حنائے قناعت اور زرِ نابِ سلیم
بہرکیف اورینٹل کالج میں بطور مدرس جانے کے بعد سلیم صاحب سے ملاقاتوں کا ٹھکانا ایک اور جگہ ہوگیا۔ ٹیمپل روڈ پر ہی میاں چیمبر میں محمود گیلانی کا ایک اشاعتی ادارہ تھا۔ یارِ لبیب ضیاءالحسن سے معلوم ہوا کہ سلیم صاحب آج کل پیر کے روز مغرب کے بعد وہاں آتے ہیں۔ تو بس پھر کیا چاہیے تھا میں بھی وہاں پہنچ جاتا۔ یہ ٹھیہ محمود گیلانی کی عملداری میں تھا اور انہی کی میزبانی میں چلتا تھا۔ اس ٹھیے پر سلیم صاحب سے ملاقاتوں کا بارہ تیرہ برس کا ٹوٹا ہوا پرانا سلسلہ پھر جڑ گیا۔ اس دفعہ ان ملاقاتوں کا انداز مزاج اور ماحول میں بہت کچھ بدلا ہوا تھا سوائے چائے کے ساتھ سموسوں کی ضیافت کے۔ اور یہ کہ شمس صاحب کی جگہ اب میزبان محمود گیلانی تھے۔ محمود گیلانی جنہیں اب مرحوم لکھتے ہوئیے دکھ ہوتا ہے کلاسیکی موسیقی کے دھنی بھی تھے اور گُنی بھی۔ سلیم صاحب کی علمی اور ادبی باتوں کے ساتھ ساتھ اب گیلانی صاحب سے راگ داری کی بہت سی باتیں معلوم ہوا کرتی تھیں۔ اوپر میں نے اس مجلس کے مزاج اور ماحول میں تبدیلی کی جو بات کی ہے تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ اب سلیم صاحب کے اگلے وقتوں کے وہ پرانے ہم رتبہ ہم نشین رفتہ رفتہ کچھ مرحوم ہو چکے تھے اور کچھ کے ساتھ محفل داریاں ختم ہو گئی تھیں۔ لہذا اب سلیم صاحب کے گردوپیش منڈلانے والوں میں نوخیز ادیبوں، یونیورسٹیوں کے نوعمر طلبا، مجھ ایسے محبت کاروں اور بِرنا عقیدت مندوں کی تعداد زیادہ تھی اور سلیم صاحب بھی ان پر بہت شفقت کیا کرتے تھے۔ وہاں کے حاضر باشوں میں شاعر ادیب بھی ہوتے اور موسیقی سے ربط رکھنے اور گانے بجانے والے بھی۔ سلیم صاحب کی محبت میں یہ سب لوگ محمود گیلانی کے اڈے پر کھنچے چلے آتے تھے۔ سلیم صاحب اپنی اسی ہمیشہ والی وضع کے ساتھ اپنے ایک مخصوص صوفے پر پراجمان ہوتے۔ تازہ پالش سے چمچماتے بوٹ، کالر والی استری شدہ قمیض اور کریز دار سفید پاجامہ جو ان کا قدیم الایام سے پہنا ہوا تھا وہ اب بھی اسی طرح تھا۔ کلین شیو گول روشن چہرہ، آنکھوں پر موٹے موٹے گول شیشوں کی عینک جس کے پیچھے سے جھانکتی تیز آنکھیں۔ بغل میں کاغذ یا پلاسٹک کا ایک لفافہ جس میں اخبارات کے کچھ تراشے کچھ خطوط یا کوئی کتاب ہوتی۔ کتاب یا کوئی تحریر پڑھنے کا انداز بھی وہی پرانا کہ کتاب آنکھوں کے اتنا قریب لاکر کر پڑھا کرتے تھے کہ پہلی دفعہ میں دیکھنے والے کو حیرت ہوتی کہ اتنا قریب سے بھلا کوئی آدمی کیسے حروف بینی کر سکتا ہے۔
ان کے گردا گرد کرسیوں پر ان کے خورد سال محبت کرنے والے طلبا اور جواں سال شاعر و افسانہ نگار بیٹھے ہوتے۔ ان میں مستقل کا حاضر باش راؤ محمد اقبال بھی ہے جس نے اپنے استاد سہیل احمد خان اور مربی سلیم الرحمن کی محبت میں اپنا اصل نام تک بھلا دیا اور دونوں ناموں کو ملا کر اپنی مستقل شناخت ”سلیم سہیل“ کے نام سے بنا لی ہے۔ یہاں احمد عطا بھی بیٹھتا ہے اور شاہد بلال بھی (یہ دونوں ہونہاربروے اورینٹل کالج میں میرے پہلے بیج کے نمایاں طلباء میں سے ہیں۔ آج آٹھ نو سال کے بعد تو یہ دونوں مشاعرہ باز و مشاعرہ پھاڑ قسم کے شاعر بن چکے ہیں مگر اس وقت بھی یہ اپنے ہم عمروں میں بہت نمایاں صلاحیتوں کے لوگ تھے۔ شاہد بلال تو بعد میں اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد میں بھی ایم فل میں میرا شاگرد رہا ہے۔ انتہائی باصلاحیت و خوش ذوق شعری مزاج رکھنے کے باوجود اپنی نہاد کے تلوّن کے سبب نے یہ جم کر کچھ کر نہیں پاتا جس کا افسوس رہتا ہے )۔ نجم سیٹھی کا گلوکار بیٹا علی سیٹھی بھی اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں سلیم صاحب کے پاس آیا کرتا ہے۔ انہی دنوں میں سنا تھا کہ اس نوجوان کا کوئی انگریزی ناول بھی آیا چاہتا ہے۔ یہاں سلیم صاحب کی سب سے کھلی گپ چلتی تھی۔ کم گو تو وہ ہمیشہ سے تھے مگر اب اجنبیوں میں ویسے لیے دیے نہیں رہتے تھے۔ اب یہ وہ پہلے والے سلیم الرحمن نہیں لگتے تھے جن کے علمی ”رعب“ کے سبب میں کبھی سہیل صاحب کے پاس بیٹھ کر خاموشی سے ان کی باتیں سنا کرتا تھا۔ کچھ ایسی طمطراق والی شخصیت تو وہ کبھی بھی نہ تھے مگر وضع داری اور اپنے رکھ رکھاؤ والے سبھاؤ کے سبب ان کا مخاطب ان سے بے تکلف ہونے میں میں ایک جھجھک سی محسوس کرتا تھا۔ مگر اب ان لونڈے لپاڑوں میں وہ بالکل انہی کی طرح بن جاتے۔ کھل کے ہنستے کھل کے بولتے تھے۔ ان کا یوں ہنسنا بولنا اور خودوں کے ساتھ برابر والوں کی سی بے تکلفی برتنا، لاریب، اس نسل کے لوگوں کے لیے بہت بڑی سعادت تھی۔ اپنے زمانے کی اردو دنیا کا ایک بڑا جدید شاعر، افسانہ نگار، کلاسیکی داستانوں و طلسم نگاریوں کا پارکھ، عالمی کلاسیکی و جدید ادب کا ذوق شناس، صاحب اسلوب نثر نگار، بے مثل مترجم اور انگریزی اردو لغت شناسی میں منفرد مقام و رسوخ رکھنے والا لسانیات کا ماہر محمد سلیم الرحمن مستقبل کے ادب کے ان معماروں کو اگر یوں وافر طور پر میسر ہے تو کوئی بدبخت ہی ہوگا جسے اپنی قسمت پر ناز نہ ہو۔
اب سلیم صاحب ادبی مجلسوں کی سیاست اور حلقوں کے سالانہ انتخاب کے موقعوں پر بننے بگڑنے والی گروہ بندیوں اور ان کی کھینچا تانی پر بھی نوجوان لکھاریوں سے گفتگو کر لیتے اور ان کی آپسی چپقلشوں سے بھی لطف اندوز ہولیتے تھے۔ سلیم صاحب کو میں نے کبھی کسی ادبی حلقے میں جاتے وہاں مضمون افسانہ یا نظم پڑھتے دیکھا نہیں تھا مگر اس مجلس کے میزبان محمود گیلانی کہ خود افسانہ نگار بھی تھے اور مجلسی تنقید کے شہ سوار بھی حلقہ ارباب ذوق کی ادبی سیاست میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے تھے نہ صرف حصہ لیتے بلکہ اس معاملے میں وہ پورے ڈیرے دار آدمی واقع ہوئے تھے۔ یہ تو نہیں معلوم کہ انہوں نے خود کبھی حلقے کے سالانہ انتخاب میں حصہ لیا تھا مگر کسی نہ کسی حصے دار پارٹی کو با جماعت سپورٹ کرنے اور جوڑ توڑ کر کے مخالف پارٹی کے بندے ادھر ادھر سرکانے کھسکانے میں بڑا سرگرم حصہ ڈالتے تھے۔ ملکی سیاست کی طرح ادبی حلقوں کی سیاست میں بھی یہی دستور ہے عام حالات میں سب ادیب ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے مگر حلقے کے سالانہ انتخاب کا موقع جوں جوں قریب آتا دھڑے بندیاں زور پکڑتی جاتیں۔ سیاست کی یہ گرما گرمی صرف ادبی حلقوں کے جلسوں تک ہی محدود نہ رہتی تھی بلکہ نجی محفلوں کے اندر بھی اس سے پیدا ہونے والے لے کھنچاؤ کے اثرات آجاتے تھے۔ عام حالات میں ساتھ ساتھ رہنے والے بھی اس انتخابی کھینچاتانی میں لڑاکا مرغوں کی طرح پر پھیلائے اور پُھلائے رہتے تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


