کامیاب تخلیق کار کی موت کا منظر
مگر میرے خالق نے مجھے بانجھ بنا دیا۔ میں بانجھ بن کر اس حویلی کی تاریکیوں میں کھوئی رہی اور اس کو ہی اپنی قسمت سمجھ کر گزارا کرنے لگی کہ کم از کم شوہر کی محبت تو میرے لئے ہے مگر پھر اس نے حالات ایسے بنادیئے کہ وڈیرے سائیں کو پتا لگ گیا کہ میں طوائف بھی رہ چکی ہوں۔ میں طلاق پا کر کراچی پہنچی تو مجھے جو شخص بھی ملا اس نے لوٹنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ مجھے اس چھوٹے جہاز سے کود کر خودکشی کرنی پڑگئی جہاں کچھ لوگ میری آبرو لوٹتے رہے تھے۔
ایک بہاری لڑکی، ایک طوائف، ایک ایکٹریس، ایک ہم جنس پرست وڈیرے کی بیوی، ایک بانجھ عورت، ایک طلاق یافتہ کی آبرو کیا ہوتی ہے۔ اسے تو باربار لٹنا ہی پڑتا ہے۔ جنابِ عالی! مجھے پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا ڈھاکا کے بازار بند ہوجاتے اگر مکتی باہنی والے میرے ماں باپ کو قتل نہیں کرتے اورمیرا اغوا نہیں ہوتا؟ کیا ضروری تھا کہ مجھے کلکتہ میں طوائف بنا کر رکھا جاتا؟ کیا مجبوری تھی کہ پٹنہ کی ہائی سوسائٹی میں، میں بہاری نودولتیوں کے ہاتھوں پامال کی جاتی؟
کیوں مجھے لاہوربھیجا، کیوں میری ملاقات سائیں وڈیرے سے کرائی پھر ایسے سائیں سے جو خود بھی جنسی مسائل کی نفسیاتی گرہوں میں پھنسا ہوا تھا۔ اور پھر ضروری تھا کہ مجھے اتنا ناپاک کیا جاتا کہ میں خودکشی کرلیتی۔ یہ غم، یہ دکھ، یہ مصیبتیں، یہ پہاڑسا بوجھ اگر سمندر پر پڑے تو وہ بھی سوکھ جائے گا۔ یہ سب کچھ مجھے ہی کیوں دیا گیا۔ یہ جرم ناقابلِ معافی جرم ہے۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ میرے خالق میرے تخلیق کار کو ختم کردیا جائے۔
اسے ایسی ہیبت ناک سزا دی جائے کہ آئندہ اس سزا کے تصور سے ہی کہانی کاروں، افسانہ گروں اورکردار سازوں کو تخلیق کرنے کی ہمت ہی نہ ہو۔ اسے اس طرح سے ختم کیا جائے کہ اس کا ناپاک وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عبرت ناک کی مثال بن جائے۔ اس تخلیق کار کو ایسی مثال بنادیا جائے کہ پھر کبھی کسی کی جرأت نہ ہو کہ وہ ہم جیسی غریب کی بیٹیوں کو مسلسل پامالی کا ذریعہ بنائے۔ “ میری آنکھوں میں آنسو آگئے، خوشی کے آنسو۔ مجھے اپنے فن کی اس سے اچھی داد تو کوئی بھی نہیں دے سکا تھا۔
میرا جیتا جاگتا کردار چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میں نے اس کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے سائیں اللہ مراد کی آواز آئی۔ ”جنابِ عالی! مجھے انہوں نے ایک ایسے گھر میں پیدا کیا جہاں سب کچھ ہوتا تھا۔ عورتیں رکھیل ہوتی تھیں، بیوی بنتی تھیں، ماں بنتی تھیں، بہن بنتی تھیں اورساتھ ہی وہاں ہم جنس پرست بھی ہوتے تھے۔ اس نے میری شخصیت کو تباہ و برباد کردیا۔ مجھے وڈیرہ بنادیا، لاکھوں ہاریوں کا مالک پھر مجھے ایسے رسم و رواج کا تحفظ بھی کرنا پڑا جن سے اس نے لوگوں کو نفرت سکھائی۔
میں ان کا تحفظ تو کیا کرتا میں خود تضادات کی تصویر بن کر رہ گیا۔ مجھے بے آبرو کردیا میرے خالق نے۔ کیا حق تھا مجھے بے آبرو کرنے کا؟ کیوں مجھے رسوا کیا اس سمندر میں جو خود ہی سوکھ رہا تھا۔ “ اللہ مراد کی تخلیق میرا ایک بڑا کارنامہ تھا۔ درحقیقت وہ میری تخلیق نہیں تھا وہ تو سماج میں پہلے سے موجود تھا۔ میں نے تو صرف اسے حویلی، اسمبلی، سینٹ، جلسے، دعوت اور ضیافتوں سے نکال کر اپنی کتاب کی زینت بنایا، اس کی شکل، اس کا کردار مختلف چہرے ایک جگہ پر جمع کردیئے تھے، اس کی کردار سازی میں اس کے اور سلطانہ کے رشتوں کے تناؤ کو بنانے بگاڑنے میں جس درد سے میں گزرا تھا وہ درد شاید دردِ زہ سے بھی زیادہ شدید تھا۔
اس کا اندازہ وہی کرسکتا تھا جس نے تخلیق کی ہو۔ میں مسحور ہوکر بڑے غرور کے ساتھ سائیں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے پیچھے مکتی باہنی اور فوج کے سپاہی اپنی بندوقیں میری طرف تان کر کھڑے ہوگئے تھے۔ کلکتہ کی طوائفیں مجھے غصے سے دیکھ رہی تھیں۔ لاہور کے وہ فلم ایکٹر جن کے کرداروں کی تشکیل میں میں نے خون پسینہ ایک کیا مجھے غصے سے گھور رہے تھے۔ کراچی کے وہ تاجر جنہوں نے ڈیفنس کے بوٹ کلب سے سلطانہ کو اغوا کیا تھا وہ میرے منہ پر تھوکنے کو تھے۔
مجھے لگا کہ مکتی باہنی اور ٹکا خان کے فوجیوں کی گولیاں اکٹھے میرے ماتھے پر لگنے والی ہیں کہ چیف جسٹس نے آواز دی کہ مجرم کو فی الحال زندہ رکھنے کی ضرورت ہے، گواہ نمبر دو کو بلایا جائے۔ میں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، ”جنابِ عالی! کیا مجھے اس بات کی اجازت نہیں ملے گی کہ میں بھی اپنی صفائی میں کچھ کہوں۔ “ چیف جسٹس نے مجھے غور سے دیکھا پھر اپنے دونوں جانب بیٹھے ہوئے ججوں کو ایک نظر دیکھتے ہوئے اپنی بھاری آواز میں کہا جب تم نے ان لوگوں کی، ہم سب کی تخلیق کی، مجھے بنایا تو مجھ سے پوچھا کہ میرا نام کیا ہوگا، میرا کام کیا ہوگا، میرا انجام کیا ہوگا؟
میں کیسے زندہ رہنا چاہتا ہوں، میں کیسے مروں گا؟ تم نے ہم سب کو بنایا پھر اس طرح کے حالات بھی بنادیئے کہ کوئی ڈاکو بن گیا، کوئی زانی بن گیا، کوئی قاتل بن گیا، عورتیں اپنی عزتیں لٹنے سے بچا نہیں سکیں، بچے اپنی حسرتوں کو اپنے دل میں لئے موت کا شکار ہوگئے۔ کیسے خالق ہو تم؟ تخلیق کے اس عمل میں تم نے کسی کی رائے نہیں لی، کسی سے نہیں پوچھا خود ہی تخلیق کی، خود ہی کردار بنائے۔ نہیں اچھا بنایا بُرا بنایا۔
ان کے ہاتھوں سے، ذہنوں سے، جسموں سے ایسے کام کرائے جن پر ان کا کوئی اختیار بھی نہیں تھا پھر اب تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں بھی موقع دیا جائے۔ کیا خواہش ہے تمہاری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”چیف جسٹس نے غصے بھری آنکھوں سے مجھے دیکھا، “ مگر میں تم کو بھی موقع دوں گا بولنے کا، موقع ملے گا تمہیں مگر آخر میں۔ گواہوں کے بیانات کے بعد۔ ”نہ چاہتے ہوئے بھی میرے لبوں پر مسکراہٹ کوند آئی۔ میں نے اسے ایسا ہی بنایا تھا، انصاف پرست با اصول۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


