حنائے قناعت اور زرِ نابِ سلیم


اسی زمانے میں سلیم صاحب نے مجھے کہا کہ تم انگریزی میں سائنس فکشن پڑھا کرو اور پھر خود ایک ناول لاکے بھی دیا کہ اس سے شروع کرو۔ میں کئی دن اتراتا پھرا کہ سلیم صاحب نے مجھے ناول پڑھنے کے لیے دیا ہے۔ مگر بڑی خرابی اس وقت ہوئی جب ایک روز پاک ٹی ہاؤس لاہور میں وہ ناول کسی اور نے مجھ سے اچک لیا۔ مارے شرمندگی کے میں کئی ہفتوں تک سلیم صاحب سے صرف اس لیے نہیں ملا کہ وہ پوچھیں گے کہ کتنا پڑھا تو میں کوئی جواب نہ دے پاؤں گا۔ آخر ایک روز سرجھکائے ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو جھکتے جھکتے کہہ سنائی کہ آپ کا دیا وہ ناول مجھ سے کہیں کھو گیا ہے مگر انہوں نے کمال مہربانی سے کچھ ایسا ظاہر کیا کہ جیسے کوئی بات ہی نہیں۔ بولے کہ ”کوئی بات نہیں وہ تو میں آپ کو دینے کے لیے ہی لایا تھا“ اور بات ختم۔ پھر ایسا ہی ایک معاملہ محمد خالد اختر کے ترجمہ و تلخیص کردہ ”ابن جبیر کا سفر نامہ“ کے ساتھ ہوا۔ اب صحیح یاد نہیں کہ یہ کتاب مجھے صلاح الدین محمود نے تحفتاً دی تھی یا سلیم صاحب نے۔ بہرحال اس کا مقدر بھی سائینس فکشن ناول والا ہی ہوا اور یہ بھی مجھ سے کہیں کھو گئی۔

یہ اسی زمانے کی بات ہے کہ میں پورے ہفتے جمعرات کا انتظار کیا کرتا کیونکہ اس روز سلیم صاحب سے ملاقات ہونا ہوتی تھی۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب وہ اورینٹل کالج سے نکلتے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیتا۔ پنجاب یونیورسٹی کے سامنے سے ویگن پر بیٹھے ”کوآپرا“ پر معروف انگریزی کالم نگار خالد احمد سے ملتے ہوئے ریگل چوک سے ٹیمپل روڈ پر پہنچ گئیے۔ یہاں ”بک مارک“ کے نام سے شمس صاحب کا اشاعتی ادارہ تھا۔ سلیم صاحب جہاں بھی ہوتے لاہور کا ہر معقول اشاعتی ادارہ انہیں اپنا مشیر بنا کر فخر محسوس کرتا تھا۔ اپنے کلاسیکی ذوق اور مزاج کی وجہ سے سلیم صاحب کا ذہن ایک طرف یونانی و رومی اور مغربی ادب کے مہم ادبی کتب کا بحر ذخار ہے تو دوسری طرف اردو فارسی کی کلاسیکی داستانیں اور طلسم نگاریاں ان کے تخیل پر راج کرتی ہے ہیں۔ ”جہاں گرد کی واپسی“ سے لے کر یونانی ادب کے مشاہیر تک اور ادھر چیخوف کے ڈراموں اور جرمن ادب کے خزانوں سے لے کر جوزف کانریڈ کی معیت میں تاریک افریقہ کے قلب ظلمات تک کا کوئی کونا کھدرا ایسا نہیں ہے جو سلیم الرحمن کا دیکھا بھالا نہ ہو۔ ایسا آدمی اگر اشاعت گھروں کا مشیر ہو تو یہ ان اداروں کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ بک مارک تو پھر ان کا اپنا ادارہ تھا۔ دیگر بہت سی اردو کتابوں کے علاوہ اس ادارے نے سلیم صاحب کا کیا ہوا رباعیات سرمد کا اردو ترجمہ مع مقدمۂ ابوالکلام آزاد بر سرمد بھی شائع کیا تھا۔ شمس صاحب سلیم صاحب کے بہنوئی تھے۔ وہیں سلیم صاحب کے بھانجے عمران سے بھی ملاقات ہوا کرتی۔ یہ وہی عمران صاحب ہیں جن کا موبائیل فون آج بھی میرے لیے سلیم صاحب سے رابطے کا ذریعہ ہوتا ہے وہ اس واسطے کہ سلیم صاحب نے خود تو موبائیل فون کا جھنجھٹ کبھی پالا ہی نہیں۔ دوپہر کے دو اڑھائی گھنٹے بک مارک پر گزارے جاتے جہاں ”سویرا“ والے چوہدری ریاض احمد بھی آجاتے اور کبھی کبھار محمود گیلانی بھی۔ شمس صاحب سموسوں اور چائیے کے ساتھ تواضع کرتے۔ بک مارک والی ان نشستوں میں میں راقم کو بھی شرکت کا موقع ملتا رہا۔

1995 سے 09۔ 2008 تک میں کا عرصہ میں لاہور سے باہر رہا۔ اس دوران سلیم صاحب سے بہت کم ملاقاتاتیں ہوئیں۔ کبھی کبھار خط سے رابطہ ہو جاتا تھا ورنہ انہیں فون کرنے میں تو میں جھجک کا شکار رہتا تھا۔ ایک تو یہ کہ سالہا سال کے بعد فون کرنے میں ویسے ہی کچھ ہچکچاہٹ محسوس ہوتی دوسرے یہ کہ فون کال کے ابتدائی دو چار منٹ اور جملوں کے دوران مجھے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے سلیم صاحب کی طرف سے کچھ شناسائی کی فضا نہیں بن پا رہی۔ جیسے درمیان میں کوئی اجنبیت کی دیوار سی ہے۔ ایک تو فون پر سلیم صاحب ویسے ہی بہت دھیمے بولتے ہیں اور پھر کم گفتاری کچھ ایسی کہ یوں لگتا جیسے سرگوشی کر رہے ہوں یا فون کال سے ان کے مشاغل یا آرام میں خلل اندازی ہوئی ہو۔ مثلا جب انہیں فون کرتا اور بتاتا کہ میں فلاں بول رہا ہوں تو آگے سے سپاٹ سی آواز آتی

”جی اچھا“، پھر خاموشی کا اک وقفہ جس سے میں اٹ پٹاپن محسوس کرتا۔ اصل بات پر آنے سے پہلے کچھ رسمی سے کلمات کا تبادلہ کرنے کے لیے پوچھتا

”جناب آپ کی صحت کیسی ہے؟ “

جواب آتا

”ٹھیک ہے“

”کیا مشاغل ہیں قبلہ آج کل؟ “

”کوئی خاص نہیں“، جواب آتا اور پھر لمبی خاموشی۔

اور میں پھر جلدی سے کام کی بات پوچھ یا بتا کر الوداعی سلام کہتا اور جواباً وعلیکم السلام کے ساتھ ہی فون بند! ہاں، خط کا جواب وہ ضرور دیا کرتے تھے مگر وہ بھی نپے تلے لفظوں میں۔ لیکن مستفسرہ بات کا جواب وہ پورا دیتے نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ! اس کم سخنی سے میرا دل بہرحال بوجھل ہو جاتا۔

خدا کا کرنا یہ ہوا کہ 2008 میں ایک دفعہ پھر میرا لاہور جانا نکل آیا۔ اپنے پچھلے دورِ لاہور میں میں نے سات سال ادارہ ثقافت اسلامیہ میں گزارے تھے اور تین ساڑھے تین سال کا عرصہ سول سیکریٹیریٹ لاہور میں۔ مگر دوسرے دورِ ورود میں سارا عرصہ اورینٹل کالج میں رہا۔ پچھلے دور میں بھی اورینٹل کالج جانا اکثر ہوا کرتا تھا لیکن صرف ڈاکٹر تحسین فراقی یا ڈاکٹر سہیل احمد خان سے ملنے کی غرض سے۔ مگر اب کے میں اورینٹل کالج میں بطور مدرس گیا تھا۔ یہ بھی قدرت کا ایک عجیب بندوبست تھا کہ میں جس ادارے یعنی اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں بطور طالب علم پڑھنے کی آرزو کیا کرتا تھا اور نہ پڑھ سکا تھا اسی اورینٹل کالج میں اب میں ایک پڑھانے والے کے طور پہ گیا تھا جس کی تدبیر سازی میں بہت بڑا ہاتھ میرے محترم اور مشفق دوست ڈاکٹر تحسین فراقی کا تھا۔

اس دورِ لاہور کی اہم یادوں میں بھی بڑی یاد یہ ہے سلیم صاحب سے ملاقاتوں کا ٹوٹا ہوا سلسلہ جڑ گیا۔ اب میں اورینٹل کالج میں تھا مگر جمعرات کی جمعرات سلیم صاحب کے وہاں آنے کا سلسلہ موقوف ہوچکا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ سہیل احمد خان کا انتقال ہو چکا تھا۔ ویسے بھی جاپان سے واپسی کے بعد سہیل صاحب اورینٹل کالج میں زیادہ عرصہ نہیں رکے تھے۔ وہاں سے وہ جی سی یونیورسٹی میں چلے گئے تھے۔ اس دوران میں لاہور بہت کم ہی گیا مگر جب بھی گیا جی سی میں سہیل صاحب سے ملنے ضرور جاتا۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں جب میں نے محمد حسن عسکری پر اپنے کام کا ابتدائی حصہ انہیں دکھایا تو بس ایک ہی جملہ کہہ کر انہوں نے مجھے نہال کردیا: ”عسکری کی شخصی زندگی اور ذہنی ارتقا کا اتنا بھرپور اتنا مفصل اور جامع تذکرہ اب تک نہیں لکھا گیا“۔ سہیل صاحب سے ان کبھی کبھار کی ملاقاتوں میں میں نے سلیم صاحب کو کم ہی دیکھا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ جن دنوں میں میرا لاہور جانا ہوتا وہ شاید سلیم صاحب کے شہر میں آنے کے دن نہ ہوتے ہوں گے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7