منٹو بت شکن اور صنم تراش تھا، اردو ادب کے سب سے بڑے آذر کا تراشا ہوا ایک مجسمہ: رفیق غزنوی

وہ بے چاری اب اپنی ”سونٹھ کی پڑی“ کو کیا سنبھال کے رکھتی جس دن کے لیے اس نے اسے سنبھال سنبھال کے رکھا ہوا تھا، اس پر تو رفیق غاصبانہ قبضہ کر چکا تھا، کرچکا تھا کیا کرکے فارغ کر چکا تھا۔ چنانچہ اس نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ یہ ”پڑی“ دوسرے لفظوں میں اپنی ’کڑی‘ غیر مشروط طور پر رفیق غزنوی کے حوالے کردے۔
رفیق غزنوی کا حسن و عشق کے سومنات پر یہ پہلا معرکہ آرا حملہ ہے۔ انوری کے بطن اوررفیق کے نطفے سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام زرینہ رکھا گیا۔ ( جو نسرین کے فلمی نام سے اے آر کاردار ہی کے فلم ”شاہ جہاں“ میں روحی کے روپ میں جلوہ گر ہوئی، حال ہی میں ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل جناب احمد سلمان سابق جنگل کشور مہرہ کی دختر نیک اختر کی حیثیت سے اس کا نکاح کراچی میں صاحب ثروت سے ہوا ہے )۔
کئی اور برس گزر گئے۔ اس دوران میں کن کن مراحل سے مجھے گزرنا پڑا۔ اس کا ذکر مناسب معلوم نہیں ہوتا اس لیے کہ اس مضمون کا موضوع صرف رفیق غزنوی کی ذات ہے۔
میں بمبئے پہنچ گیا وہاں بہت دیر تک اخباروں میں جھک مارتا رہا۔ اس دوران میں مجھے معلوم ہوا کہ رفیق نے انوری کو چھوڑ دیا ہے اور اب کلکتے میں ہے جہاں وہ فلموں کے لئے موسیقی مرتب کرتا ہے۔
میں لکھنا شروع کر چکا تھا۔ ادبی حلقوں سے میرا تعارف بھی ہوگیا تھا اس لیے اردو ادب سے دلچسپی لینے والے مجھے جاننے لگے تھے۔ دیر تک اخباروں میں جھک مارنے کے بعد میں فلمی دنیا میں داخل ہوا۔ یہاں بھی ایک دو برس جھک مارنا پڑی۔ اپنے لیے کوئی مقام پیدا کرنے کرتے میں ہندوستان سنے ٹو پہنچ گیا جس کے مالک سیٹھ نانو بھائی ڈیسائی تھے۔ آپ نے کئی فلم کمپنیاں قائم کیں، ان کا دیوالہ نکالا۔ اب انہوں نے ہندوستان سنے ٹون کے نام سے ایک نئی فلم کمپنی کی تھی جس کے قیام کے ساتھ ہی دیوالیے کے آثار نظر آنے لگے تھے۔
میں نے اس کمپنی کے لیے ”مڈ“ یعنی ”کیچڑ“ کے عنوان سے ایک کہانی لکھی جو بہت پسند کی گئی۔ یہ اشتراکی خیالوں پر استوارکی گئی تھی۔ مجھے حیرت سے، اس زمانے میں سیٹھ نانو بھائی ڈیسائی نے اسے کیوں پسند کیا۔
میں مکالمے لکھنے میں مصروف تھا کہ مجھ سے کسی نے کہا کہ رفیق غزنوی اسٹوڈیو میں موجود ہے اور تم سے ملنا چاہتا ہے۔ پہلا سوال جو میرے دماغ میں پیدا ہوا تھا کہ وہ مجھے کیسے جانتا ہے۔ میں کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک لم تڑنگ آدمی بہت عمدہ سِلے ہوئے سوٹ میں نمودار ہوا۔ یہ رفیق غزنوی تھا۔
اس نے کمرے میں اندر داخل ہوتے ہی مجھے موٹی گالی دی اور کہا۔ ”تم یہاں چھپے بیٹھے ہو۔ “
اسی لمحے۔ اسی ثانیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں رفیق غزنوی کو ازل سے جانتا ہوں۔ چنانچہ ہم دیر تک ادھر ادھر کی باتیں بڑے بے تکلف انداز میں کرتے رہے۔
اس کے لب و لہجے، اس کی حرکات و سکنات میں ایک عجب سطحی قسم کا لا اُبالیانہ پن تھا۔ جو تصویر میں نے عاشق علی فوٹو گرافر کے ڈارک روم میں ڈش کے اندر پانی میں ڈبکیاں لگاتی دیکھی تھی۔ اس میں اور گوشت پوست کے رفیق غزنوی میں یہ فرق تھا کہ وہ گنگ تھی اور یہ متکلم۔ لیکن اس کے تکلم کا انداز اس پر سجتا تھا۔ اگر اس کے ہونٹ نہ کُھلتے۔ اگر کھلتے تو بے ہنگم طریق پر نہ کھلتے جو اس کے بھدے دانتوں اور مسوڑوں کی بے وجہ نمائش کرتے تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ اگر اس کی گفتگو میں بازاریت کا رنگ نہ ہوتا تو میں شاید اس کے بھدے دانتوں اور مسوڑھوں کو بھی برداشت کرلیتا مگر معاملہ اس کے برعکس تھا۔
اس کے ہاتھ نچانے کا انداز بھی مجھے پسند نہ آیا۔ مجھے یہ محسوس ہوتا کہ وہ جس سے مخاطب ہے، بڑے ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ احساس ظاہر ہے کہ میرے لیے خوشگوار نہیں تھا بہر حال چونکہ پہلی ملاقات تھی اور یہ بھی اتنے اشتیاق کے بعد۔ میں نے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا گہرا اثر نہ لیا۔
چونکہ اس نے مجھے مدعو کیا تھا اس لیے میں شام کو اس ہوٹل میں پہنچا۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد اس کا کمرہ مل گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے مجھے ایک کونے میں قالین کے ایک ٹکڑے پر وچترونیا نظر آئی جو ریشمی کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ اس کے سامنے دوسرے کونے میں رفیق کے شُو اور جوتے تھے جو بڑے سلیقے سے رکھے ہوئے تھے پھرمجھے ایک عورت نظر آئی جس کے طوائف ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوسکتا۔ یہ زہرہ تھی (جو اب زہرہ مرزا ہے، مرزا صاحب کسی زمانے میں فلم ڈائریکٹر تھے، اب پندرہ سولہ برس سے وہ فلم کمپنی کھولنے کی کوشش میں مصروف ہیں (
زہرہ کے ساتھ دو بچے تھے۔ ایک لڑکا، ایک لڑکی۔ لڑکا چھوٹا تھا، لڑکی بڑی جس کا نام پروین تھا (یہ فلمی دنیا میں شاہینہ کے نام سے داخل ہوئی۔ پہلا فلم ”بیلی“ تھا جس کی کہانی میری تھی۔ یہ بہت بری طرح ناکام ہوئی) اس کی عمر اس وقت پانچ برس کی ہوگی۔
دیکھئے، میں لکھتے لکھتے واقعات کی رو میں ایسا بہا کہ آپ کو یہ بات بتانا بھول ہی گیا کہ جب میں فلمی دنیا میں داخل ہوا یعنی جب میں نے امپریل فلم کمپنی میں بطور ”منشی“ ملازمت کی تو اس زمانے میں دو نوجوان لڑکیاں لائی گئیں۔ ایک دبلی تھی، دوسری موٹی۔ (یہ زہرہ کی چھوٹی بہنیں تھیں شیداں اور ہیراں)
شیداں بلا کی چنچل تھی۔ بوٹی بوٹی پڑی ناچتی تھی۔ ناک نقشہ اچھا لیکن بہت تیز بولتی تھی، اتنی تیز کہ ایک لفظ دوسرے لفظ پر سوار ہو جاتا۔ مجھے اس سے گفتگو کرتے وقت بہت الجھن ہوتی تھی۔ اسی سے مجھے معلوم ہوا کہ پھیکو بھائی جان(رفیق غزنوی) انوری کو چھوڑ چکا ہے اور اس نے بڑی بہن زہرہ سے بیاہ کرلیا ہے۔
ہیراں موٹی اور پُھسپُھس تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فلموں میں نہ چل سکی۔ شیداں کو امپریل کی رنگین فلم ”ہندوماتا“ میں کام مل گیا جو کامیاب رہی۔
میں آپ کو ایک دلچسپ لطیفہ سناتا ہوں۔ ایک روز میں کسی کام سے امپریل فلم کمپنی کے مالک سیٹھ آرڈیشر ایرانی سے ملنے گیا۔ دفتر کا ’سونگ ڈور‘ کھولتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ سیٹھ بڑے اطمینان سے شیداں کا ایک پستان یوں دبا رہے ہیں جیسے کسی موٹر کار کا ہارن۔ میں الٹے پاؤں واپس چلا آیا۔
اب میں پھرزہرہ کی لڑکی پروین کی طرف آتا ہوں۔ اس کی آنکھیں نیلی تھیں جس طرح زرینہ المعروف نسرین کی ہیں۔ رفیق کی آنکھیں نیلی نہیں ہیں۔ انوری اور زہرہ کی بھی نہیں اور یہ دونوں بالترتیب زرینہ اور شاہینہ کی مائیں ہیں۔ اصل میں آنکھوں کا یہ نیلا پن ان لڑکیوں کو ان کی دادی سے ملا ہے۔ ان کی آنکھیں یہ بڑی بڑی اور نیلگوں تھیں۔ قد کاٹھ کی بہت تکڑی تھی مگر چُنیا بیگم کی رسیا۔
خیر۔ رفیق مجھ سے ملا۔ میں کمرے کا جائزہ لیتے ہی بھانپ گیا تھا کہ وہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں یہاں آیا ہے اور تلاشِ روزگار میں سرگرداں۔
میں یہاں آپ کو رفیق کی عجیب وغریب شخصیت کا ایک عجیب و غریب پہلو دکھانا چاہتا ہوں۔ جب اس پر بمبئی کی زبان میں کڑکی یعنی مفلسی کا زمانہ آتا ہے تو وہ بہترین لباس پہنتا ہے۔ جب وہ دور گزر جاتا ہے تو وہ معمولی کپڑے پہننے لگتا ہے۔ یوں وہ ہر لباس میں بانکا سجیلا نظر آتا ہے۔ اس کو ہر لباس پہننے کا سلیقہ ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


