کامیاب تخلیق کار کی موت کا منظر


 میرے بنائے ہوئے کردار مکمل تھے بغیر کسی خامی کے۔ دنیا میری کردار نگاری کی غلط تعریف و توصیف تو نہیں کرتی ہے۔ میں یہ سوچ کر دل ہی دل میں خوش ہوا۔ دوسرا گواہ میرے ایک مختصر افسانہ“ اور ستارے ٹوٹیں گے ”کا مرکزی کردار تھا۔ یہ میرا خوبصورت سا رومانی افسانہ تھا جس میں ریڈیو پاکستان کی کینٹین میں کام کرنے والے لڑکے کو ریڈیو پاکستان میں ہی غزلیں گانے والی ایک لڑکی سے شدید عشق ہوجاتا ہے، جو اس سے دوگنی عمر کی ہوتی ہے۔

 اس کی معصوم محبت کا جب گانے والی اقرار کر لیتی ہے تو یہ لڑکا کینٹ اسٹیشن میں پٹری کے کنارے چارپائی پر لیٹا، آسمان پر تارے ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے دیکھتا ہے اور ساتھ ہی اسے خبر ملتی ہے کہ اس کی ماں ہزارہ میں یکایک مر گئی ہے۔ وہ ہزارہ جا کر واپس نہیں آ پاتا ہے مگر ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والی غزل میں اس کا رومانس پلتا بڑھتا رہتا ہے اور ایک دن اس غزل گائیک کو کسی کے ساتھ دیکھ کر وہ شدید افسردگی کا شکار ہوجاتا ہے۔

 یہ ایک تجرباتی افسانہ تھا جس میں، میں نے کرداروں کے جذبات اُتار چڑھاؤ اور ان کی زندگی کے تضادات کو ایک خاص پیک پر پہنچا کر یکایک افسانہ ختم کردیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں نے پڑھنے والوں کو ایک طرح صدمہ پہنچایا اور انہیں افسردہ کرنے کے ساتھ ساتھ غصہ بھی دلایا تھا۔ میرا اور میرے تنقید نگاروں کاخیال تھاکہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ہوں۔ “ اور ستارے ٹوٹیں گے ”کے کردار نے کھڑے ہوکراپنی رندھی ہوئی آواز میں روتے ہوئے صرف یہ کہا کہ بڑا ظلم ہوا ہے میرے اوپر، میری زندگی تتربتر کردی گئی اور مجھے ایسا تماشا بنایا گیا کہ میں خود اپنے تماشے کو سمجھ بھی نہیں سکا ایک ڈرامے کا کردار تو بنا مگر اس ڈرامے میں میرا مقصد کیا تھا مجھے خود بھی پتا نہیں چلا۔

مجھے کوئی ہمدردی نہیں ہے، اس آدمی سے۔ اس کی اُداس آنکھوں کو دیکھ کر میں بھی اُداس ہوگیا تھا۔ اسلم میرے ایک اورناول“ پٹری چمک رہی تھی ”کا ہیرو تھا جس کی زندگی ریلوے میں انجن ڈرائیورسے شروع ہوئی تھی۔ اس نے ریلوے میں مزدوروں کی یونین بنائی پھر آہستہ آہستہ ملک میں مزدوروں کا سب سے بڑا لیڈر بن گیا۔ اس نے تمام زندگی قربانیاں دی تھیں۔ اس کی بیوی چھٹے بچے کی پیدائش پر مر گئی۔ اس کا کوئی بچہ سوائے سب سے چھوٹے کے تعلیم حاصل نہیں کرسکا۔

اس کی دو بیٹیاں شادی کے بغیر رہ گئی تھیں۔ اس نے ملک میں ہڑتالیں کرائی تھیں، مزدوروں کی تنخواہیں بڑھوائی تھیں۔ ساری زندگی وہ حکومت، سیاسی جماعتوں، سرمایہ داروں اورمزدوروں کے دشمنوں سے لڑتا رہا تاکہ ملک کے عوام کو جمہوری حقوق، انسانی حقوق مل سکیں۔ اس نے ملک بھر میں کسانوں کے چھوٹے چھوٹے لیڈروں کو منظم ہونے میں مدد دی۔ جب کسانوں اور مزدوروں نے مل کر جمہوری راستے سے حکومت بدل دی تو حکومت کے بدلتے ہی اس کی مدد سے بننے والے وزیراعظم نے اسے پٹری پر مال گاڑی کے سامنے پھنکوا دیا۔

اس کے پیر کٹ گئے تھے پھر وہ سسک سسک کر مرگیا تھا۔ یہ ایک عام سی کہانی تھی جو تیسری دنیا کے ملکوں میں عام طورپر بار باردُہرائی جاتی ہے۔ مگر اس ناول پر میں نے بڑی محنت کی تھی۔ مزدوروں کے مسائل، ان کے اندر کی سازش، مذہب کا استعمال اور سیٹھوں اور حکومت کا گٹھ جوڑ۔ پولیس، فوج اورعدالتوں کا عوام دشمن کردار، غریب اورمحنتی لوگوں کی زندگی کے مسائل، سماجی کشمکش، غربت اورامارت کے تضادات، انسان کے اندر کے شیطان اورانسان کے ہی اندر کی ازلی سچائی کی تلاش والی لگن سے پیدا ہونے والی صورتحال کے گرد گھومنے والی کہانی کا انجام تو بہت افسوسناک ہوتا ہے۔

مگر ناول کا آخری تاثر یہ ہوتا ہے کہ دنیا کو بدلنا ہوگا۔ اس ناول کے سارے کردار ایک جتھے کی صورت میں ججوں کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ رفیق کمانڈر نے کٹے ہوئے پیروں کے ساتھ کامریڈ منصور کوا پنے کاندھے پر اٹھایا ہوا تھا۔ منصور نے ججوں کو مخاطب کرکے کہا کہ جنابِ عالی! ہم لوگوں نے اپنی علیحدہ میٹنگ کی ہے اور ہم سب کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ جس دنیا کو ہمارے تخلیق کار نے ہمارے جیسے کرداروں کے لئے تخلیق کیا اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

جتنی عزت سماج میں دی گئی جتنا مجھے عوام میں درجہ دیا گیا اس سے میری انا کی تسکین تو ہوئی میں ضمیر کے مردہ گھوڑے پر سوار ہوکر فراٹے بھرتا رہا۔ مگر اندر میرے دل کے اندر جو گہرا کنواں بنایا گیا اس نے مجھے بے چین رکھا۔ میں اپنی بیوی، اپنی بیٹی اور اپنے جاہل بچوں کو کچھ نہ دے سکا۔ پھر ان لوگوں کے ہاتھوں میرے خون سے ریل کی پٹریوں کو مہندی لگادی گئی جو اس سماج میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔

آنے والی دنیا میں مزدوروں کو جتنے بھی بونس ملے تعلیم ملے، ان کے بچوں کی شادیاں ہوئیں، ان کی بیویاں دادیاں نانیاں بنیں، ان کی وجہ سے ہمارے دکھ تو ختم نہیں ہوئے۔ آخر ہمارا وجود ضروری کیوں تھا، کیوں تھا، کیوں تھا؟ اس جرم کی سزا معمولی نہیں ہونی چاہیے۔ تھوڑی سی دیر کے لئے ہال میں سناٹا ہوگیا تھا اور ساتھ ہی سارے مزدور نعرے لگاتے ہوئے منصور کے کٹے ہوئے جسم کو اٹھا کر ہال میں مارچ کرنے لگے تھے۔ اس کے جسم سے خون اُبل اُبل کر زمین پرگر رہا تھا۔

تینوں جج کھڑے ہوگئے اورتیز آواز سے حکم دیا کہ ہال میں فوری طور پر امن و امان بحال کیا جائے۔ آہستہ آہستہ لوگ خاموش ہوگئے تو میں نے دیکھا کہ ہال کے درمیان سے میرے ایک افسانے“ ایک روپے کا پان ”کی مرکزی کردار اُٹھ کر آگے آرہی ہے۔ افسانے میں وہ ایک ایسی لڑکی ہوتی ہے جو ضرورت کے تحت اپنے شوہر کی مرضی سے جسم فروشی کرتی ہے تاکہ زندگی کا کاروبار چلاسکے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، میں نے کھڑے ہو کر ججوں سے مخاطب ہوکر کہا، “ جنابِ عالی میرے سارے کرداروں کے بولنے سے پہلے تھوڑا سا موقع مجھے دیاجائے کہ میں بھی اپنی بات کہوں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6