مانوس اجنبی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ”آپ کون ہیں؟ “ میں نے گویا سکتے کے عالم میں کہا۔

 ”میں وہی احمق ہوں جس سے شہزادی ہار گئی تھی۔ “

 ”اچھا۔ ؟ “ میں نے کہا لیکن میرے منہ سے آواز نہ نکلی۔

 ”لیکن میں صرف شطرنج کا کھلاڑی نہیں تھا۔ میں شطرنج کو زندگی نہیں سمجھتا تھا بلکہ زندگی کو شطرنج کی بساط جانتا تھا۔ زندگی کی کتاب میرے نزدیک اصل کتاب ہے، حرارت اور گہما گہمی سے معمور۔ اگر کسی ادیب نے میرے بارے میں سوچا ہوتا تو اس کی کتاب میرے لیے قید خانے کی بجائے ایک گھر ثابت ہوتی، جس میں میں آزادی سے رہتا۔ جب چاہتا لوگوں سے ملنے باہر آتا، لوگ مجھ سے ملنے میرے پاس آتے۔ لیکن شطرنج کی یہ کتاب میرے لیے ایک سرد خانہ تھی جہاں میں حروف اور ہندسوں کی برف کے نیچے دبا ہوا تھا۔ یہ کتاب سینکڑوں لوگوں نے پڑھی ہے مگر کسی کی نگاہ مجھ پر نہ پڑی۔ اور پڑتی بھی کیسے؟ اس کے مصنف کی طرح اس کے پڑھنے والوں کو بھی صرف شطرنج سے دلچسپی تھی۔ آپ نے مجھے پتہ نہیں کیسے دیکھ لیا، یا آپ جانے یہ کتاب کیوں پڑھ رہے تھے۔ “

 ”میں ادب کا طالب علم بھی ہوں اور شطرنج کا شیدائی بھی۔ “

 ”اچھا۔ “ وہ ایسے خوش ہوتے ہوئے بولا، گویا میں اس کا شیدائی تھا۔ ”میں نے آپ کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تھا لیکن مجھے گمان بھی نہ تھا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، مگر آپ کی توجہ واقعی مجھ پر مرکوز تھی۔ پھر آپ کو احساس ہوا کہ میں ایک غلط جگہ پڑا ہوں۔ آپ مجھے دیکھتے گئے، میرے بارے میں سوچتے گئے۔ آپ کی نگاہ اور آپ کے خیال کی گرمی سے میرے اردگرد کی برف پگھلنا شروع ہو گئی۔ کچھ دیر بعد مجھے اپنے جسم میں زندگی محسوس ہوئی۔ مجھے لگا کہ میں کھڑا ہو سکتا ہوں۔ میں واقعی کھڑا ہو گیا۔ میں نے اپنے پاؤں ہلائے، میں چل سکتا تھا۔ میں چل پڑا۔ کسی دیوار، کسی دربان نے مجھے نہ روکا۔ میں کتاب سے باہر آ گیا۔ مصنف کی نیت مجھے قید کرنے کی نہ تھی۔ ایسا تو اس سے سہواً ہو گیا تھا۔ “ میں نے اپنی انگلی دانتوں میں بڑے زور سے دبائی۔ ”آپ خواب نہیں دیکھ رہے۔ میں کوئی بھوت پریت نہیں۔ آپ جیسا ایک انسان ہوں اور میں نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے اس میں ذرّہ برابر جھوٹ نہیں۔ “ اجنبی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ میں سچ مچ جاگ رہا تھا، بلکہ میں اتنا بیدار تو کبھی بھی نہ تھا۔ میں نے چاہا کہ اسے چھو کر اس کے ہونے کی مزید تصدیق کروں لیکن میں باز رہا، اس خدشے کے تحت کہ کہیں وہ و اقعی میرا واہمہ ہی نہ ہو اور میرے چھونے پر غائب ہو جائے۔ میرے ذہن میں جو بے شمار سوالات امنڈ رہے تھے ان کے جواب پھر کون دیتا؟

 ”لیکن آپ تو بہت پرانے زمانے کے باسی ہیں جبکہ یہ مصنف جس نے بقول آپ کے آپ کو قید کیا تھا، اس زمانے کا آدمی ہے۔ ابھی زندہ ہے۔ “ میں نے کہا۔

 ”وقت کبھی نہیں مرتا۔ یہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے، انسانوں کے سینوں میں، فطرت کے مظاہر میں، کتابوں میں، اپنی صحیح یا بگڑی ہوئی صورت میں۔ ہم نے حساب کتاب کی سہولت کے لیے اسے ماضی، حال اور مستقبل میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتے۔ آج ہم ایک بیج بوتے ہیں، وہ بظاہر مٹی میں غائب ہو جاتا ہے لیکن کل ایک پودے کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور تن آور درخت بن جاتا ہے۔ اسی طرح ہم حال میں جو کچھ کرتے ہیں وہ بظاہر ماضی میں گم ہو جاتا ہے لیکن مستقبل میں سامنے آتا ہے اور پھر ماضی میں چلا جاتا ہے۔ اس طرح ماضی بار بار نمودار ہوتا رہتا ہے، البتہ ہر بار نئی صورت میں، اسی لیے ہمیں یہ گمان گزرتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ گویا ماضی میں جو کچھ ہے وہ مستقبل میں ظاہر ہو گا اور جو کچھ مستقبل میں ہو گا وہ ماضی میں موجو ہے۔ ازل سے ابد تک زمانہ ایک ہی ہے۔ ہم اس کی مختلف صورتوں اور خصوصیتوں کی وجہ سے اسے مختلف ادوار میں بانٹ دیتے ہیں۔ گویا سب انسان ہم عصر ہیں۔ ایک زمانے کے لوگ دوسرے زمانے کے لوگوں سے ہم کلام ہوتے ہیں، ان کو خوشیاں دیتے ہیں، غم بھی دے سکتے ہیں ؛ ان کی راہنمائی کرتے ہیں، بھٹکا بھی دیتے ہیں۔ مگر آپ توجہ نہیں دے رہے میری بات پر۔ آپ کا دھیان کہیں اور ہے۔ “

 ”میں ہمہ تن گوش ہوں۔ البتہ میرے دھیان میں اپنے مرحوم والد کی کچھ باتیں اور شعر آ رہے تھے۔ “

 ”آپ کے والد شاعر تھے؟ “

 ”جی ہاں، ناصر کاظمی ان کا نام ہے۔ وہ شطرنج کے ایک اعلیٰ کھلاڑی بھی تھے۔ یہ انہوں نے مجھے سکھائی تھی۔ “

 ”اچھا۔ “ اس نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔ ”کون سے شعر ہیں جو آپ کو یاد آئے اس وقت؟ شاعری مجھے بھی بہت پسند ہے۔ “

 ”ان کی نظم ’ارض وطن‘ کا آخری بند۔ اتفاق سے یہ ان کی زندگی کے آخری سال میں لکھی گئی تھی۔ اس میں ارض وطن سے خطاب کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں :

میں تیرے لیے پھر آؤں گا

ہر عہد میں تیری نسلوں کو

خوشیوں کے گیت سناؤں گا ”

 ”واہ، خوب۔ میں یہی تو کہہ رہا ہوں۔ کمال ہے، عجیب اتفاق ہے۔ “

 ”میرا خیال تھا کہ یہ مصرعے فلسفہ آواگون کے زیر اثر لکھے گئے ہیں۔ یعنی ایک آدمی کئی کئی جنم لیتا ہے۔ “ میں نے کہا۔

 ”نہیں نہیں۔ “ اس نے کہا۔ ”جنم ایک ہی ہوتا ہے۔ وہی آدمی بار بار سامنے آتا ہے۔ خوب، کچھ اور کلام سناؤ ان کا۔ “

مجھے پاپا کی شاعری اتنی پسند ہے کہ میں ان کے سارے کلام کا حافظ ہوں۔ لہٰذا مجھے جب بھی ان کے شعر سنانے کے لیے کہا جاتا ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا سناؤں، کہاں سے سناؤں۔ مگر اس وقت مجھے اس نووارد کے حسب حال کچھ شعر یاد آ رہے تھے۔ میں رواں ہو گیا:

 ”خوشبوؤں کی اداس شہزادی

رات مجھ کو ملی درختوں میں ”

وہ اچھل پڑا، پھر ساکن ہو گیا اور ٹھنڈی سانس بھر کے بولا۔ ”وہ واقعی ایک اداس شہزادی تھی۔ “ اور پھر میری طرف فرمائشی نظروں سے دیکھنے لگا۔

 ”یاد کے بے نشاں جزیروں سے

تیری آواز آ رہی ہے ابھی

نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصر

دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی

نہ چھیڑ اے خلش درد بار بار مجھے

چھپائے بیٹھا ہوں سینے میں ایک عمر کے راز

لیکن جناب میں تو آپ کو تنگ کروں گا۔ آپ کو اپنے راز بتانے ہوں گے۔ آپ مجھے انکار نہیں کر سکتے۔ میں بقول آپ کے آپ کا محسن ہوں۔ ”وہ سوچ میں گم ہو گیا۔ غالباً اپنے خیالات کو ترتیب دے رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •