منٹو بت شکن اور صنم تراش تھا، اردو ادب کے سب سے بڑے آذر کا تراشا ہوا ایک مجسمہ: رفیق غزنوی


رفیق غزنوی

گیانی اروڑ سنگھ کا اچھا بھلا کام چل رہا تھا مگر جسے آرٹ کی چاٹ پڑ جائے، اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔ راگ کی دنیا میں وہ ایسا کھویا کہ دندان ساز کی دکان معہ جملہ ساز و سامان کے غائب ہوگئی۔ انور پیٹنٹر کا بھی دیوالیہ پٹ گیا۔

عاشق علی فوٹر گرافر کا بھی یہی حال ہوا ہے چنانچہ ایک دن امرتسر سے ایسا غائب ہوا کہ ابھی تک لاپتہ ہے۔ جیجے ( عزیز) کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اب وہ لاہور میں مطب کرتا ہے۔ شاعر فقیر حسین سلیس صابن بنا رہا ہے۔

گیانی اروڑ سنگھ کامیاب ایکٹر بنا، مگر اب سُنا ہے کہ اس نے دنیا تیاگ دی ہے اور خدا سے لو لگائے بیٹھا ہے۔ کیپٹن وحید نے پانچ بچوں والی ایک عور ت سے شادی کرلی۔ آج کل ٹھیکیداری کرتا ہے۔

رفیق غزنوی جس رنگ میں پہلے تھا، اسی میں ہے۔ کراچی میں ایس کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور فلموں میں موسیقی بھرتا ہے۔

بڑے مصیبت ہے، میں نے جب بھی ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جو پرانی یادوں کے متعلق ہوں تو ہمیشہ بہک گیا۔ اب دیکھئے میں بات رفیق غزنوی سے ملنے کی کوشش کی کررہا تھا اور چلا گیا فروعات میں۔ لیکن سچ پوچھئے تو مجھے فروعات ہی سے محبت ہے، میں زندگی کو بھی ایک فروعی چیز سمجھتا ہوں۔

ہاں جناب، تو میں بالے کے ساتھ ہو لیا۔ اپریل کی خنک رات تھی۔ تانگہ دیر تک چلتا رہا۔ آخر بالے نے ایک نیم تاریک مقام پر اسے ٹھہرایا۔ آج سے تیئس چوبیس برس پہلے کی بات ہے لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس ایک منزلہ مکان میں ہم داخل ہوئے، وہ پیڑوں سے اور جھاڑیوں سے گِھرا ہوا تھا۔ اندر لالٹین جل رہی تھی، میدھا موٹا اور وہ درزی جس کا نام میں بھول گیا ہوں، اپنے چند دوستوں کے ساتھ بیٹھے فلش کھیلنے اور شراب پینے میں مشغول تھے۔

مجھے میدھے موٹے سے سخت نفرت تھی۔ اول تو یہ کہ وہ بہت موٹا اور بہت طاقتور تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ زبردستی مجھے فلیش کھیلنے کو کہتا اور پتے بازی کرکے مجھ پر آٹھ دس ہزار روپے کا قرض چڑھا دیتا اور دوسرے تیسرے روز مجھے کسی بازار یا گلی میں پکڑتا اور اپنا خوف ناک چاقو دکھاکر اسے وصول کرلیتا۔

بالے نے درزی سے رفیق کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ وہ دو روز سے غائب ہے۔ کہاں ہے یا ہو سکتا ہے اس کے متعلق اسے علم نہیں تھا۔ درزی نے کہا۔ بالے، تمہیں معلوم ہی ہے۔ جب وہ کسی کوٹھے پر چڑھتا ہے، پندرہ دن کے بعد ہی نیچے اترتا ہے۔

بالا مسکرا دیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کو اچھی طرح معلوم ہے۔ میری یہ کوشش بھی بے کارگئی۔ غالباً ایک برس کے بعد میں نے اس کا فوٹو عاشق علی کے ڈارک روم ایک ڈش میں پانی پر تیرتا ہوا دیکھا۔ عاشق علی بہت اچھا فوٹو گرافر تھا۔ غالباً وہ پہلا شخص تھا جس نے فوٹو گرافی کے قدیم اصولوں کی خلاف ورزی کی۔

عام طور پرفوٹو گرافر کرتے تھے کہ اپنے گاہک کو خوش کرنے کے لیے اس کے چہرے کی وہ تمام لکیریں دور کردیتے تھے جو انسان میں اس کے کردار اور تشخص کی مظہر ہوتی ہیں۔ وہ اس کے چہرے کو چِھلا ہوا آلو سا بنا دیتے تھے جس پر کوئی داغ دھبہ نہ ہوئی کوئی سلوٹ لکیر۔ عاشق علی کہتا تھا، فوٹو گرافر کا کام یہ ہے کہ انسان کو اس طرح پیش کرے جس طرح کہ وہ اسے دیکھتا ہے۔ کیمرے کا کام صرف عکس لینا ہے اور بس۔

عاشق علی روشنی اور سایوں کے امتزاج کا خاص خیال رکھتا ہے۔ رفیق کی جو تصویر میں نے دیکھی، میرا خیال ہے وہ عاشق علی کا شاہکار تھی۔ رفیق نے عربوں کا لباس پہنا ہوا تھا۔ اس کا لمبوترہ چہرہ بہت پرکشش تھا۔ سائے زیادہ تھے اور روشنیاں کم۔ خدوخال تیکھے اور نوکیلے نہیں تھے مگر جاذب نظر تھے۔ بڑی وجیہہ شکل و صورت تھی۔ ناک لمبی جو پُھننگ کے قریب چوڑی ہوگئی تھی۔ ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست۔ ان کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی تکونیں۔ بال پیچھے کی طرف کنگھیکیے ہوئے۔ لمبی قلمیں۔ مجھے اس میں اور اپنے میں کوئی مماثلت نظر نہ آئی۔ معلوم نہیں اس پان والے کو مجھ پر اس کا دھوکا کیسے ہوگیا۔

عاشق علی نے مجھے بتایا کہ رفیق پرسوں آیا تھا اور اسی روز شام کوواپس لاہور چلا گیا۔ میں لاہور پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ راولپنڈی میں ہے۔ اب راولپنڈی کون جاتا۔ میں واپس امرتسر چلا آیا۔ آٹھویں روز پتہ چلا کہ وہ امرتسر ہی میں ایک طوائف کے مکان پر نظر بند تھا۔ میں جھنجھلا گیا۔

کئی برس گزر گئے مگررفیق غزنوی سے ملاقات کی کوئی سبیل پیدا نہ ہوئی۔ میں یوں بھی تھک ہار کر اس کو تلاش کرنے کی سرگرمی ترک کر چکا تھا۔ اس دوران میں البتہ یہ معلوم ہوتا رہا کہ وہ کٹڑہ گھنیاں کی قریب قریب تمام مشہور طوائفوں کو سرفراز کرچکا ہے۔

رفیق کی اپنے مخصوص طرز میں گائی ہوئی غزلیں ہر کوٹھے پر گائی جاتی تھیں۔ یہ کیا ہے جی؟ رفیق کی بحر ہے۔ یہ کیا انداز ہے سرکار؟ حضور رفیق غزنوی کا۔ یہ چکنا چُور گھڑی رفیق صاحب کی ہے۔ کل انہوں نے تان جولی تو زور سے ہاتھ لہرایا۔ کلائی دیوار کے ساتھ ٹکرائی اور گھڑی کے ہزار ٹکڑے۔ پرسوں رفیق غزنوی ایک رنڈی کے کوٹھے پر گانا سنانے لگا۔ ساز سُر میںکیے گئے۔ رفیق نے طبلے والے سے کہا تم بھی کرو سُر میں اپنے طبلے۔ طبلچی نے کہا، میں کر چکا ہوں۔ رفیق نے کہا، دوبارہ کرو۔ دائیں پر ابھی ابھی ایک مکھی بیٹھ گئی تھی۔ لعنت ہے اس مکھی پر اور لعنت ہے رفیق غزنوی پر۔

ان دنوں یہ غزل عام طور پررفیق کی بحر میں گائی جاتی تھی۔ دیکھئے حافظے پر زور دے کر اس کا کوئی شعر یاد کرتا ہوں۔ نہیں آیا رہا۔ کچھ ایسا ہی تھا۔

سو رہے ہیں پاسباں یار ہے خواب ناز میں

اور خدا معلوم کیا۔

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی

نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

شاید اقبال کی کوئی غزل تھی۔ معاف کیجئے گا میرا حافظہ بہت کمزور ہے۔

اس کے بعد معلوم ہوا کہ اے۔ آر۔ کاردار لاہور میں پنجاب کا پہلا متکلم فلم ”ہیررانجھا“ بنا رہا ہے اور رفیق اس کا ہیرو ہے یعنی رانجھا۔ ہیروئن امرتسر کی ایک طوائف انوری ہے ( یہ آج کل ریڈیوپاکستان کے ڈپٹی ڈ ائریکٹر جناب احمد سلمان سابق جگل کشور مہرہ کی بیگم ہیں ) کیدو کا پارٹ ایم اسماعیل کو دیا گیا ہے۔

فلم بن گیا مگر میں لاہور نہ جاسکا معلوم نہیں کیوں۔ اس دوران میں مختلف افواہیں سننے میں آتی رہیں۔ کاردار کا رفیق سے جھگڑا ہوگیا ہے۔ رفیق، انوری سے رومان لڑا رہا ہے۔ انوری کی ماں سخت برہم۔ ضرور ایک روز چاقو چھری چلیں گے۔ لیکن ایک دن یہ خبر آئی کہ رفیق انوری کو ڈرامائی انداز میں لے اڑا ہے۔

یہ خبر سچی تھی۔ واقعی وہ انوری کو لے اڑا تھا۔ انوری کی ماں بہت چیخی چلائی تھی۔ رفیق کے پیچھے غنڈے بھی لگائے گئے تھے مگر اس نے کوئی پرواہ نہ کی اور شربت وصال، وسکی کے ساتھ ملا ملا کر پیتا رہا۔ آخر اس نے انوری کو اس کی ماں کے پاس امرتسر روانہ کردیا۔ ان فاتحانہ مگر نہایت تکلیف دہ الفاظ کے ساتھ ”لو سنبھال لو اپنی سونٹھ کی پڑی کو۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7