حنائے قناعت اور زرِ نابِ سلیم
لاہور میں ریڈنگز نامی ادارہ بھی اپنے انداز کا واحد ادارہ ہے۔ اس کے کرتا دھرتا ڈاکٹر انوار ناصر ہیں مگر سچ پوچھئیے تو یہ محمد سلیم الرحمن کا ”دماغ بچہ“ ہے۔ ڈاکٹر انوار ناصر کے سرمائے و محنت اور سلیم صاحب کی دماغی کاوشوں نے مل کر گلبرگ میں اپنے انداز کا یہ واحد کتاب گھر کا قائم کیا ہے جس میں دنیا کا بہترین انگریزی ادب نہایت مناسب داموں دستیاب رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کتاب گھر کو لاہور کے ادیبوں کی ایک مستقل بیٹھک ہونے کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ کتابیں خریدنا تو ایک بہانہ ہے اصل میں ادیب لوگ یہاں ایک بہترین ادبی ماحول میں گپ بازی کرنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ جہاں کتابیں ہوں ادیبوں کی گپ بازی کو بہترین ٹھکانا ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ چائے کے بنا وہاں زیادہ دیر تک ٹکا کریں۔ ڈاکٹر انوار ناصر نے ادیبوں کا دل لگائیے رکھنے کے لیے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ کتابوں کے بڑے بڑے شیلفوں سے ایک گوشہ بچا کر وہاں بیٹھنے کو میز کرسیاں اور گرمئی محفل کو بڑھاوا دینے کے لیے فنجان اور سما وار سجا کر اپنے کتاب گھر کو
ویراں شود آں شہر کہ میخانہ ندارد
کی بد دعا سے بچا لیا ہے۔
اب اگر کتابیں دیکھتے دیکھتے کوئی تھک جائیے اور چاہے کہ دم کے دم سستا لے تو وہ کتاب ہاتھ میں پکڑے اس مے خانے کی طرف آجاتا ہے اور چائے کی چسکیوں کے ساتھ کتاب کی ورق گردانی کرتا رہتا ہے۔ ہاں یہ ذہن میں رہے کہ یہاں کتاب کا پڑھنا تو شاید مفت میں مل جائیے مگر چائے کے لیے کیسہ ہلکا کرنا ضروری ہے۔ کاؤنٹر پہ رکھی ٹوکری میں پیسے ڈالے سماوار سے گرم پانی پیالی میں انڈیلے اس میں پتی کی تھیلی ڈالے اور بقدر ضرورت خشک دودھ لے اور اپنی کٹوری اٹھا کر میز پر آ بیٹھے۔ ڈاکٹر انوار اور اور سلیم صاحب کے اس بندوبستی نظام نے تھوڑے ہی عرصے میں ریڈنگز کتاب گھر کو لاھور شہر کا ایک بہترین ادب گڑھ بنا دیا ہے۔ ریڈنگ کتاب گھر کی یہ شہرت صرف لاہور اس کے بیرون جات یا اندرون ملک میں ہی نہیں بلکہ اب تو اس کی یہ شہرت اکناف عالم میں پھیل چکی ہے۔ ہندوستان سے لاھور آنے والا ہر ادیب جب تک ریٹنگز کے دو چار چکر نہ لگا لے وہ اپنا دورۂ لاہور ادھورا گردانتا ہے۔ یہاں مجھے بھی ایک دو دفعہ شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی کے ساتھ کچھ بہترین لمحات گزارنے کا موقع ملا ہے۔ بلکہ شمس الرحمن فاروقی کے ساتھ تو ایک دفعہ برادرم محمود الحسن نے ایک طویل انٹرویو کا اہتمام بھی یہیں کیا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ وہ انٹرویو اسی زمانے میں کسی اخبار میں انہوں نے شائع بھی کروا دیا تھا۔
2010 کے آخر میں جب لاہور مجھے دوبارہ چھوڑنا پڑ رہا تھا تو سلیم صاحب کے ساتھ ایک دو نشستیں اس کتاب گھر میں بھی ہوئیں تھیں۔ اس کی سبیل یوں بنی کہ ان دنوں جب میں عسکری پر اپنا مقالہ مجلس ترقی ادب، لاہور سے شائیع کروانے کے لیے اس وقت مجلس کے ڈائیریکٹر شہزاد احمد کی ناز برداریاں کر کر کے ان کے روئیے سے سخت بدمزہ ہورہا تھا تو سلیم صاحب نے ہی مجھے مشورہ دیا کہ مجلس کے چکر میں پڑنے کے بجائیے اپنا مقالہ ریڈنگز کو دو۔ انوار ناصر اس کو نہ صرف شائیع کریں گے بلکہ شایان شان سبیل سے اس کا معاوضہ بھی ادا کریں گے۔ سلیم صاحب ریڈنگز کے لیے نہ صرف باہر سے درآمد کرنے کے لیے کتابوں کا انتخاب کرتے تھے بلکہ اس ادارے نے اشاعتِ کتب کا کا جو کاروبار شروع کیا اس کے بھی مرکزی صلاح کار وہی تھے۔ اسی حیثیت میں انھوں نے ریڈنگز سے میرے مقالے کی اشاعت کی سفارش کی تھی۔ مگر پھر مجھے جب اچانک لاہور چھوڑ اسلام آباد آنا پڑا اور ڈاکٹر انوار ناصر بھی ادارے کے کچھ انتظامی معاملات اور کچھ مالی مجبوریوں میں الجھ گئیے تو مقالہ اشاعت کی یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تھی۔ گمان ہے کہ محمود گیلانی مرحوم کے بعد جب میاں چمبر والی بیٹھک بھی اجڑ گئی تو آج کل سلیم صاحب کا اگلا ٹھکانہ یہی ریڈنگ کتاب گھر ہے۔
یوں تو سلیم صاحب خاموش طبع آدمی ہیں۔ میرا ان کے ساتھ جو تھوڑا سا وقت گزرا اس میں میں نے انہیں کبھی قہقہہ لگا کر ہستے نہیں دیکھا۔ لیکن ایسا نہیں کہ انہیں ہنستے مسکرانے سے کوئی پرہیز ہے۔ چٹکلوں اور مزاح کی بات سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ پرانے ہم عمر ساتھیوں میں تو وہ لطیفے سنانے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے مگر ان کی مزاج کی ثقاہت لطیفہ بھی اپنے ہی معیار کا پسند کرتی تھی۔ 94۔ 1993 والی نشستوں ہی کی بات ہے کہ سلیم صاحب ایک دفعہ اورینٹل کالج کے شعبہ تصنیف و تالیف میں سہیل صاحب کے پاس آئے ہوئے تھے۔ انہی دنوں انہوں نے کسی انگریزی کتاب یا رسالے میں کوئی تازہ تازہ لطیفہ پڑھا تھا۔ لطیفہ اتنا زوردار تھا کہ وہ سنائیے بغیر رہ نہ سکے۔ کہا کہ ایک انگریز کی بیوی فوت ہو گئی۔ دوست احباب تعزیت کے لیے آتے مرحومہ کے سگھڑاپے کی تعریف میں کچھ نہ کچھ کہتے۔ جواباً یہ بھی اس کی یاد میں کچھ نہ کچھ بولتے۔ ایک موقع پر انہوں نے سرد آہ بھرتے ہوئیے کہا ”کیا بتاؤں کہ میرے لیے وہ کیا حیثیت رکھتی تھی:
When she was alive she was my right hand۔ Now after she is gone my right hand is my wife ”!
اپنے آپ میں ہی سمٹے سمٹائیے رہنے والے محمد سلیم الرحمن کی زبانی یہ چٹکلا سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی تھی اور اچھا بھی لگا تھا۔ خواہش ہی رہی کہ وہ بعد میں بھی کسی موقعے پہ کوئی لطیفہ سناتے مگر وہی بات کہ اب ان کے گرد و پیش جو لوگ تھے ان میں ان کے ہم عمر کم ہی رہ گئیے تھے۔ نو عمروں میں آدمی اس طرح کی بے تکلفی سے عموماً پرہیز ہی کرتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


