بحث بنایا ہے تاہم ناول نگار اتنے بڑے موضوعات کے ساتھ اتنے ہی وسیع کینوس پر انصاف نہیں کر پایا۔ یوں میں اس ناول کو دلچسپ اور پڑھنے سے تعلق رکھنے والا ناول تو ضرور قرار دیتا ہوں مگر میں اسے کوئی بڑا ناول تسلیم کرنے میں ابہام کا شکار ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 179 posts and counting.See all posts by zafarullah