منٹو بت شکن اور صنم تراش تھا، اردو ادب کے سب سے بڑے آذر کا تراشا ہوا ایک مجسمہ: رفیق غزنوی


ہوٹل کے کمرے میں ہم تھوڑی دیر رہے۔ اس کے بعد باغیچے میں چلے گئے۔ میں وسکی کی بوتل اپنے ساتھ لایا تھا، چنانچہ ہم دیر تک پیتے اور باتیں کرتے رہے۔ اس دوران میں ایک دلچسپ واقعہ ظہور پذیر ہوا۔

ہم پی رہے تھے کہ ایک بھرے بھرے جسم اور اچھے خاصے ڈیل ڈول کی عورت آئی۔ اس نے رفیق کی طرف اپنی چُندسی آنکھوں سے دیکھا اور مسکرا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ رفیق نے اس کو گلاس پیش کیا جواس نے لے لیا۔ اس کے بعد رفیق نے میرا اس سے تعارف کرایا۔

وہ کوئی فلم زدہ عورت نہیں تھی۔ میں عورت ہی کہوں گا اس لیے کہ وہ لڑکپن کے حدود سے بہت آگے نکل چکی تھی۔ رفیق نے مجھے بتایا کہ وہ سکھ مذہب سے تعلق رکھی ہے اور کافی مالدار ہے۔ بمبئی صرف اس لئے آئی ہے کہ اشوک کمار کے صرف ایک بار درشن ہو جائیں۔ میں نے اس سے کہا۔ سالی چھوڑ اشوک کمار کو۔ اپنا ڈیل ڈول دیکھ۔ تمہاری چھاتی پر اگر اشوک کمار کو بٹھا دوں تو ایسا معلوم ہوگا کہ طوطا توپ چلا رہا ہے۔

ضلع جگت پَھبتی رفیق کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ یہ اس کی طبیعت بن چکا ہے۔ وہ سِکھنی (جس کا نام میں بھول گیا ہوں ) یہ پھبتی سن کر خاموس رہی لیکن رفیق نے بڑے زور کا قہقہہ بلند کیا اور دیر تک ہنستا رہا۔

یہ بھی اس کی عادت ہے کہ پھبتی کہے گا، چست ہو یا پُھسپُھسی، کوئی داد دے نہ دے لیکن وہ خود اپنے آپ کو خوب داد دے گا۔ اتنا ہنسے گا، اتنا شور مچائے گا کہ مجبوراً آپ کو بھی اس غل غپاڑے میں شریک ہونا پڑے گا۔

سِکھنی معمولی شکل و صورت کی تھی، موٹے موٹے نقش، بہت ہی تنگ ماتھا، مرد نما۔ رفیق اس سے باتیں کررہا تھا مگر مجھے احساس تھا کہ اسے اس عورت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کی باتیں محض برائے باتیں تھیں۔ وہ اس پر یہ ظاہر کررہا تھا کہ وہ اس سے جسمانی رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے مگر اس کے دل و دماغ پر اشوک کمار سوار تھا۔ رفیق نے جب زور دیا تو وہ ٹھیٹ دیہاتی سِکھنیوں کے انداز میں جھنجھلا کر بولی۔ ”سن لے رفیق، میں کتوں۔ “

رفیق نے فوراً اسے ٹوکا۔ ”بس بس بس۔ تم نہیں جانتی ہو، میں بہت بڑا کتا ہوں بڑی اعلیٰ نسل کا۔ “

نسل وسل کے متعلق میں کچھ نہیں جانتا لیکن میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ رفیق غزنوی واقعی بہت بڑا کتا ہے جس کی دُم صرف طوائفیں ہی ہلا سکتی ہیں، کوئی شریف خاتون لاکھ پچکارے، چمکارے اس کی دُم میں خفیف سے بھی جنبش پیدا نہیں ہوگی۔

یہ میری اس کی پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد ہم ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہے۔ میں یہاں اس کے کردار کا ایک اور پہلو واضح کردوں کہ وہ اول درجے کا کمینہ، سفلہ اور خود غرض ہے۔ اپنی ذات اس کے لیے سب سے مقدم ہے۔ وہ کھانا جانتا ہے، کھلانا نہیں جانتا لیکن مطلب ہوگا تو وہ بڑی پرتکلف دعوتیں بھی کرے گا مگر ان دعوتوں میں وہ بھی مہمانوں کا کچھ خیال نہ کرتے ہوئے سب سے پہلے مرغ کے بہترین حصے اپنی پلیٹ میں ڈال لے گا۔

وہ دوستوں کو بہت کم سگریٹ پیش کرتا ہے۔ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں جب مجھے بڑی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک اسٹوڈیو میں اس سے ملاقات ہوئی۔ جنگ کا زمانہ تھا سگریٹوں کے تمام اچھے برانڈ بلیک مارکیٹ میں بکتے تھے۔ میں نے اس کے ہاتھ میں ’کریون اے‘ کا ڈبہ دیکھا۔ یہ میرے مرغوب سگریٹ ہیں۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر ڈبہ پکڑنا چاہا مگر اس نے اپنا ہاتھ جھٹک کر ایک طرف کرلیا۔ میں نے کہا۔ ”ایک سگریٹ دینا یار۔ “

رفیق نے پیچھے ہٹ کر ڈبہ اپنی جیب میں ڈال لیا۔ ”نہیں منٹو۔ اولاً میں اپنا سگریٹ کسی کو دیا نہیں کرتا۔ ثانیاً یہ سگریٹ اعلیٰ درجے کے ہیں۔ تمہاری عادت بگڑ جائے گی۔ تم اپنے گولڈ فلیک پیا کرو۔ “

میرے جاننے والے تین چار آدمی پاس کھڑے تھے۔ میں پانی پانی ہوگیا، سمجھ میں نہ آیا کیا کہوں اور کیا کروں۔ ناچار کھسیانا ہو کر اپنی ٹانگ نوچنا شروع کردی۔

رفیق پرلے درجے کا بے غیرت، کہنے کو تو پٹھان ہے لیکن غیور قطعاً نہیں۔ سنا ہے کہ پہلے اس کا سلسلہ زہرہ کی ماں سے تھا۔ اس کے بعد اس کی بڑی لڑکی مشتری سے ہوا۔ پھر زہرہ کی باری آئی، آخر میں شیداں کی۔

مجھے معلوم نہیں شیداں سے اس کا ٹانکا کیسے ملا۔ اتنا یاد ہے وہ ان دنوں ماہم میں رہتا تھا۔ اینگلیٹومینشن کی بالائی منزل پر اس کا فلیٹ تھا۔ اس کے سامنے میری بہن رہتی تھی۔

میری شادی ہو چکی تھی اور میں اڈلفی چیمبرز، کلیئر روڈ میں مقیم تھا۔ رفیق کا ہمارے یہاں آنا جانا تھا۔ ریڈیو اسٹیشن پر بھی ہماری اکثر ملاقات ہو جاتی تھی۔ ایک روز وہ اپنا پروگرام ختم کرکے اسٹوڈیو سے باہر نکلا تو بڑی افراتفری میں تھا۔ دیر کے بعد ملا تھا اس لیے میں نے پوچھا۔ ”سناؤ رفیق کیا ہورہاہے آج کل۔ “

اس نے جواب دیا۔ ”عشق ہورہے ہیں۔ دبلے ہو رہے ہیں۔ “ واقعی عشق ہورہے تھے کیوں کہ ایک دن معلوم ہوا کہ زہرہ کی چھوٹی بہن خورشید (شیداں ) نے افیم کھالی ہے۔ (زہرہ بھی چُنیا بیگم کی عاشق ہے ) دونوں بہنوں میں زبردست چخ ہوئی تھی۔ زہرہ کو سخت ناگوار گزرا تھا کہ شیداں اس کے خاوند کو اس سے چھین رہی ہے۔ الھڑ جوان شیداں جس کو معلوم نہیں اس کا پھیکو بھائی جان اسے محبت کے کتنے جام پلا چکا تھا، سر سے پیر تک نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ وہ جو کہتے ہیں عشق اور جنگ میں ہر ایک چیز جائز ہے، خود کو حق بجانب سمجھتی تھی اور پھر اور خود رفیق اس کی طرف مائل تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس کی بڑی بہن معترض کیوں ہے۔ چخ زبردست لڑائی کی شکل اختیارکرگئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شیداں نے زہرہ کی افیم اڑاکر نگل لی تاکہ عشق کی راہ میں اپنی جان دے دے۔ لیکن جس کو اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ وہ شہادت کا رتبہ حاصل کرتے کرتے بچ گئی اور اس حادثے کا انجام بخیریوں ہوا کہ رفیق، زہرہ کے دل کا مکان خالی کرکے شیداں کے دل کی نئی کوٹھی میں اقامت پذیر ہوگیا۔

سنا ہے کہ تعطیلوں میں وہ کبھی کبھی شیداں کی موٹی بہن ہیراں کے ڈل کے ڈاک بنگلے میں بھی ٹھہر جایا کرتا تھا۔ رہے نام اللہ اور اس کے ایک ناچیز بندے رفیق غزنوی کا۔

جب رفیق کا عشق زوروں پرتھا، اس زمانے میں لیڈی جمشید جی روڈ ماہم کے گلشن محل میں لاہور کے ایک لالہ جی آکے ٹھہرے۔ آپ کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی زیب النساء تھی۔ لالہ جیب عجیب و غریب آدمی تھے۔ آگ لگانے کو بھی روپیہ کافی تھا۔ ان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ ان کی زیب پسِ پردہ کیا کرتی ہے، کیا نہیں کرتی۔ وہ اپنے چغدپنے میں مست رہنا چاہتے تھے۔ رفیق دو ایک مرتبہ لالہ جی سے ملنے آیا تو اس کی آنکھ زیب سے لڑ گئی۔ لڑکی سادہ لوح تھی۔ غریب نے گھرکی سب اچھی چادریں، غلاف، دریاں وغیرہ رفیق کے حوالے کردیں۔ اس کو کھاتی پلاتی بھی رہی لیکن رفیق بہت جلد اس سے اکتا گیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔ ”بڑی شریف عورت ہے۔ مجھے لطف نہیں آتا۔ “

رفیق کو عورت میں شرافت بہت بری طرح کَھلتی ہے معلوم نہیں کیوں۔ یہی ہو سکتا ہے کہ اس کا واسطہ چونکہ شروع ہی سے ایک ایسے طبقے کی عورتوں سے پڑا تھا، فحش کلامی اور جگت بازی جن کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے، جو سستے اور بازاری قسم کے مذاق کرتی ہیں اور ایسے ہی ہنسی ٹھٹھے کی دوسروں سے توقع کرتی ہیں اس لیے رفیق کے لیے شریف خواتین میں کوئی کشش نہیں تھی۔ اس کی جسمانی حسیات کو بیوی پنا بیدار نہیں کر سکتا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7