مانوس اجنبی
”نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ “ میں نے اسے چھونے سے احتراز کرتے ہوئے جھوٹ بولا۔ ”میں تو کل سے تمہارے ہی بارے میں سوچ رہا ہوں۔ “ یہ بات سچ تھی۔ ”ویسے مجھے یہ توقع ہرگز نہ تھی کہ تم دوبارہ بھی آؤ گے، اگرچہ تم سے کرنے کی بیسیوں باتیں ذہن میں ابھرتی رہیں۔ ہماری ملاقات بہت ادھوری رہ گئی تھی۔ “ وہ منتظر نظروں سے میری طرف دیکھتا رہا۔ ”سب سے پہلے یہ بتاؤ۔ “ میں نے کہنا شروع کیا۔ ”تم چلے کہاں گئے تھے؟ “
”میں نے کہاں جانا تھا۔ میں نے کہا تھا نا کہ میرا وجود زمان و مکان کی قید سے ماورا ہے۔ میرے بارے میں اپنے پیمانوں سے نہ سوچو۔ “
”میری سمجھ میں تمہاری بات آدھی آتی ہے، آدھی نہیں۔ اوہ معاف کریں میں آپ کو تم تم کہے جا رہا ہوں۔ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔ “
”پھر وہی بات۔ بھئی میں کبھی تمہاری عمر کا تھا اور تم بھی کبھی میری عمر کے ہو جاؤ گے، حساب برابر۔ “
”یوں تو آدمی بزرگوں کا احترام بھی نہ کرے کہ وہ کبھی اس جتنے تھے اور کبھی وہ ان جتنا ہو جائے گا۔ “
”میں تمہارے بزرگوں کی نہیں، اپنے جیسوں کی بات کر رہا تھا، جو وقت کی قید سے بلند ہو چکے ہوں، جو سب کے ہم عصر، ہم عمر بن چکے ہوں۔ “
”اچھا بابا، ’تم‘ ہی سہی۔ تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ تمہاری بات آدھی سمجھ میں آتی ہے، آدھی نہیں۔ اور کچھ باتیں جو میں اپنے خیال میں سمجھ گیا تھا، بعد میں گڈ مڈ ہوتی رہیں۔ مثلاً پہلی ہی بات کہ تم لفظوں میں قید تھے۔ یعنی کوئی شخص دو جملے لکھ کر کسی کو بھی قید کر سکتا ہے؟ “
”بالکل۔ قید تو ایک طرف، ایک جملے سے آپ کسی کو ہلاک کر سکتے ہیں۔ “ اس نے کہا۔
”میرا مطلب ہے۔ تم نے کہا تھا کہ اگر کوئی ادیب تمہارے بارے میں لکھتا تو اس کی کتاب تمہارے لیے ایک آزاد گھر ہوتی۔ اب اس کے ساتھ ساتھ اس شطرنج کی کتاب کا مصنف بھی وہی کچھ کرتا جو اس نے کیا تو پھر کیا ہوتا؟ تم آزاد ہوتے یا قید؟ “
”اس کتاب میں آزاد اور اس کتاب میں قید۔ بیک وقت۔ “ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”دیکھو میں نے تمہیں بتایا تھا کہ آدمی کا دوسرا وجود اس کا اصل وجود ہوتا ہے، جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتا ہے، جو ہر وقت کئی جگہ موجود ہوسکتا ہے۔ اچھا اگر یہ دوسرا وجود تمہاری سمجھ میں نہیں آتا تو پہلے، یعنی جسمانی اور ٹھوس، وجود ہی کو دیکھ لو۔ تمہارے ملنے والوں میں سے کسی دو افراد کی تمہارے بارے میں ایک رائے نہیں ہو گی۔ ہو ہی نہیں سکتی۔ لہٰذا تم جتنے لوگوں سے ملے، تمہارے اتنے ہی وجود ہوئے، الگ الگ، ایک دوسرے سے مختلف اور بعض اوقات بالکل الٹ۔ پھر سوچو، بعض جگہیں ایسی ہوں گی جہاں تم ہمیشہ خود کو آزاد محسوس کرتے ہو گے اور کئی جگہیں ایسی جہاں تمہارا ہمیشہ دم گھٹتا ہو گا۔ “
”لیکن میں ایک وقت میں تو ایک جگہ ہی ہوں گا۔ آزاد یا قید۔ “
”درست، مگر وہ جگہیں تو بیک وقت اپنی اپنی جگہ موجود رہیں گی اور ہمارے ساتھ ان کا اپنا اپنا تعلق بھی۔ “
”اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اگرچہ اس وقت اس کتاب سے آزاد ہو چکے ہو مگر چونکہ یہ کتاب اسی طرح موجود ہے اور رہے گی۔ ہزاروں جگہ۔ تم اس میں قید بھی ہو۔ “ میں نے ہار نہ ماننے کی آخری کوشش کی۔
”بجا فرمایا۔ میں تمہارے لیے آزاد ہوں اور ہمیشہ رہوں گا اور جو شخص بھی تمہاری طرح اس کتاب کو پڑھے گا، اس کے لیے بھی میں آزاد ہو جاؤں گا۔ لیکن جو اسے صرف شطرنج کی کتاب سمجھ کر پڑھے گا، جیسا کہ لوگ اب تک کرتے آئے ہیں، اسے تو میں نظر ہی نہیں آؤں گا۔ “
یہاں سے خاموشی کے ایک طویل وقفے کا آغاز ہوا۔ میرے ذہن میں آندھیاں سی چلنے لگیں۔ کبھی سب کچھ روشن ہو جاتا، کبھی مکمل تاریکی؛ کبھی تاریکی میں ہزاروں ستارے سے جگمگانے لگتے، کبھی اجالے میں سائے سے لہرانے لگتے۔ یہ باتیں میرے لیے اتنی نئی اور عجیب تھیں کہ جب بہت دیر بعد میں اپنے آپ میں واپس آیا تو میری زبان پر وہی جملہ تھا۔ ”تمہاری باتیں میری سمجھ میں آدھی آتی ہیں، آدھی نہیں۔ “ وہ مسکراتا رہا۔ خاموشی کے ایک اور وقفے کے بعد میں پھر اپنے سوالوں کی طرف آیا۔
”تم نے کہا تھا کہ تم شہزادی سے جیت گئے تھے۔ پھر تو تم شہزادے بن گئے ہو گے اور شاید بعد میں بادشاہ بھی۔ “
”میں نے یہ کب کہا تھا کہ مجھ سے شہزادی کی شادی بھی ہو گئی تھی۔ “
”اوہ! “ میرے منہ سے نکلا۔ اچانک ایک خیال میرے ذہن میں بجلی کے کوندے کی طرح لپکا۔ کہیں شہزادی کو جیت لینے کے بعد شہزادی کے کسی دوسرے امیدوار نے یا بادشاہ نے ہی اسے قتل تو نہیں کروا دیا تھا؟ میں نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
”تمہاری عمر ستائیس، اٹھائیس برس سے زیادہ نہیں لگتی۔ کیا تم نے اتنی ہی عمر پائی تھی؟ “
”نہیں، میں نے بہت لمبی عمر پائی تھی۔ تمہارے سامنے اس عمر میں اس لیے ہوں کہ تمہارے ذہن میں میری زندگی کا یہی دور آیا تھا۔ اگر تم میرے بچپن یا بڑھاپے کے بارے میں سوچتے تو میں ان صورتوں میں تمہارے سامنے آتا جو میری اپنے بچپن یا بڑھاپے میں تھیں۔ “ اجنبی مجھے انکشافات کے صدمے پہنچائے جا رہا تھا۔
”توجب تم نے شہزادی کی شرط پوری کر دی تھی تو اس نے تم سے شادی کیوں نہیں کی؟ “
”میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ شہزادی نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔ “
”پھر تمہاری شادی کیوں نہ ہو سکی؟ کیا شہزادی کے کسی امیدوار نے یا بادشاہ نے تمہیں ڈرایا دھمکایا تھا؟ “
”نہیں، اس کی نوبت ہی نہیں آئی تھی۔ “
”اوہ! کیا شہزادی کو کچھ ہو گیا تھا؟ “ اب کے مجھے خیال آیا کہ شہزادی کو بھی تو قتل کیا جا سکتا تھا یا ممکن ہے وہ کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو گئی ہو۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



Comments are closed.