بدرو جولاہا جو پروپیگنڈے سے بادشاہ بن گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک منحنی سے جسم والا جولاہا رہا کرتا تھا۔ اس کا قد چھوٹا تھا، ٹانگیں اور بازو کمزور اور جسم عجیب۔ اس کے ہمسائے اسے ٹڈا بدرو جولاہا کہتے۔

لیکن اپنے چھوٹے سے قد اور کمزور سے جسم کے باوجود بدرو خود کو بہت بہادر سمجھتا تھا۔ وہ گھنٹوں اپنی بہادری کی تعریف کرتا رہتا اور وہ کارنامے سناتا جو اس نے موقع ملتے ہی سرانجام دینے تھے۔ بس قسمت کی خرابی تھی کہ اسے موقع نہیں ملتا تھا اور قصے سننے والے اس پر ہنستے تھے۔

ایک دن بدرو اپنی کھڈی پر کپڑا بن رہا تھا۔ وہ تانا بانا بننے کے لئے اپنی کھڈی کی نلکی ایک ہاتھ سے اچھالتا اور دوسرے سے پکڑ لیتا۔ اب ہوا ایسا کہ ایک مچھر اس کے ہاتھ پر آن بیٹھا اور جیسے ہی اس نے دوسرے ہاتھ سے نلکی اچھالی وہ سیدھی مچھر کو لگی اور اسے مسل ڈالا۔

یہ دیکھتے ہی بدرو کا خوشی سے برا حال ہو گیا۔ ”میں ہمیشہ کہتا تھا نا کہ اگر مجھے موقع ملے تو میں اپنی بہادری ثابت کر دوں گا۔ بتاؤ کتنے لوگ ایسا کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں؟ مچھر مارنا آسان ہے۔ نلکی اچھالنا آسان ہے۔ مگر کتنے لوگ دونوں کام بیک وقت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ تیر کمان تلوار نیزے سے کسی بڑے سے انسان کو مارنا کتنا آسان ہے مگر چھوٹی سی نلکی پھینک کر بمشکل دکھائی دینے والے مچھر کو مارنا ہی اصل کارنامہ ہے جو کوئی کوئی سورما ہی سرانجام دے سکتا ہے“۔ وہ چیخا۔

وہ اس بارے میں جتنا سوچتا اتنا اپنی بہادری پر حیران ہوتا۔ آخر کار اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ بدرو جولاہا نہیں کہلائے گا بلکہ اس کا نام اب سے بہادر بدرو ہو گیا ہے۔ لیکن جب اس نے اپنا نیا نام اپنے ہمسایوں کو بتایا تو سب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ بیشتر لوگ اب اسے بدرو دیوانہ کہنے لگے اور جو چند بہادر بدرو کہتے ان کے انداز سے ہی پتہ چل جاتا کہ وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔

بدرو کی بیوی اپنے خاوند کو اس طرح تضحیک کا نشانہ بنتا دیکھ کر خوب شرمندہ ہوتی۔ اس نے بدرو کو کہا کہ ایسی حرکتیں بند کر دے اور خود کو بے وقوف مت بنوائے۔ بدرو پہلے ہی گاؤں والوں سے تنگ تھا جو اس کے حیرت انگیز ٹیلنٹ اور بہادری کی قدر کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ اس نے اپنی بیوی کو بالوں سے پکڑا اور اسے خوب مارا۔ پھر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس گاؤں میں نہیں رہے گا جہاں بہادروں کی قدر ہی نہیں ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ وہ اس کے لئے روٹیاں پکا دے کیونکہ اس نے سفر پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

”میں دنیا کے سفر پر جاؤں گا۔ ایک ایسا آدمی جو نلکی پھینک کر مچھر مسل سکتا ہو، اسے ایک دور دراز گاؤں میں نہیں رہنا چاہیے۔ اسے ساری دنیا کو اپنا ٹیلنٹ دکھانا چاہیے“۔ سو اس نے اپنی نلکی جیب میں ڈالی، بیوی کی پکائی ہوئی میٹھی روٹیوں کی پوٹلی رومال میں باندھی اور سفر پر نکل گیا۔

اب ہوا ایسا کہ وہ ایک شہر میں پہنچا جہاں روزانہ ایک مست ہاتھی آتا اور سڑک پر جو آدمی دکھائی دیتا اسے مار ڈالتا۔ بہت سے بہادر سپاہی اور جوان اس کا مقابلہ کرنے گئے مگر ہاتھی اتنا زیادہ طاقتور تھا کہ اس نے ان سب کو مار ڈالا اور اب اس کا نام سن کر ہی بادشاہ کا بہادر سے بہادر سپاہی تھر تھر کانپنے لگتا۔

بدرو نے یہ قصہ سنا تو سوچنے لگا ”بس یہی موقع ہے جس کا مجھے انتظار تھا۔ جو بہادر دور سے ہی نلکی پھینک کر بمشکل دکھائی دینے والے مچھر مسل سکتا ہے اس کے لئے پہاڑ جیسے ہاتھی کا نشانہ لگانا کیا مشکل ہو گا؟ “

وہ بادشاہ کے دربار میں گیا اور دربان کو کہا کہ بادشاہ سلامت کو کہو کہ بہادر بدرو شہر میں آیا ہے تاکہ مست ہاتھِی کو مار کر شہر والوں کے سر سے مصیبت ٹالے۔ بادشاہ نے پیغام ملتے ہی بہت خوش ہو کر اسے دربار میں بلایا مگر جب اس نے رستم جیسے بدن والے بہادر شہزادے کی بجائے ایک مریل سا آدمی دیکھا تو بہت مایوس ہوا اور سوچنے لگا کہ یہ ضرور پاگل ہے۔

بدرو نے بادشاہ کو یقین دلایا کہ اس کا بدن دیکھنے میں بہت کمزور ہے مگر ہے لوہے جیسا مضبوط۔ وہ ہاتھی کو چند منٹوں میں مار ڈالے گا۔ اور وہ ہاتھی سے لڑنے کے لئے کسی تلوار یا نیزے کا محتاج بھی نہیں ہے۔ بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ پھر تم کیسے ہاتھِی کا مقابلہ کرو گے؟ بدرو نے جیب سے اپنی تانا بانا بننے والی نلکی نکالی اور بولا ”میں اس نلکی سے ہاتھی کو مار ڈالوں گا۔ میرے ہاتھوں میں یہ کسی بھی تلوار یا نیزے سے زیادہ خطرناک ہتھیار ہے۔ میں اس کا ماہر ہوں اور ہاتھی اس کے سامنے نہیں ٹک سکتا“۔

بادشاہ نے بدرو کے اصرار پر اسے ہاتھی کا مقابلہ کرنے کی اجازت دے دی۔ ہاتھی کے شہر میں آنے کا وقت ہوا تو پورا شہر چھتوں پر چڑھ گیا اور بدرو بڑی شاہراہ پر اپنی نلکی پکڑ کر کھڑا ہو گیا اور بلند آواز میں سب کو اپنی بے مثال بہادری کے قصے سنانے لگا۔

اچانک ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ ہاتھی جھومتا ہوا شہر میں داخل ہوا اور بدرو کو اپنے سامنے دیکھ کر زور سے چنگھاڑا۔ ہاتھی کو اتنا قریب پا کر بدرو کی بہادری ہوا ہو گئی۔ اس کے ہاتھ سے اس کی روٹیوں کی پوٹلی اور نلکی گر گئے اور وہ پلٹ کر پوری قوت سے دوڑنے لگا۔

ہاتھی بدرو کے پیچھے دوڑا مگر جب وہ روٹیوں کی پوٹلی کے قریب پہنچا تو اسے گڑ والی میٹھی میٹھی روٹیوں کی خوشبو آئی۔ گنے کھانے کا شوقین ہاتھی وہیں رکا اور سب روٹیاں چٹ کرنے لگا۔ روٹیاں ختم کر کے اس نے دیکھا تو بدرو دور جا چکا تھا۔ ہاتھِی غصے سے چنگھاڑا اور تیزی سے بدرو کی طرف لپکا اور چند لمحوں میں اس کے قریب پہنچ گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1185 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar