جاوید شاہین، چند یادیں، باتیں اور انتخاب کلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اکتوبر کے مہینے میں پیدا ہونے اور اسی مہینے میں وفات پا جانے والے ممتاز شاعر جاوید شاہین کی زندگی ایک مسلسل تغیر و تبدل سے عبارت ہے، جو کہ اتفاقی نہیں بلکہ منطق اور منصوبہ بندی کے تحت تھا۔ 1932ء سے 2008ء تک پھیلا ہو، ان کا سفرِ حیات، ان کی پیہم جستجو، جد و جہد اور تخلیقی ریاض کا مرقع ہے۔ 1947ء میں بھارتی پنجاب سے سیالکوٹ ہجرت کے وقت وہ خاصے سمجھدار تھے۔ اس آزمائش نے یقینا ً ان کے احساس پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ چنانچہ وہ عمر بھر انسان دوستی کا پرچم اٹھائے رہے۔ وہ محکمہ بلدیات میں ملازم تھے، لیکن ساتھ ساتھ تراجم کا کام بھی کرتے رہے۔ جہاں تک شاعری کی بات ہے تو انہیں جلد ہی معلوم ہو گیا تھا کہ غزل کی روایت شاعر کو کھا جاتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے بھاری بھر کم مفرس و معرب تراکیب اور دیگر بدیعی و عروضی پے چیدگیوں سے بچ بچا کر،غزل میں نیا لب و لہجہ اور جدید لفظیات لانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں کہیں کہیں ایسے تصّرفات ملتے ہیں، جو بعض اہلِ علم کو نا پسندیدہ لگتے تھے۔ اس سلسلے میں خود جاوید شاہین کا دعویٰ یہ تھا، کہ
؎ لفظ پھر زندہ مِری سادہ بیانی سے ہوا

یہ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کی بات ہے، جب افتخار جالب اور ظفر اقبال اردو میں لسانی تشکیلات کی جدوجہد میں مصروف تھے۔

بعد ازاں وہ نظم کی جانب آئے اور اس کے بعد وفات تک زیادہ تر نظم ہی کہی۔ ان کا شمار نثری نظم کو اعتبار دلانے والے شاعروں میں کیا جاتا ہے۔ روشن خیالی اور ترقی پسندی ان کے مشن کا اختصاص تھیں۔ ان کے کئی شعری مجموعے شایع ہوئے، جو اب ان کے کلیات ’’نا تمام‘‘ کا حصہ ہیں۔ اعترافات سے بھر پور ان کی خود نوشت ’’میرے ماہ و سال‘‘ کسی قدر متنازع مگر معروف تصنیف ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات پر انہیں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔ نوے کی دہائی میں لاہور قیام کے دوران میں ممتاز افسانہ نگار رشید مصباح کے توسط سے میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ آئیے آپ کو اپنی ڈائری سے ان کے کچھ اشعار پڑھواتے ہیں:

بسر کروں جنہیں جب چاہوں اپنی مرضی سے
کچھ ایسے دن بھی میرے ماہ و سال میں رکھ دے

بھلا گیا ہے مجھے گفتگو کے سارے مزے
بس ایک لفظ تھا، پل بھر زباں پہ رکھا تھا

میں کیسے کاٹ دوں یہ خشک شاخ ِ دل شاہین
کسے خبر کبھی اس پر ثمر نکل آئے

مرے خاشاک میں پڑنے کو بے کل تھا شرر کوئی
مِرا دامن پکڑنے ایک شعلہ دُور تک آیا
خطا کس کی ہے! تم ہی وقت سے باہر رہے شاہیں
تمہیں آواز دینے ایک لمحہ دور تک آیا

کہیں صدائے جرس ہے نہ گرد راہ سفر
ٹھہر گیا ہے کہاں قافلہ تمنا کا

زمینِ دل کو بس تھوڑے سے پانی ضرورت تھی
یہ پانی اک گزرتے ابر پارے سے نکل آیا
تہہ دریا پڑے رہنا تھا میں نے بھی بہر صورت
تھی موجِ تند اک جس کے سہارے سے نکل آٰیا
بہت مشکل تھا کچھ اس حسن کی تعریف میں کہنا
مرا مطلب مگر اک استعارے سے نکل آیا

جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے
صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے

چپ چاپ خلوتوں میں پگھلنے سے فائدہ
کوئی چراغ ہے تو سرِ انجمن بھی لا
یہ چشمِ التفات ہی کافی نہیں مجھے
میرے لئے تو نرمئء کام و دہن بھی لا

اک جگہ کی صاف اور تازہ ہوا اچھی لگی
کچھ علاجِ دل وہاں کے سادہ پانی سے ہوا

بہت مزے میں رہے سرنگوں خجل پودے
ہوائے تیز کی زد میں شجر اکیلا تھا

سمجھ رہا ہے زمانہ ریا کے پیچھے ہوں
میں ایک اور طرح سے خدا کے پیچھے ہوں

ممکن ہے کہ مل جائے کبھی کوئی اشارہ
موسم کی یہ بے مہر ادا دیکھتے رہنا
.
مزہ تو جب ہے اداسی کی شام ہو شاہیںؔ
اور اس کے بیچ سے شام طرب نکل آئے

میں نے دیکھا ہے چمن سے رخصت گل کا سماں
سب سے پہلے رنگ مدھم ایک کونے سے ہوا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •