چار درویش اور ایک کچھوا

 مگر مشکل یہ ہے کہ راوی نے یہاں زرینہ کی مزاحمت سے اچانک آمادگی کی کوئی توجیہہ نہیں کی۔ اسی جذبے کے تحت وہ اس لڑکی کو جس کو وہ سالوں سے چاہتا ہے اور کئی سال بعد جب ان کی ملاقات ایک پبلک مقام پر ہوتی ہے جہاں جاوید اقبال بظاہر اسے شادی کا پروپوزل دینے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ مشعال نیم آمادہ ہو جاتی ہے۔ واپسی پر جاوید اس کے پیچھے ایسکلیٹر میں کھڑے ہو کر اسے گروپ (grope) کرتا ہے۔ اس کے جسم پر پبلک مقام پر ہاتھ پھیرتا ہے۔

 نفسیات کی زبان میں ایسے شخص کو جنسی ناآسودگی کا شکار کہا جاتا ہے۔ ایک جنسی نا آسودگی کے شکار شخص کے کردار سے جنس کے بارے میں کوئی نظریہ تخلیق کرنا آج کے دور میں قدرے مشکل ہے۔ جو ناول کا ایک طرح سے بنیادی موضوع ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جاوید اقبال جنس کے معاملے کو بائنری سطح پر بھی دیکھنے کا اہل نہیں بلکہ صرف اپنی ذاتی تسکین کے تناظر میں دیکھنے کا عادی ہے۔ ایسے میں وہ جنس جیسے پیچیدہ موضوع پرکوئی اچھا تناظر یا سرے سے کوئی تناظر قائم کرنے میں اس لئے ناکام ہوتا ہے کیونکہ اس کا رویہ صرف اور صرف خود غرضانہ نظر آتا ہے۔

 بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ راوی جو اس ناول میں ایک کردار کے طور پر شامل ہے یعنی خود ناول نگار، وہ بھی جاوید اقبال کے اس مریضانہ فہم کو چیلینج کرنے کی بجائے اسے شہ دے رہا ہوتا ہے یا بہت سے مقامات پر ستائشی انداز میں برت رہا ہوتا ہے، مثال کے طور پر ”اصل میں جاوید ہر لڑکی یا عورت سے اپنے تعلق کو ایسے اہتمام اور محبت سے ترتیب دیتا تھا جیسے کوئی شاعر کوئی طویل نظم بنا رہا ہو، یا کوئی مصور ایک بڑی سی تصویر پر آہستہ آہستہ کام کر رہا ہو۔

وہ اس تعلق میں بڑی احتیاط سے مصرعے لگاتا اور اسٹروک جماتا ہے۔ بظاہر لگتا یوں ہے کہ کہانی کار جاوید کی ستائش اس لئے کر رہا ہے کیونکہ اسے جاوید کے عمل کو اپنے ناول کے دوسرے بڑے موضوع یعنی“ سچ کو دیکھنے کے مختلف تناظر ”سے متعلق کرنا چاہتا ہے تاکہ جاوید کا رویہ ایک انفرادی سچائی کے طور سچائی کے عمومی تناظر میں ایک مختلف زاویہ نگاہ کے طور پر اسٹیبلش کر سکے۔ مشکل یہ ہے کہ تناظر کی تمام انفرادیت کے باوجود یہ ایک معلوم شدہ رویہ ہے جس کی کم ازکم تفہیم مریضانہ سطح پر کی جاتی ہے۔

ایسے مریضانہ تناظر بھلے وہ وجودی سطح پر جتنے بھی واقعاتی شہادت رکھتے ہوں، نظریہ سازی کے عمل میں شامل نہیں کیے جا سکتے یا اگر کسی کا اصرار ہے کہ چونکہ واقعاتی شہادت رکھتے ہیں اس لئے شاملکیے جانے چاہیں۔ اس دلیل پر بحث ممکن ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ رویہ نظریہ سازی میں شامل نہیں جاتا۔ یوں یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہونا چایئے کہ جاوید کا کردار ناول کے دونوں موضوعات سے انصاف قطعی طور نہیں کر پاتا۔

آفتاب اقبال اس کہانی کے دوسرے درویش ہیں۔ یہ پیشے سے پروفیسر ہیں اور فلسفہ پڑھاتے ہیں۔ ایک خوبصورت، سمارٹ اور الی جیبل بیچلر ہیں۔ یہ جاوید اقبال کے بھائی ہیں۔ ان کی مائیں الگ الگ ہیں۔ آفتاب اقبال کی ماں نے اپنے شوہر اقبال محمد خاں سے چند غیر شرعی وجوہات کی بنا پر علیحدگی اختیار کی تھی۔ آفتاب کو فلسفے سے شغف ہے۔ نہایت پڑھے لکھے اور ریشنل آدمی ہیں۔ زندگی کے معاملات کا بہت گہرائی سے تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔

 سچائی کے موضوع پر ناول نگارنے آفتاب اقبال کے ذریعے فلسفے کے سچائی سے متعلق گنجلک معاملات پر بہت طویل مباحث بہت آسان پیرائے میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ وہ ایک استاد ہیں اور شاگردوں سے سچائی کے موضوع پر بہت خطیبانہ انداز میں کلام کرتے ہیں۔ تاہم کہانی کی بنت میں آفتاب اقبال کا کردار ایک قاری کی توقعات سے یکسر مختلف ہے۔ ان کو سلمی سے محبت ہو جانا کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ اس محبت کے فوراَ بعد جب کہانی بڑھتی ہے تو آفتاب اقبال کے کردار کا سانس اکھڑ جاتا ہے۔

وہ اپنے بنیادی تعارف یعنی ایک ریشنل انسان ہونے کے معیار سے آہستہ آہستہ نیچے چلے جاتے ہیں۔ قاری کے لئے حیرت کا پہلا پڑاؤ تب آتا ہے جب آفتاب اقبال سلمی سے پہلی ملاقات کرتا ہے۔ سلمی ایک مذہبی مگر کھاتے پیتے خاندان سے ہے۔ آفتاب اقبال ایک اچھی نوکری پر ہیں۔ ایسے میں دونوں احباب پہلی ملاقات کے لئے ایوب پارک جیسے مقام کا انتخاب کرتے ہیں جو حیران کن ہے۔ ایوب پارک کالج کے لڑکے لڑکیوں کے لئے تو ایک ڈیٹنگ سپیس قرار دی جا سکتی ہے مگر ایک بیالیس سالہ فلسفے کا استاد ایسے عوامی پارک میں جاتا ہے یہ قاری کے تناظر میں کم ازکم بھی ایک غیر شائستہ انتخاب ہے۔

اس بات سے صرف نظر کر کے اگر پہلی ملاقات کی روداد پر غور کیا جائے تب بھی آفتاب اقبال کی شخصیت اپنے تعارف کے مقام سے بہت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ فلسفے کا ایک پروفیسر جو بہت ریشنل ہے، اقبال کے تصور خودی اور تصور حقیقت پر بحث کرتا ہے، افلاطون اور ارسطو کے تصور ممیسس پر بحث کرتا ہے، ریالٹی اور اس کے لئیرڈ کانسیپٹس پر بحث کرتا ہے، محبت کے بارے میں ایک فلسفہ رکھتا ہے، انسانی جذبات کو گہرائی میں سمجھتا ہے، بشری رحمان سے لے کر فیمنزم جیسے جدید مسائل پر طلباءکو کتابیں سجیسٹ کرتا ہے، اس کی پہلی ملاقات میں مکالمے کی صورت پر ذرا نظر ڈال لیں۔

 سلمی بولی، ”کل آپ فون پر کافی پریشان لگ رہے تھے“۔ آفتاب، ہاں۔ مجھے پکا یقین ہے کہ پرویز مشرف القاعدہ والوں کو پاکستان میں پناہ دے رہا ہے۔ اللہ کرے یہ بات غلط ہو، لیکن اگر صحیح ہوئی تو امریکہ القاعدہ والوں کی تلاش میں پاکستان میں بھی داخل ہو سکتا ہے ”۔ سلمی، “ آپ تو خواہ مخواہ پریشان ہوتے ہیں۔ کچھ نہیں ہو گا ایسا۔ اور امریکہ آ بھی گیا تو کیا ہم نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں ”۔

کہانی کی زبان میں ایسے مکالموں کو کردار کا سانس اکھڑنا کہتے ہیں۔ کردار کے پاس کہنے کو اور کہانی آگے بڑھانے کو ایسا بیان نہیں ملتا جس سے کہانی آگے بڑھے سو کچھ بھی لکھ کر کہانی چلا لیجیے۔ یہ ”کچھ بھی“ اس لئے کہ اگر آفتاب پولیٹکل سائنس کے استاد ہوتے تو اس مکالمے کی جگہ بنتی تھی۔ آفتاب اپنے بھائی جاوید اقبال کی طرح صحافی ہوتے تب بھی یہ مکالمہ بنتا تھا۔ سلمی کو سیاست سے کوئی دلچسپی ہوتی یا یہ موضوع کلاس میں پہلے کبھی زیر بحث آتا تب بھی درست تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words