بدرو جولاہا جو پروپیگنڈے سے بادشاہ بن گیا


بدرو اب موت کو اس قدر قریب دیکھ کر بدحواس ہو چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ میں دوڑ کر تو ہاتھِی سے آگے نہیں نکل سکتا، پیچھے مڑ کر اس کی ٹانگوں کے بیچ سے دوسری طرف نکل جاتا ہوں۔ وہ پلٹا مگر بدحواسی میں زور سے ہاتھی سے ٹکرا گیا۔

عین اسی لمحے ہاتھی تکلیف سے چنگھاڑا اور زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ ہوا یوں تھا کہ جب بدرو نے اپنی بیوی کو خوب پیٹا تھا تو اس نے غصے میں آ کر بدرو کی روٹیوں میں بہت مہلک زہر ملا ڈالا تھا۔ ہاتھی نے روٹیاں کھائیں اور اتنا تیز دوڑا تو فورآ زہر کا اثر ہو گیا۔

شہریوں نے ہاتھِی کو زمین پر گرے دیکھا تو خوشی سے بے قرار ہو کر گھروں سے نکلے اور اس کی طرف دوڑے۔ قریب جا کر انہوں نے دیکھا کہ بدرو مردہ ہاتھی کے سر سے ٹیک لگائے کھڑا رومال سے اپنا پسینہ پونچھ رہا تھا۔

”تم نے دیکھا کہ میں نے کیسے ہاتھی کو پھنسا کر مارا ہے؟ اگر میں اس طرح نہ بھاگتا تو ہاتھی کبھی بھی مجھ پر حملہ نہ کرتا۔ اس نے حملہ کیا تو میں نے پلٹ کر اسے اپنی چھوٹی انگلی سے دھکا دیا اور وہ گر کر مر گیا۔ ہاتھی دیکھنے میں تو بہت بڑے اور طاقتور حیوان ہوتے ہیں مگر ان میں جان بالکل نہیں ہوتی۔ “ بدرو نے بے نیازی سے بتایا۔

شہریوں نے بہت دور سے سارا مقابلہ دیکھا تھا اور وہ بدرو کو کانپتے ہوئے نہیں دیکھ پائے تھے۔ اب بدرو نے ایسی بے فکری سے یہ سب بتایا تو وہ بہت مرعوب ہوئے۔ وہ بھاگے بھاگے بادشاہ کے پاس گئے اور اسے بتایا کہ بہادر بدرو دیکھنے میں تو دیاسلائی ہے لیکن اس میں طاقت ایسی ہے کہ ایک دھکا دے کر ہی اس نے ہاتھی پچھاڑ دیا۔

بادشاہ نے سوچا کہ میرا کوئی بھی سپاہی اور پہلوان اس ہاتھی کا مقابلہ نہیں کر سکا تھا۔ رستم اور سہراب ہوتے تو وہ بھی اس طرح ہاتھی کو نہیں مار پاتے۔ مجھے اس بہادر کو اپنا ملازم بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس نے بدرو سے پوچھا کہ وہ کیوں دنیا گھوم رہا ہے؟

بدرو نے جواب دیا ”تفریح کے لئے، بہادری کے جوہر دکھانے کے لئے اور دنیا فتح کرنے کے لئے میں گھر سے نکلا ہوں“۔

بادشاہ نے دنیا فتح کرنے کا سنتے ہی بدرو کو اپنی فوج کا سپہ سالار مقرر کر دیا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ آگے جا کر اس کے دشمن بادشاہ کے لشکر میں شامل ہو جائے۔

بدرو چمکتا ہوا خود اور زرہ بکتر پہن کر تلوار گھماتے ہوئے اپنے محل میں پہنچا تو آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر کہنے لگا ”مجھے پتہ تھا کہ مجھ میں بہت ٹیلنٹ ہے“۔

اب ہوا ایسا کہ چند دن بعد ہی شہر کے باہر جنگل میں ایک خونخوار شیر آ گیا اور اس نے شہر والوں کے بہت سے مویشی مار ڈالے۔ اس کے بعد اس نے انسانوں پر بھی حملے شروع کر دیے۔ شہر والے بادشاہ کے پاس فریاد لے کر آئے کہ فاتح شہزادے کو بھیج کر شیر مارا جائے۔

بادشاہ نے بدرو کو بلایا تو اس نے شرط پیش کی کہ وہ شیر اسی وقت مارے گا جب انعام کے طور پر بادشاہ اس کی شادی شہزادی سے کر دے گا۔ بادشاہ مصیبت میں پھنسا ہوا تھا۔ وہ شرط مان گیا۔

بدرو سپاہیوں کا دستہ لے کر محل سے نکلا۔ اس کا خود، زرہ بکتر، تلوار اور خنجر خوب چمک رہے تھے اور وہ گھوڑے پر بہت اکڑ کر بیٹھا تھا۔ شہری نعرے لگاتے ہوئے اس کے گرد جمع ہو گئے۔

”پریشان مت ہو اچھے لوگو۔ ایسا سوچنا بھی بے وقوفی ہے کہ یہ شیر میرے سامنے ٹک سکتا ہے۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ میں اتنا طاقتور ہوں کہ اپنی چھوٹی انگلی سے دھکا دے کر میں نے مست ہاتھی مار ڈالا تھا؟ میں ناقابلِ تسخیر بہادر ہوں“۔ بدرو بنکارا اور جنگل کی طرف چل پڑا۔

جیسے ہی بدرو جنگل میں پہنچا تو شیر اس کی طرف لپکا۔ بدرو کے گھوڑے نے شیر دیکھا تو ڈر کر الف ہو گیا۔ بدرو زمین پر گرا اور گھوڑا اسے چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ بدرو کا خوف سے برا حال ہو گیا اور وہ دوڑ کر قریبی درخت پر چڑھ گیا۔ اپنے سپہ سالار کو بھاگتے دیکھ کر اس کا فوجی دستہ بھی الٹے قدموں واپس شہر کی طرف بھاگا اور اس نے بادشاہ کو بتایا کہ بہادر بدرو تو شیر کو دیکھتے ہی چوہے کی طرح ڈر کر بھاگ نکلا ہے۔ بادشاہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کیونکہ وہ بدرو کو داماد نہیں بنانا چاہتا تھا۔ ”اسے وہیں رہنے دو، شیر اسے کھا پی کر برابر کر دے گا“، بادشاہ نے کہا۔

ادھر بدرو درخت پر ٹنگا ہوا تھا۔ شیر اس درخت کے نیچے بیٹھ گیا کہ بدرو جیسے ہی نیچے اترے تو وہ اسے کھا جائے۔ ایک دن گزر گیا، دوسرا گزر گیا، تیسرا گزرا، چوتھا پانچواں اور چھٹا بھی ایسے ہی گزر گیا۔ بدرو کا درخت پر بھوک پیاس سے برا حال تھا اور نیچے شیر بھی بھوک سے بے تاب ہو کر درخت کے نیچے لیٹا غراتا رہتا۔

ساتویں دن بدرو کا بھوک پیاس سے بہت برا حال ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ شیر اس وقت سو رہا ہے، میں چپکے سے نیچے اتر کر شہر کی طرف دوڑ جاتا ہوں۔ وہ نیچے اترنے لگا۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ شیر ایک آنکھ کھولے چپکے چپکے اسے دیکھ رہا تھا۔ آخری شاخ پر پہنچ کر بدرو نیچے چھلانگ لگانے ہی والا تھا کہ شیر زور سے دھاڑا اور بڑا سا منہ کھول کر اس نے بدرو کی ٹانگ کو دبوچنے کی کوشش کی۔

بدرو خوف سے چیخا اور ایک دم الٹی قلابازی کھا کر اوپر والی شاخ کی طرف لپکا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اس کی نیام سے اس کا خنجر باہر گرا اور شیر کے کھلے ہوئے منہ میں اتر کر اسے چیرتا ہوا سیدھا شیر کے پیٹ تک جا پہنچا۔ شیر تڑپ تڑپ کر مر گیا۔

بدرو کو اپنے بچ جانے کا یقین ہی نہ آیا لیکن جب بہت دیر تک شیر نہ ہلا اور اس کے گرد خون کا تالاب جمع ہو گیا تو بدرو حوصلہ کر کے درخت نیچے اترا۔ اس نے نیام سے تلوار نکالی اور شیر کا سر کاٹ کر شہر کی طرف چل پڑا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar