نیوٹن کا تیسرا قانون (لنڈے کے لبرل مت پڑھیں )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2

ایسی وبا پھیلی ہے کہ ساری دنیا ایک دوسرے سے منہ چھپانے پر مجبور ہو چکی ہے جیسے کسی زمانے میں ہمارے محلے سے قریشی صاحب کی سب سے چھوٹی لڑکی اپنے کسی چاہنے والے کے ساتھ بھاگ گئی تو سارا قریشی خاندان منہ چھپائے پھرتا تھابڑے قریشی صاحب نے تو گھر سے ہی نکلنا چھوڑ دیا، نکلے بھی تو چار کندھوں پر اور جا کے بڑے قبرستان میں دفن ہو گئے۔ اس وبا میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے سارے شہر کی چھوٹی بڑی سب بیٹیاں اپنے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بھاگ گئی ہوں اور سب ایک دوسرے سے منہ چھپائے پھرتے ہوں، گھروں میں قید ہو گئے ہوں۔

میں حکومت کی طرف سے شہروں کی بندش کی افواہیں پھیلتے ہی کھانے پینے کی چیزوں کا ذخیرہ کرنا شروع کر چکا تھا۔ اس پر میری بیوی مجھے سنکی سمجھنے لگی۔ اس کا خیال تھا کہ وبا کے پردے میں حکومت ملکی اکانومی کو تیز کرنے کے لئے چال چل رہی ہے اور میں حکومت کے جھانسے میں آرہا ہوں، ایسے کیسے پورا ملک بند کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اس بندش کا باقاعدہ اعلان ہوا سب گھروں میں بند کر دیے گئے تو بیگم نے میری دوراندیشی کی داد دی۔ میرا خیال ہے پہلے مجھے آپ کو اپنے بارے میں سرسری طور پر بتا دینا چاہیے تاکہ آپ کو یہ نہ لگے کہ آپ کسی اجنبی سے بات کر رہے ہیں۔

میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور اسلام آباد کی ایک سرکاری کالونی میں بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ میری بیگم ایک سکول میں فزکس پڑھاتی ہیں اور ہما رے دو بچے ہیں بیٹی ماشاءاللہ تیرہ سال کی ہے اور بیٹا سات سال کا ہونے والا ہے۔ ایک سرکاری ملازم کا اس سے زیادہ تعارف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اب آگے بڑھتے ہیں۔ ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ شروع شروع میں تو ہم سب کو Paid چھیٹوں کے مزے آنے لگے لیکن پھر اکتاہٹ ہونے لگی۔ دس دن بعد جب حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع کی تو اکتاہٹ خوف میں بدل گئی۔ سب کو اندازہ ہو گیا کہ دوسرے ملکوں کی طرح ہم بھی اس وبا کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ اب ہمارے مردے بھی غسل دیے بغیرگڑھوں میں گاڑ دیے جائیں گے۔

ٹی وی پر خبریں آئیں کہ ہمارے ملک میں شیعہ زائرین ایران سے اس وبا کا بیج لائے ہیں اور جگہ جگہ پھیلا بھی چکے ہیں۔ ہماری نا اہل سرکار کی غفلت نے پورے ملک کو ایسی سڑک پر ڈال دیا تھا جو سیدھی قبرستان جا کے ختم ہوتی تھی۔ حکومت کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ وبا ایران میں سینکڑوں لوگوں کو نگل چکی ہے پھر بھی زائرین کے لئے باڈر کھول دی گئی۔ اللہ جانے یہ فیصلہ کرنے والوں نے فیس بک پر چلنے والی یہ حدیث کیوں نہیں پڑھی جس میں حکم دیا گیا ہے کہ جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے تو اس علاقے سے نہیں نکلنا چاہیے۔ لیکن سرکاری ارسطوؤں نے آقا کی حدیث کو پشت کر کے اس وقت تفتان باڈر کھول دی جب دنیا کا ہر ملک اپنی سرحدوں کو بند کر رہا ہے۔ گاڑیاں چل رہی ہیں نہ جہاز اور نہ ہی کارخانے، چین کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے، اٹلی میں لوگ تھوک کے حساب سے مر رہے ہیں، دنیا کی اکانومی لڑکھڑا کے رہ گئی ہے اور تو اور بیت اللہ شریف کا طواف رک گیا ہے لیکن نہیں رکے تو ایران سے آنے والے زائرین نہیں رکے۔

ہم میں سے کوئی بھی پچھلے دس دن سے گھر سے نہیں نکلا۔ بیگم اپنے سٹوڈنٹس کو آن لائن ٹیوشن پڑھاتی رہتی ہے اور میں وٹس ایپ پر آنے والی خبریں پڑھتا رہتا ہوں۔ کل وہ ان کو نیوٹن کے تیسرے قانون کا سبق پڑھا رہی تھی کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے ہم نے بھی میڑک کی فزکس میں اس قانون کا رٹا لگایا تھا لیکن اس وبا میں پہلی بار اس قانون کی ٹھیک طرح سے سمجھ آئی ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ کرونا کی وبا زمین کا ردعمل ہے ہم نے اس بے چاری کے ساتھ جتنے ظلمکیے ہیں اب ان کا حساب دینے کا وقت آگیا ہے ہم نے جنگل کاٹے، دریاؤں میں پلازے کھڑے کر دیے، کارخانوں کے دھوئیں نے کائنات کے سینے میں چھید کر دیا، جو کھیت سال میں دو بار فصل دیتا تھا اسے کھادوں کی مار دے دے کر چار فصلیں دینے پر مجبور کیا۔ زمین کے ساتھ انسان کے غیر انسانی سلوک کا یہی ردعمل ہونا تھا۔

آج 30 دن ہو گئے، ساری دنیا اپنے گھروں کے اندرقید ہے اور زمین سانس لے رہی ہے۔

3

پچھلے تین دن سے محلے کی چوک میں پڑے پھٹے پر سگریٹ کے کش لگاتے بہت سے نکمے سیکیورٹی کیمرے بنے زوار شاہ اینڈ فیملی کی راہ دیکھ رہے تھے ان میں سے کچھ وہ سامان دیکھنے کے لئے بیٹھے تھے جو زوار شاہ نے لانا تھا تاکہ گھر کے سامان کی مقدار دیکھ کر اندازہ لگا سکیں کہ پویس والا کس درجے کا حرام خور ہے کچھ اس کے گھر کے افراد کی تعداد جاننے کے لئے بے تاب تھے۔ لیکن ریاض بھینگا اس لئے بیٹھا تھا کہ وہ ان گاڑیوں سے سامان اتروانے میں مدد کرکے سو دو سو کی دیہاڑی لگا لے گا

 ”اوئے جا یار اپنے اڈے پر جا کے مزدوری ڈھونڈ۔ یہاں کیوں اپنا ٹائم ضائع کر رہا ہے“ ایک نکمے نے دیہاڑی کی آس میں بیٹھے ریاض کو صلاح دی۔

بھینگا سمجھ گیا کہ نکمے کو اس کا پھٹے پر بیٹھنا پسند نہیں آرہا اس لئے وہ اسے کوئی جواب دیے بغیر گردن کھجاتا اٹھا اور شاہ جہاں کی دکان کے سامنے لگے نلکے سے پانی پینے چلا گیا۔ پانی پینا تو ایک بہانہ تھا اس لئے پانی پینے کے بعد ہاتھ پیر بھی چیونٹی کی رفتار سے دھونے لگا تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت اس گلی کے سامنے رہے جس میں زوار شاہ کی سامان سے بھری گاڑیاں آ کے رکنی ہیں۔ ہاتھ پیر دھونے کے بعد بھی سرکار کی آمد کے آثار نظر نہ آئے تو نلکے کے ساتھ بنی چھوٹی سی کیاری کے سوکھے گلابوں میں لکڑی کے ساتھ گوڈی کرنے بیٹھ گیا تاکہ ایک بار پھر مٹی بھرے ہاتھ دھو کر وقت گزاری کی جا سکے۔

 ”میرا خیال ہے پولیس والے کے پاس مال بہت زیادہ ہے اس لئے پیکنگ میں اتنے دن لگ رہے ہیں“ پھٹے کے نیچے سے استنجے کے لئے ڈھیلے جمع کرتے ہوئے ایک نکمے نے اندازہ لگایا

 ”حرام کا مال جتنا زیادہ ہو اتنا ہی کم ہوتا ہے، جب آئیں گی قبریں تب ہوں گی خبریں۔ فرشتے ایک ایک من کا گرز پچھواڑے پر ماریں گے تو پتہ چلے گا حرام خور سید کو کہ کس کس کا حق مار کے مال جمع کیا تھا“ دوسرے نکمے نے وہاں سے گزرتی ماسٹر قادر کی باپردہ بیٹی کی ایڑیاں تاڑتے ہوئے جواب دیا

 ”یہ شیعہ آج تک فدک کا باغ نہیں بھولے ان کا بچہ بچہ کہتا ہے کہ بی بی کا حق مارا گیا لیکن خود دوسروں کا حق مار کے حرام کھاتے ہیں تب ان کا اسلام کہاں جاتا ہے“۔ تیسرے نکمے نے اپنے طور پر ایک منطقی سوال پوچھا

 ”یہ لوگ سنیوں کا مال کھانا حلال سمجھتے ہیں ان کو لگتا ہے کہ اس طرح فدک کا بدلہ لے رہے ہیں۔ کوئی فدک شدک نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے بی بی کے حق کا بہانہ بنا کے مسلمانوں کو تقسیم کیا تھا۔ ان کا کام ہی تقسیم کرنا ہے۔ ابوالفضل کو جانتے ہو؟ “ دوسرے نکمے نے اچانک پوچھا؟

کون ابو الفضل؟ بابو فضل کا ابو؟ ”تیسرے نکمے نے معصومیت سے پوچھا

 ”نہیں او بے وقوف۔ ابوالفضل۔ اکبر بادشاہ کا وزیراعظم“۔ دوسرے نے تیسرے کو دھپ لگاتے ہوئے بات آگے بڑھائی

 ”اس بدبخت نے اکبر جیسے مسلمان بادشاہ کو بھٹکا کے دین الہی کا اعلان کرا دیا تھا۔ وہ بھی شیعہ تھا کٹر ایرانی شیعہ۔ اسی نے شہزادہ سلیم اور اس کے باپ اکبر میں انار کلی پر جنگ کرائی تھی۔ انار کلی بھی شیعہ تھی۔ میں نے تو یہ بھی پڑھا ہے کہ ابوالفضل کی بیٹی تھی۔ وہ ایسی سازشیں کر کے، ایرانیوں کے ساتھ مل کر ہندوستان پر شیعوں کی حکومت قائم کرنا چاہتا تھا۔ جب اکبر نے انار کلی کو مروا دیا تو اس نے اپنی دوسری بیٹی نورجہان کی سیٹنگ کرا دی تھی شہزادہ سلیم سے“ دوسرے نے مغلوں کی ساری تاریخ کی ماں بہن ایک کرتے ہوئے سگریٹ کا کش لگایا

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5 6

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 17 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi

One thought on “نیوٹن کا تیسرا قانون (لنڈے کے لبرل مت پڑھیں )

  • 18/04/2020 at 4:04 pm
    Permalink

    کیا خوب ، لطف آگیا، مصطفیٰ نے جو لکھا کمال کا لکھا،

Leave a Reply