گل بانو کی شادی کی پہلی رات اور اسپتال
” بسمہ، گل بانو کی ڈیتھ ہوگئی ہے“
بسمہ کو لگا اس کے ہاتھوں پیروں کی جان نکل گئی وہ پیچھے دیوار کے سہارے بیٹھتی چلی گئی۔ فائزہ نے ایک دم اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر بسمہ سے اٹھا ہی نہیں گیا۔ اس کے لیے دونوں ذہنی جھٹکے بہت شدید تھے۔ ارمغان فوراً بھاگ کے ذرا دور لگے الیکٹرک کولر سے پانی لے آیا۔ دونوں سہیلیاں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہیں زمین پہ بیٹھی رو رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد فائزہ نے خود کو سنبھالا۔
”ارمغان پلیز اس کے بھائی کو بلا کر لے آؤ اس سے کہنا بسمہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے رکشا لے کر آئے تو میں اسے گھر لے جاتی ہوں۔ ٹیچر نرگس کو بھی بتا دینا۔ “
کچھ ہی دیر بعد رکشا آگیا اور فائزہ اسے سہارا دے کر رکشے تک لائی۔ بسمہ کا جسم ابھی بھی بے جان ہورہا تھا۔ وہ فائزہ کے کندھے پہ سر رکھ کر بیٹھ گئی۔ رکشا چل پڑا۔ کچھ دیر بعد بسمہ کو خیال آیا
”فائزہ تجھے گل بانو کا کس نے بتایا“
”یار تو اٹھ کے گئی تو پیچھے سے اسد آگیا میں نے اسے بتایا کہ اس کی کلاس ٹیچر نے حمزہ کو کال کرنے کا کہا تھا، اس کی پہلے ہی بات ہوگئی تھی حمزہ سے کہ اس کی بات ہوگئی وہ گھر والوں کے ساتھ دو دن سے گاؤں میں ہے آج بانو کی فاتحہ تھی۔ “
”ہوا کیا تھا اسے“
”زیادہ تو نہیں پتا شاید ڈلیوری کے وقت جسم میں زہر پھیل گیا یہی اندازہ ہوا مجھے اسد کی بات سے۔ “
اس کے بعد وہ دونوں ہی چپ ہوگئیں۔ پورا رستہ بسمہ کو پورا رستہ گل بانو کے ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ یاد آتا رہا۔ گل بانو اس کے لیے آئیڈیل تھی، ایک مکمل لڑکی کو جیسا ہونا چاہیے۔ دھیما مزاج، مضبوط کردار، اور زمانے کی نزاکت کو سمجھ کے چلنے والی۔ ایک دم اس کا دل بھر آیا۔ اگر گل بانو ساتھ ہوتی تو آج اس کے ساتھ یہ نہ ہوتا جو ہوا گل بانو اسے پہلے ہی سنبھال لیتی۔ گل بانو نے ہمیشہ سچی دوست ہونے کا حق ادا کیا مگر جب اسے ضرورت تھی تو بسمہ کچھ بھی نہیں کرپائی۔ بسمہ کے دل میں حسرت سی اٹھی
”کاش مجھے پتا چل جاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ کاش میں اسے بچا سکتی“
گھر پہنچ کر فائزہ نے بسمہ کو سہارا دے کر اتارا وہ دونوں گھر میں داخل ہوئیں تو امی اور دادی اسے ایسے سہارا لے کر آتے دیکھ کر گھبرا گئیں۔ امی تیزی سے آگے آئیں۔
”کیا ہوابسمہ میرا بچہ“
”آنٹی وہ گل بانو۔ “ فائزہ بتانے لگے مگر بسمہ نے اس کا ہاتھ کھینچا
”چھوڑ فائزہ انہیں پتا ہوگا“ اس کے لہجے میں تلخی بھی تھی اور شکستگی بھی۔
”کیا ہوا گل بانو کو۔ کیا پتا ہوگا۔ ارے کچھ بتاؤ تو لڑکیو“
”آنٹی اس کا بی پی بہت لو لگ رہا ہے، میں کمرے میں لٹا کے آؤں پھر بتاتی ہوں۔ “ فائزہ نے جاتے جاتے مڑ کر جلدی سے جواب دیا۔
فائزہ اسے لٹا کر فوراً باہر نکل گئی پانچ منٹ بعد واپس آئی تو پیچھے امی بھی تھیں۔ فائزہ کے ہاتھ میں گلوکوز کا گلاس تھا۔ فائزہ نے اسے گلاس پکڑایا امی خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑ کر کچھ دیر چپ بیٹھی رہیں۔ پھر بولیں
”اسی لیے نہیں بتاتے تجھے کچھ، فوراً دل پہ لے لیتی ہے مگر سچی بات ہے، اللہ گواہ ہے، گل بانو کے انتقال کا ہمیں بھی نہیں پتا تھا ابھی فائزہ نے بتایا۔ “
بسمہ چپ رہی مگر اس کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ اسے زیادہ یقین نہیں آیا۔
اس کے بعد سب کے درمیان ایک ان کہا سا معاہدہ ہوگیا، کوئی گل بانو کی بات نہیں کرتا تھا۔ فائزہ اور بسمہ کو لگتا تھا کہ سہیلی ہونے کے ناتے ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ تکلیف میں تھی تو کسی نہ کسی طرح اس کی مدد کی جاتی۔ مگر کیا تکیلف تھی کتنی شدید تھی اس کا وہ اندازہ نہیں کرسکتی تھیں بس ایک احساسِ ندامت تھا جو مسلسل ساتھ تھا۔
امتحان شروع ہوگئے، ایسا لگنے لگا جیسے سب ٹھیک ہوگیا ہے۔ نارمل زندگی شروع ہوگئی ہے۔ مگر بسمہ کو پتا تھا سب نارمل نہیں ہے۔ اب رات رات بھر تکیے پہ سر رکھے جاگتی رہتی۔ کوئی سوچ کوئی رومانوی خیال کچھ نہیں، بس جیسے جمود طاری ہوگیا ہو۔ امتحان ختم گئے تو پریکٹیکلز کی تیاری میں لگ گئی۔
مگر کچھ دنوں سے گھر میں کچھ الگ ہلچل نظر آرہی تھی۔ ایک دو دفعہ گھر میں آنے والی خواتین بالکل نامانوس لگیں امی نے کہا میری پرانی جاننے والیاں ہیں مگر بسمہ کو لگا معاملہ کچھ اور ہے۔ ایک دن امی نے صبح صبح دونوں بہنوں کو بلا لیا اور کافی دیر بند کمرے میں کیا چلتا رہا بسمہ کو اندازہ نہیں ہوپایا۔ اس میں اتنی عقل تو تھی کہ اندازہ ہوجائے یہ سب کسی نا کسی حوالے سے اس کی شادی سے تعلق رکھتا ہے۔ شام تک معاملہ کھل بھی گیا۔
تھیں تو وہ امی کی جاننے والی ہی مگر بسمہ کو دیکھنے آئی تھیں پہلی دفعہ والی خواتین کو بسمہ کا قد چھوٹا لگا تھا مگر دوسری دفعہ والی خواتین جو لڑکے کی بھابھی بھی تھیں اور مڈل مین کا کردار ادا کر رہی تھیں انہوں نے کل شام ہی بتایا کہ باقی گھر والوں کی ریکوائرمنٹ کے حساب سے بسمہ میں تقریباً سب خصوصیات ہیں تو آج سب فارملی بسمہ کو دیکھنے آئیں گے اسی لیے امی نے صبح سے دونوں بہنوں کو بلایا ہوا تھا اور یہ بات چیت چل رہی تھی کہ اگر ان کی طرف سے ہاں ہوگئی تو یہاں سے کیا جواب دینا ہے۔ شام تک لڑکے والوں کو آنا تھا۔ اسماء آپی اور بشریٰ آپی نے اس کے کمرے میں آکر سوٹ کھنگالنے شروع کر دیے۔ بشریٰ آپی نے ایک سوٹ نکالا اور بسمہ کا دل رک سا گیا۔ بلیک اینڈ ریڈ ایمبرائڈڈ سوٹ۔
”بسمہ واہ یہ تو بہت زبردست سوٹ ہے کب لیا تم نے بس یہی پہن لو، ہیں نا آپی“ انہوں نے اسماء آپی سے تصدیق بھی چاہی جو انہوں نے سر ہلا کر دے دی۔
”ہاں واقعی کافی پیاری کُرتی ہے“ اور بسمہ کے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں۔ وہ کیا بتاتی کہ یہ سوٹ کیا سوچ کے لیا تھا۔ ایک دفعہ پہلے بھی اس نے اپنی نمائش لگائی تھی اب دوبارہ شاید یہی ہونے جارہا تھا۔ ایسا نہ بھی ہو مگر اسے ایسا ہی لگ رہا تھا۔ جیسے اس کی ذات مردوں کے سامنے پیش کی جارہی ہو۔ جو تذلیل اسلم کے رویئے سے محسوس ہوئی تھی وہی آج یہی سوٹ پہن کر تیار ہونے کے مشورے پہ محسوس ہوئی۔ اسے فائزہ کی جو بات تب سمجھ نہیں آئی تھی اب سمجھ آگئی۔ جب اس نے کہا تھا بسمہ خدا کے لیے خود کو نمائش کی چیز نہ بنا۔ وہ چپ کھڑی تھی۔ اتنے میں دادی اندر آگئیں ”ارے کیوں دیر لگا رہی ہو لڑکیو، نکال چکو کپڑے تو یہ تیار ہو۔ “
دادی یہ دیکھیں یہ سوٹ پیارا لگے گا نا ہماری بسمہ پہ ”
بشریٰ آپی نے انہیں بھی دکھایا
”پاگل ہوگئی ہو کیا؟ یہ سیاہ رنگ آج پہناؤ گی بی بی خوشی کے موقع پہ ایسے رنگ نہیں جچتے نا ہمیں راس آتے ہیں۔ فوراً رکھو اسے کوئی شوخ رنگ نکالو“
بسمہ نے سکون کا سانس لیا۔ سوٹ تو بدل گیا مگر آگہی کا جو نیا در کھلا وہ ابھی کھلا ہی تھا۔
مہمان آئے بھی اسے دیکھ کے چلے بھی گئے کافی خوش اور مطمئین بھی لگ رہے تھے مگر بسمہ کو مسلسل اپنا آپ دکان پہ سجے مال جیسا لگتا رہا۔ اس کو ہر ہر پہلو سے جانچا گیا کردار پرکھا گیا۔ بس شاید دانت گننے کی کسر رہ گئی۔ یہ خیال آتے ہی اس کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ آگئی۔ وہ اب کمرے میں بیٹھی چوڑیاں اتار رہی تھی۔ دادی اب امی کے کمرے میں تھیں جہاں سب بڑے بیٹھے فیصلہ کر رہے تھے۔ تبھی بشریٰ آپی کمرے میں آئیں۔
”بسمہ! کہاں گم ہو ابھی تو تم نے اپنے اُن کو دیکھا بھی نہیں“ بسمہ کو ان کا انداز عجیب لگا ایسی بے تکلفی تو کبھی نہیں تھی اُن سے۔
”یہ لو دیکھ لو ہمارے دولہا بھائی کیسے ہیں“ بشریٰ آپی اسے نے ایک تصویر پکڑا دی اور واپس مڑ گئیں۔
تصویر لینے اور ان کے جانے تک کی ذرا سی دیر میں اسے یہ تو اندازہ ہوگیا کہ فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی تصویر پہ نظر ڈالی۔
پچیس چھبیس سال کا کافی خوبرو لڑکا جو کیمرے میں دیکھ کے مسکرا رہا ہوگا مگر بسمہ کو لگا اسی کو دیکھ رہا ہے۔
کافی دیر میں پہلی بار اسے خوشگوار احساس ہوا۔

