کامیاب تخلیق کار کی موت کا منظر


 آج کی عدالت اسی ہال میں لگائی گئی تھی۔ میں نے تجسس کے ساتھ نظریں گھمائیں۔ اس ناول کا ہر کردار اسی انداز سے کھڑا تھا جو انداز میں نے اُسے دیا تھا۔ میری مخلوق میرے سامنے تھی۔ میرے تخلیق کیے ہوئے سارے کردار، مرد و زن، بچے جانور، شہر گلیاں، محل۔ ہر جگہ اسی طرح تھی جیسی میں نے بنائی تھی اورہر ایک اسی انداز میں تھا جو میں نے اسے دیا تھا۔ میں اپنے کام میں پکا تھا ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں۔ بڑی محنت کرتا تھا میں، اپنی کہانیوں پر ایک ایک بات تفصیل سے لکھتا، ذرا ذرا سی چیزوں کی باریکیوں میں جاتا تب کہیں کہانی مکمل ہوتی تھی۔

 میں نے ایک بار پھر ہال پر طائرانہ نظر ڈالی تھی اور خوف سے جیسے میرا پورا وجود لرز کر رہ گیا۔ میرے ناول، ناولٹ افسانوں، کہانیوں اور ڈرامے کے سارے کرداروہاں موجود تھے مگر کسی کی بھی آنکھوں میں میرے لئے رحم، عزت اور اعتماد نظر نہیں آیا۔ ایک نفرت تھی جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ سب میرے وجود کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے خوف کے ساتھ ساتھ سخت افسوس بھی ہوا جب میں نے دیکھا کہ میرے ایک ناول ”پیپل کے سائے میں“ کے مرکزی کردار ہیڈ ماسٹر صاحب بھی مجھے غصے سے دیکھ رہے ہیں۔

 پیپل کے سائے میں ہیڈ ماسٹر صاحب اچھائی کے علامتی کردار میں کام کرتے ہوئے بہت سی برائیوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔ مگر آخر میں ان کا ایک شاگرد چھانگلا جس کی چھ انگلیاں تھیں، انہیں قتل کردیتا ہے۔ چھانگلا نے ہاتھ میں پستول پکڑی ہوئی تھی جسے اس نے میری جانب تانا ہوا تھا۔ چھانگلا ایک جاگیردار کا ناجائز بیٹا تھا جس کی ماں سے جاگیردار کو شادی کرنی پڑگئی تھی۔ چھانگلا نے اغوا کیے تھے، اپنی ایک بیوی کے چہرے پرتیزاب چھڑکا تھا، ایک مزارعے کی بیٹی کو پامال کرکے زندہ جلادیا تھا مگر اسے ہیڈ ماسٹر صاحب سے شدید محبت تھی جو اسے ہمیشہ اچھا سمجھتے تھے، اسے انہیں بھی قتل کرنا پڑتا ہے جب اسے پتا لگتا ہے کہ ان کی محبت بھی مشکوک ہوگئی ہے کیوں کہ چھانگلا کسی بھی چیز کو اپنا کر اسے اپنی ملکیت ہی سمجھتا تھا زمین، جائیداد، عورت، اسکول کے ماسٹر اس کی کائنات میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا اس کی مرضی کے بغیر۔

 جہاں مجھے اپنے کرداروں کو زندۂ جاوید شکل میں دیکھ کر ایک عجیب سی خوشی ہوئی، وہاں پر یہ رنج بھی ہوا کہ یہ سارے ہی کردار اپنے خالق کی زندگی کے درپے ہیں، اسے ختم کردینا چاہتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیوں آخر کیوں یہ لوگ اپنے ہی خالق کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں۔ کیوں اس کی زندگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہیں تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کی جیتی جاگتی شخصیت بن گئی۔ وہ خیالوں کے بادلوں میں بجلی بن کر چمکے اور ان کا وجود زندہ ہوکر سامنے آگیا۔

 وہ ان اربوں کھربوں زندۂ جاوید حقیقی انسانوں کی طرح زندہ نہیں تھے مگر امر ہوگئے تھے۔ انہیں ادب کا ہر قاری جانتا تھا، ان پر کہانیاں لکھی جارہی تھیں، ان کی نقلیں اُتاری جا رہی تھیں، پھر بھی وہ مجھ سے شاکی تھے۔ میں سوچ ہی رہا تھاکہ چیف جسٹس کی آواز آئی۔ ”وقت بہت کم ہے اور فیصلہ بھی ہونا ضروری ہے۔ عدالت کے پاس وقت نہیں ہے کہ سارے گواہوں کی گواہیاں قلم بند کرے اور فیصلہ دے لیکن عدالت چند گواہوں کو ضرورسننا چاہے گی تاکہ ملزم کو اس بات کا احساس رہے کہ فیصلہ انصاف کی بنیاد پر ہوا ہے۔

 “ میں کہنا چاہتا تھا کہ مجھے صرف احساس دلانے کے لئے عدالت کی کارروائی چلانے کا کوئی مقصد نہیں ہے لیکن میں نے اس مرحلے پر خاموش ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ ”گواہ سلطانہ کو پیش کیا جائے۔ “ پیشکار کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ سلطانہ میرے ایک ناول ”سمندر سوکھ جاتا ہے“ کی ہیروئن تھی۔ اس ناول کا سب سے پہلے روسی زبان میں ترجمہ ہوا پھر ٹی وی والوں نے اس کہانی کی بنیاد پرایک ٹیلی ویژن سیریز بھی بنائی۔ یہ ناول مجھے خود بھی بہت پسند تھا او راس ناول کو لکھنے میں، میں نے بہت محنت کی تھی۔

 میں نے تجسس کے ساتھ سلطانہ کودیکھا۔ سلطانہ بہت خوبصورت تھی۔ اس کے لانبے سیاہ بال اس کے تانبے جیسے چہرے کو سورج کی طرح دمکا رہے تھے۔ اس کی شخصیت چاندنی کی طرح گداز تھی۔ سلطانہ کی کردار سازی میں، میں نے بہت محنت کی تھی اور ناول کا اختتام کچھ اس طرح سے تھا کہ پڑھنے والا جھنجھلا کر رہ جاتا تھا۔ سلطانہ اپنی تمام تر کشش کے ساتھ میرے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے چیف جسٹس کو مخاطب کرکے کہا، ”جناب عالی! یہ شخص میرا خالق ہے۔

 اس نے مجھے مشرقی پاکستان کے ایک غریب بہاری خاندان میں پیدا کیا، میرے ماں باپ کو مکتی باہنی والوں کے ہاتھوں قتل کرا کر مجھے ایک بنگالی کے ہاتھوں اغوا کرایا۔ جس نے مجھے کلکتہ کے بازارِ حسن میں طوائف بنا دیا۔ میں طوائف بن کرایک طرح سے مطمئن تھی۔ اس نے مجھ میں بے اطمینانی پیدا کی اورمیں وہاں سے بھاگ کر پٹنہ چلی گئی جہاں میں نے پھر اپنا جسم بیچا اور دلالوں کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی لاہور پہنچ گئی۔ میرے خالق نے مجھے لاہور کی فلمی دنیا کی مشہور ہیروئن بنا دیا۔

 جب میں دولت اور شہرت کے بامِ عروج کی طرف رواں دواں تھی تو اس نے مجھے ایک سندھی وڈیرے سے ملوادیا۔ سائیں اللہ مراد نہ صرف مجھ پر عاشق ہوا بلکہ میں بھی اس کے عشق میں گرفتار ہوگئی۔ میں نے سائیں اللہ مراد سے شادی کرکے فلمی دنیا چھوڑ کر سائیں کی حویلی میں ہمیشہ کے لئے پناہ لینے کی کوشش کی تو مجھے پتا لگا کہ میرا وڈیرا سائیں مردوں سے بھی جنسی تعلقات رکھتا ہے۔ میں نے اس حقیقت سے بھی آنکھیں بند کرلیں اور اپنے سائیں کی پوجا ہی کرتی رہی کہ ایک دفعہ میں ماں بن جاؤں گی تو پھر زندگی کی نئی ڈگر پر چل نکلوں گی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6