منٹو بت شکن اور صنم تراش تھا، اردو ادب کے سب سے بڑے آذر کا تراشا ہوا ایک مجسمہ: رفیق غزنوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معلوم نہیں کیوں لیکن میں جب بھی رفیق غزنوی کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے معاً محمود غزنوی کا خیال آتا ہے جس نے ہندوستان پر سترہ حملےکیے تھے جن میں سے بارہ مشہور ہیں۔ رفیق غزنوی اور محمود غزنوی میں اتنی مماثلت ضرور ہے کہ دونوں بُت شکن ہیں۔ رفیق غزنوی کے پیش نظر کوئی ایسا سومنات نہیں تھا جس کے بت توڑ کر وہ اس کے پیٹ سے زر و جواہر نکالتا پھر بھی اس نے اپنی زندگی میں کئی طوائفوں کو (جن کی تعداد بارہ تک پہنچ سکتی ہے) استعمال کیا۔

رفیق غزنوی کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے آباؤ اجداد غزنی کے رہنے والے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس نے غزنی دیکھا ہے یا نہیں۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ پشاور میں رہتا تھا، اس کو پشتو بولنا آتی ہے، افغانی، فارسی بھی جانتا ہے۔ ویسے عام طور پر پنجابی میں گفتگو کرتاہے۔ انگریزی اچھی خاصی لکھ لیتا ہے۔ اردومیں اگر مضمون نگاری کرتا تو اس کا بڑا نام ہوتا۔

اس کو اردو ادب سے بڑا شغف ہے۔ اس کے پاس اردو لٹریچر کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ جب میں نے پہلی مرتبہ گلشن محل(بمبئے ) میں اس کے کمرے میں بڑی ترتیب سے رکھی ہوئی کتابیں دیکھیں تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میرا خیال تھا کہ وہ محض ایک میراثی ہے جسے ادب سے کوئی واسطہ نہیں ہوسکتا لیکن جب اس سے باتیں ہوئیں تو اس نے ایسے ایسے مصنفوں کا نام لیا جن سے میں واقف نہیں تھا۔ اس نے میری معلومات میں اضافہ کیا کہ ایک ابوالفضل صدیقی ہیں جو چرندوں اور پرندوں کی کہانیاں لکھنے کے بہت بڑے ماہر ہیں۔ چنانچہ میں نے ان کے افسانے پڑھے اور پسندکیے ۔

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ مضمون جو مجھے رفیق غزنوی پر لکھنا ہے، کہاں سے شروع کروں لیکن میرا خیال ہے کہ یہ شروع ہو چکا ہے اور اس کا خاتمہ بالخیر بھی ہو جائے گا اس لیے میں اپنے حافظے کو ٹٹول کر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس سے میری پہلی ملاقات کب ہوئی۔

عجیب بات ہے کہ اس سے جسمانی طور پر متعارف ہونے سے پہلے ہی میں اسے جانتا تھا۔ کیسے جانتا تھا، کب جانتا تھا، یہ مجھے یاد نہیں۔ آج سے غالباً چوبیس پچیس برس پیچھے کی بات ہے، میں امرتسر میں بجلی والے چوک سے گزر رہا تھا کہ ایک پان والے نے مجھے آواز دی۔ میں رک کر اس کی دکان کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا۔ ”بابو صاحب اتنی دیر ہوگئی ہے اب تو حساب چکا دیجئے؟ “

میں بہت متحیر ہوا اس لیے کہ اس پان والے سے میرا کوئی حساب کتاب نہیں تھا۔ میں نے اس سے کہا۔ ”کیسا حساب۔ میں تو آج پہلی مرتبہ تمہاری دکان کے پاس ٹھہرا ہوں۔ “

یہ سن کر پان والے کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ”نہ دینے والے اسی طرح کہا کرتے ہیں۔ “

جب میں نے اس سے تفصیل چاہی تو پتہ چلا کہ وہ مجھے رفیق غزنوی سمجھتا تھا جو اس سے اُدھار لیتا تھا۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ میں سعادت حسن منٹو ہوں تو اس نے مجھ سے کہا کہ میری اور رفیق کی شکل بہت ملتی جلتی ہے۔

رفیق غزنوی کا نام تو میں بہت پہلے سن چکا تھا۔ اس سے ملنے کی مجھے کوئی خواہش نہیں تھی، پر جب میں نے سنا کہ اس کی شکل میری شکل کے مشابہ ہے تو مجھے اس کو دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔

یہ وہ زمانہ تھا، جب میں نے آوارہ گردی شروع کررکھی تھی۔ طبیعت ہر وقت اُچاٹ اُچاٹ سی رہتی تھی۔ ایک عجیب قسم کی کُھدبُد ہر وقت دل و دماغ میں ہوتی رہتی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ جو چیز بھی سامنے آجائے اسے چکھوں، خواہ وہ انتہا درجے کی کڑوی ہی کیوں نہ ہو۔

تکیوں میں جاتا تھا، قبرستانوں میں جاتا تھا، جلیاں والا باغ میں گھنٹوں کسی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر کسی ایسے انقلاب کے خواب دیکھتا تھا جو چشم زدن میں انگریزوں کی حکومت کا تختہ الٹ دے۔ سکولوں کو جاتی ہوئی لڑکیوں کے جُھرمٹ دیکھتا تھا اور ان میں سے کوئی اچھی سی لڑکی منتخب کرکے اس سے عشق لڑانے کے منصوبے تیارکرتا تھا۔ بم بنانے کے نسخے حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ بڑے بڑے گویوں کے گانے سنتا تھا اور کلاسیکل موسیقی کو سمجھنے کے لئے پیچ و تاب کھاتا تھا۔

میں نے اس زمانے میں شعر کہنے کی بھی کوشش کی۔ فرضی معشوقوں کے نام عطر لگا کر کاغذوں پر بڑے بڑے طویل محبت نامے بھی لکھے مگر بکواس سمجھ کر پھاڑ دیے۔ دوستوں کے ساتھ مل کر چرس کے سگریٹ پئے، کوکین کھائی، شراب پی مگر جی کی بے کلی دور نہ ہوئی۔

شدید آوارگی کے اسی دور میں مجھے رفیق غزنوی سے ملنے کی خواہش ہوئی۔ چنانچہ میں نے تکیوں میں، شراب خانوں میں اور رنڈیوں کے کوٹھوں پر جا جا کر پوچھا کہ رفیق غزنوی کہاں ہے مگرکسی نے اس کا ٹھور ٹھکانہ نہ بتایا۔ کئی بار سننے میں آیا کہ وہ امرتسر میں آیا ہوا ہے۔ میں نے ہر بار بڑی مستعدی سے اس کو ڈھونڈا مگر اس کا نشان نہ ملا۔

ایک دن پتہ چلا کہ وہ اپنے ایک دوست کے ہاں ٹھہرا ہوا ہے۔ اس کا یہ دوست ایک درزی تھا( میں اس کا نام بھول گیا ہوں ) اس کی بیٹھک ہمارے گھرکے پاس کرموں ڈیوڑھی کی ایک گلی میں تھی، جہاں وہ کام کرتا تھا۔ میں نے رفیق کو یہاں تلاش کیا، معلوم ہوا کہ وہ شہر کے باہر ایک غیر آباد سے علاقے میں مقیم ہے جہاں اس درازی کا گھر تھا۔ یہ پتہ مجھے بالے نے دیا۔ وہ بھی وہیں جارہا تھا۔ موقع بڑا اچھا تھا چنانچہ میں اس کے ساتھ ہولیا۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں یہاں بالے کا تعارف کرادوں۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ لوگ اسے بالا کنجر کہتے تھے۔ معلوم نہیں انسانوں کے ساتھ ان کے آباؤ اجداد کی ذات کیوں منسوب کردی جاتی ہے۔ بالا جیسا کہ میں جانتا ہوں نہایت خوش ذوق نوجوان تھا۔ تعلیم یافتہ، خوبصورت، ہنسوڑ، بذلہ سنج، شاعر مزاج۔ اس کی طبیعت میں وہ جوہر تھا جو کسی بھی انسان کو فن کی بلندیوں پر پہنچا سکتا ہے۔

اس کو معلوم تھا کہ لوگ اسے کس نام سے یاد کرتے ہیں لیکن اس کو اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ رہتا سہتا وہیں تھا جہاں عورتیں اپنا جسم بیچتی ہیں۔ اب وہ کراچی میں رہتا ہے اوراپنا فن بیچتا ہے۔ پچھلے دنوں مجھے ایک اخبار کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ وہ ایک مشہور مصور ہے جس کی تصویروں کی نمائش اہل نظر حضرات میں بہت مقبول ہوئی۔

بالا گاتا بھی تھا مگر اس کی آوار بھدی تھی۔ کیپٹن وحید، انور پینٹر، عاشق علی فوٹو گرافر، شاعر فقیر حسین سلیس، گیانی اروڑ سنگھ دندان ساز۔ ان سب کی ایک بوہیمانہ قسم کی ٹولی تھی۔ ان کا بیٹھنا اٹھنا زیادہ تر انور پینٹر کی یا گیانی اروڑ سنگھ کی دکان میں ہوتا تھا۔ یا ان کی نشست جیجے (عزیز) کے ہوٹل شیراز اور اس درزی کی بیٹھک ہوتی تھی جس کا نام میں بھول گیا ہوں۔

بھنک گھوٹی یا گوشت میں بھونی جاتی تھی اور طبلے کی تھاپ پر راگ راگنیاں، ٹھمریاں، د ادرے الاپے جاتے تھے۔ عاشق علی فوٹو گرافر کی آواز سریلی لیکن بہت پتلی تھی۔ وہ اکثر رفیق کی بحروں میں گاتا تھا۔ کیپٹن وحید طبلہ بجاتا تھا۔ انور پینٹر صرف داد دیتا تھا۔ گیانی اروڑ سنگھ دانت اکھیڑنا بھول کر خان صاحب عاشق علی خان(تان کپتان خان فتح علی خان کے فرزند) کی گھمبیر اور بالشت بھر چوڑی آوار میں اکثر پہاڑی سنایا کرتا تھا اور بالا صرف لطیفے۔ کبھی کبھی اپنی تازہ غزل۔ مجھے اس کی ایک غزل کا صرف ایک شعر یاد رہ گیا ہے

اشک مژگاں پہ ہے اٹک سا گیا

نوک سی چبھ گئی ہے چھالے میں

ہالے میں، شوالے میں، اجالے میں وغیرہ وغیرہ، اچھی غزل تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *