منٹو بت شکن اور صنم تراش تھا، اردو ادب کے سب سے بڑے آذر کا تراشا ہوا ایک مجسمہ: رفیق غزنوی
کہنے کو تو وہ ہر اس طوائف کا شوہر تھا جو اس کی ’نیم بائرانہ‘ زندگی میں آئی لیکن در حقیقت وہ اس کا گاہک تھا۔ عام گاہک نہیں۔ خاص گاہک( جو طوائف سے لیتا ہے، اس کو دیتا نہیں ) جیسا کہ رفیق اپنی ابتدائی زندگی میں تھا۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ زندگی بھی رفیق کے نزدیک ایک طوائف ہے۔ وہ ہر رات اس کے ساتھ سوتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی پہلے سانس کے ساتھ وہ اس سے جگت بازی شروع کردیتا ہے۔ اس کا گانا سنتا ہے، اپنا سناتا ہے، پھکڑ بازی ہوتی ہے اور یوں ایک دن ختم ہو جاتاہے۔
میں نے اس کو کبھی ملول نہیں دیکھا۔ وہ بے حیا ئی اور ڈھٹائی کی حد تک ہر وقت خوش رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تندرست ہے۔ اتنی عمر ہونے پر بھی آپ اسے معمر نہیں کہہ سکتے بلکہ جوں جوں اس کی عمر میں اضافہ ہورہا ہے وہ جوان ہوتا چلا جارہا ہے۔ مجھے کوئی تعجب نہیں ہوگا اگر سو برس پورے ہونے پر ننھا منا بچہ بن جائے اور انگوٹھا چوسنا شروع کردے۔
وہ شیواجی پارک میں رہتا تھا۔ شیداں کے ہاں مردہ بچہ پیدا ہوا۔ میں اور میری بیوی افسوس کرنے گئے تو ایک عجیب و غریب تماشا دیکھنے میں آیا۔
رفیق فرش پر قراقلی ٹوپی پہنے نماز پڑھنے کے انداز میں بیٹھا تھا۔ میں اندر داخل ہوا تو دوسرے کمرے سے زہرہ سیاہ ماتمی لباس میں نمودار ہوئی۔ بال کھلے تھے اور آنکھیں نمناک۔ اس کے ساتھ اس کا شوہر مرزا تھا جو رفیق کے لڑکے کی موت سے بہت متاثر دکھائی دیتا تھا۔ دوسرے کمرے میں شیداں کے رونے کی آواز آئی تو زہرہ لپک کر اندر گئی اور بلند آوار میں اس کو دلاسا دینے لگی۔ میں رفیق کے پاس مبہوت بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یا اللہ یہ کیا مذاق ہے۔
رفیق کسی زمانے میں زہرہ کا خاوند تھا۔ اس کے بطن سے رفیق کے دو بچے تھے جو اس کمرے سے اس کمرے میں جاتے اور کبھی اس کمرے سے اس کمرے میں جاتے۔ رفیق اب زہرہ کی بہن شیداں کا شوہر ہے اور زہرہ کا مرزا۔ شیداں، زہرہ کی بہن تھی اور سوت بھی۔ رفیق کے بچے شیداں کے کیا لگتے تھے۔ بہن کے رشتے سے ظاہر ہے، پروین بھانجی اور محمود بھانجا اور شیداں کے جو مردہ لڑکا پیدا ہواوہ زہرہ کا بھانجا۔ پروین اور محمود کا رشتہ رفیق کے نطفے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس مردہ لڑکے سے جو ہوا وہ ظاہر ہے۔ رفیق اور مرزا دونوں ایک دوسرے کے ہم زلف ہوئے۔ میں چکرا گیا لیکن رفیق نے بروقت مجھے اس الجھن سے نجات دی اور کہا، آؤ باہر چلیں۔
ہم برآمدے میں پہنچے تو رفیق نے قراقلی اتار کر زور سے ایک طرف پھینکی اور سگریٹ سلگا کر کہا۔
”دُرفِٹے منہ۔ غم کرتے کرتے چہرہ لمبوترا ہوگیا ہے۔ “ اور کھکھلا کرہنسنے لگا۔
عرصہ ہوا، میں بمبئے سے اپنے کسی مقدمے کے سلسلے میں لاہور آیا۔ ان دنوں رفیق بھی وہیں تھا۔ اس سے ملاقات سید سلامت اللہ شاہ کے نیلام گھر میں ہوئی۔ اللہ بخشے شاہ صاحب بڑے رنگیلے آدمی تھے۔ میں نے ان سے رفیق کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اندر کمرے میں ہے اور بہت خوش ہے۔
معلوم ہوا کہ وہ امرتسر میں اپنی بیٹی زرینہ المعروف نسرین (انوری کے بطن سے ) سے ملاقات کر کے آیا ہے۔ رفیق نے اس کا بچپن دیکھا تھا۔ اس کی جوانی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اصل میں انوری نے کوئی ایسا موقع ہی نہیں آنے دیا تھا کہ نسرین اپنے باپ کو دیکھ سکتی۔ اس سے یہی کہا گیا تھا کہ وہ بہت بدصورت اور بدمعاش ہے۔
رفیق کے دوستوں نے مل جل کر منصوبہ بنایا اور باپ بیٹی کی ملاقات کا انتظام کردیا۔ رفیق امرتسر پہنچا اور زرینہ سے ملا۔ رفیق نے مجھ سے کہا۔ ”منٹو۔ سروقد، بے حد خوب صورت، جوانی سے بھرپور، میں نے جب اسے بازوؤں میں بھینچا تو خدا کی قسم مزا آگیا۔ “
میں اس کے ان الفاظ پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔
رفیق نے مجھے بتایا کہ وہ رخصت ہونے ہی والا تھا کہ انوری آن ٹپکی۔ ہلکی سی چخ ہوئی۔ رفیق نے اس سے کہا۔ ”خاموش اہ انوری۔ شکریہ ادا کر کہ تجھے ایک سونے کی کان کا مالک بنا دیا ہے میں نے۔ “
معلوم نہیں رفیق نے ایسی سونے کی کانیں کس کس کو عطاء کی تھیں۔ روزِ محشر جب کھدائی ہوگی، اسی وقت پتہ چل سکے گا۔ ویسے رفیق نے ایک بار مجھ سے کہا۔ ”مجھے معلوم نہیں میرے بچے بچیوں کی تعداد کتنی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ سب سے بڑا مردم شمار ہے۔ “
رفیق کی ایک ”سگی“ بیوی بھی تھی یعنی سہرے جلوؤں کی بیاہی۔ یہ غریب شادی کے تین چار سال بعد ہی مر گئی۔ اس کے بطن سے ایک لڑکی ظاہرہ ہے جو پہلے فلم ڈائریکٹر ضیاہ سرحدی کی بیوی تھی اور اب طلاق لے کر کراچی میں اپنے باپ کے ساتھ رہتی ہے۔
مجھے اس لڑکی کی زندگی کی قبل از وقت تباہی کا بہت افسوس ہے اور میں سمجھتا ہوں اس تباہی میں رفیق کا ہاتھ ہے اس لیے کہ وہ ہمیشہ اس کو اپنی زندگی کا سانحہ پیش کرتا تھا اور کہتا تھا، تم اس میں ڈھل جاؤ۔ یہ حقیقت اس کی آنکھوں سے معلوم نہیں کیوں اوجھل رہی؟
نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ آج ایک عبرت انگیز خرابے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کی شادی کے متعلق بمبئے میں ایک جھگڑا سا پیدا ہوگیا تھجا۔ وہ بھی رفیق کی غفلت کے باعث۔ اس کو دورکرنے کے لیے اس نے زہرہ سے کہا۔ ”دیکھ پتر، تو نذیر لدھیانوی سے شادی نہیں کرنا چاہتی نہ کر۔ ضیاء سرحدی سے کر۔ تذبذب میں ہے تو دونوں سے کر۔ اگر یہ تمہیں دھوکا دے گئے تو کوئی فکر نہ کرنا۔ میں تیرا سب سے بڑا خاوند ہوں، تیرا باپ۔ “
نذیرلدھیانوی کو ظاہرہ نے دھوکا دیا، ظاہرہ کو ضیاء سرحدی نے۔ اب وہ اپنے سب سے بڑے خاوند۔ اپنے باپ رفیق غزنوی کے پاس ہے۔ بیڑیاں پیتی ہے اور ان کی راکھ میں اپنی جوانی کی وہ تمام چلبلاہٹیں کُرید کُرید کر نکالنے کی ناکام کوشش کرتی ہے جو کوئی مستقل سنجیدہ شکل اختیار کرسکتی تھیں۔
میں ظاہرہ کے متعلق اور کچھ نہیں کہوں گا اس لیے کہ میرے دکھ میں اضافہ ہوگا۔
رفیق میں کھنلڈرہ پن اس عمر میں بھی موجود ہے۔ چھوٹی سی بات ہوگی اور وہ ہنس ہنس کر اپنا برا حال کرلے گا۔ بہت خوش ہوگا تو اچھلنا کودنا شروع کردے گا۔
ہم فلمستان میں ”چل چل رہے نوجوان“ بنا رہے تھے۔ ہیرو اشوک اور ہیروئن نسیم بانو( پری چہرہ) تھی۔ رفیق اس میں ایک رول ادا کررہا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ نسیم کی ماں چھمیاں (شمشاد) کو جانتا ہے جو کسی زمانے میں دلی کی قیامت خیز طوائف تھی۔
دلی میں ایک رات اسے چھمیاں کے بالا خانے پر جانے کا اتفاق ہوا۔ چمیاں گارہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ بلوریں صراحی سے جام بھر بھر کر پی رہی تھی۔ مجرا سننے والے اور بھی تھے۔ شہر کے رئیس۔ چھمیاں اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور اشارے سے اپنے پاس بلا کر ایک جام پیش کیا۔ رفیق پیتے گئے اور وہ پندرہ روز تک اس کے بالا خانے میں زیر حراست رہا۔
میں نے نسیم سے اس کا تعارف کرایا۔ رفیق نے اس کو جب دلی میں دیکھا تو وہ چھوٹی سی بچی تھی جو بقول رفیق ہر وقت چُنریا اوڑھے ادھر ادھر پھدکتی رہتی تھی۔
نسیم، رفیق کو جانتی تھی۔ ان میں جو گفتگو ہوئی بہت پرتکلف تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نسیم ادب آداب اور رکھ رکھاؤ محلوظ رکھتی ہے۔ اس نے رفیق کو ایسا کوئی موقع نہ دیا کہ وہ ”ڈھیلی“ قسم کی بات کرسکتا لیکن وہ اسی میں خوش تھا۔ اتنا خوش کہ میرے کمرے میں پہنچتے ہی اس نے بے تحاشا ناچنا شروع کردیا۔ نسیم کے حسن کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتا وہ میز پر چڑھا۔ وہاں سے دھم کرکے فرش پر گرا اور لوٹنے لگا۔ لوٹتے لوٹتے میز کے نیچے چلا گیا۔ اٹھا تو اس کا سرتڑاق سے اس کے ساتھ ٹکرایا۔ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کے نیچے سے نکلا اور گانے لگا۔
وہ چلے، جھٹک کے دامن میرے دست ناتواں سے
وہ۔ وہ۔ وہ چلے۔ وہ چلے۔ وہ چلے
میرا خیال ہے رفیق چاہتا تھا کہ نسیم بانو سے بھی سلسلہ ہو جائے مگر انگور کھٹے تھے۔ اس لیے اس نے کوشش فضول سمجھی اور اسے دیکھ دیکھ کرہی اپنا ”جی پشوری“ کرتا رہا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں




