نیوٹن کا تیسرا قانون (لنڈے کے لبرل مت پڑھیں )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

6

میری خود ساختہ قید کا آخری دن گزر گیا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے نہ مجھے بخار ہوا اور نہ ہی کوئی ایسی علامت ظاہر ہوئی جس سے اس وبا کی لپیٹ میں آنے کا شک ہو۔ میں نے کمرے سے باہر قدم رکھا

 ”نکل آئے وہمی کہیں کے“ لاونج میں بیٹھی بیوی نے مجھے دیکھتے ہی مسکرا کر تیر چلایا

میں نے اس کی مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دیتے ہوئے دونوں بچوں کو آوازیں دیں۔ دونوں اپنے کمروں کی قید سے بجلی کی تیزی سے نکلے اور مجھ سے لپٹ گئے۔ سفیان کو چومتے ہی مجھے ایسے لگا جیسے میں نے اس کے گال پر نہیں انگارے پر ہونٹ رکھ دیے ہوں اس کا جسم بخار کی حدت سے دوزخ بنا ہوا تھا۔ مجھے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔

7

سیدوں کے گھر کے باہردروازے کے ساتھ آنکھیں موندے کتا اچانک اٹھ کھڑا ہوا۔ اندر سے ابرارحسین ہاتھ میں ایک پرات لئے باہر نکلا اور اس دورازے کے ساتھ رکھے ٹھیکرے میں کھانا ڈالا۔ وہ جب تک اپنے اس کام میں لگا رہا کتا اس سے تھوڑے فاصلے پر کھڑا اپنی دم ہلاتا رہا۔ ابرار کے جانے کے بعد جب اندر سے زینب کی آواز آئی ”کھا لے“ تب ہی وہ ٹھیکرے کی طرف بڑھا۔ چپڑ چپڑ کی آواز بند گلی میں پھیل گئی۔ اس کتے کو گھر میں آنے کی اجازت نہیں تھی وہ سارا دن مالکوں کے دورازے پر پڑا سوتا رہتا تھا۔ اس نے اپنے ذمے صرف ایک کام لگا رکھا تھا۔ زینب کو اس کے کالج تک پہنچانا۔ وہ صبح آٹھ بچے اپنی کالی چادر کے پردے میں گھر سے باہر نکلتی اور یہ اس کے پیچھے پیچھے باڈی گارڈ بنا اسے کالج پہنچا آتا تھا اور جب تک وہ باہر نہ آتی یہ گیٹ کے باہر ایک درخت کے نیچے اپنی مالکن کی راہ دیکھتا رہتا تھا۔

یہ کوٹلے کی گلیوں کا ایک آوارہ کتا تھا۔ ایک شام زینب (جب اس کا پردہ نہیں ہوا تھا) کسی مجلس سے واپسی پر آل رسول پر ہوئے ظلموں پر آنسو بہاتی اکیلی آرہی تھی اس کتے نے اسے اکیلا اور کمزور جان کر پیچھے سے غرانا چاہا۔ اللہ جانے زینب اس وقت کس کیفیت میں تھی شاید اس کا جسم تو امام باڑے کی اس گلی میں تھا لیکن دل دماغ اور روح شام کے اس بازار میں بھٹک رہی تھی جہاں اپنے چہروں کو بالوں کے پردے میں چھپائے بیبیاں ننگے پیر چلائی گئی تھیں۔ کتے کی غراہٹ سنتے ہی وہ وجد میں آئی اور صرف اتنا کہا ”چپ کر کتے، سید زادی پر بھونک رہا ہے تو“ اس کے بعد یہ کتا بھونکنا ہی بھول گیا۔ زینب اپنے گھر کی طرف بڑھ گئی اور یہ سر جھکائے اس کے پیچھے پیچھے۔ وہ شام اور آج کا دن یہ زینیب کے در پر پڑا رہتا ہے اسی کی آواز پر اٹھتا بیٹھتا اورکھاتا پیتا تھا۔ نہ وہ کبھی ابرار کو سکول پہنچانے گیا اور نہ ہی زوار شاہ کے پیچھے تھانے کا چکر لگایا۔ اس نے تو اپنے سر پر صرف زینب کی ذمے داری لے رکھی تھی وہی اس کی مالکن تھی اور وہ اسی کا کتا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہ دوبارہ اپنی جگہ پر آ کے لیٹ گیا۔

لاٹھی کے سہارے مشکل سے چلتاغلام عباس شاہ ہاتھ میں نیاز کا کٹورہ اٹھائے گلی میں داخل ہوا۔ کتے نے اس پر ایک نظر ڈالی اور اسے بے ضرر جان کے خاموشی سے اپنی جگہ پڑا رہا۔ بزرگ شاہ جی نے اپنی لاٹھی سے دروازے پر دستک ہوئی۔ ابرار باہر نکلا۔ غلام عباس شاہ نے اپنا تعارف کرا کے نیازسے بھرا کٹورہ ابرار کے ہاتھوں میں تھمایا اور برتن کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگا۔ کٹورے کو خالی واپس پھیرنا سیدوں کے گھرانے کا دستور نہیں ہے لیکن اس وقت گھر میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا جس سے اس کٹورے کے خالی پیٹ کو بھرا جا سکتا۔ ماں کے ماتھے پر پریشانی کی شکنیں پھیلنے سے پہلے ہی زینب نے جلدی جلدی چولہے پر کڑھائی رکھی ابرار کو باہر جا کے شاہ جی کو کمپنی دینے کا حکم دیا۔ گلی میں کھڑے دونوں سیدوں نے مشکل سے پانچ منٹ ہی ادھر ادھر کی باتیں کی ہوں گی کہ اندر سے آنے والی سفید زیرے کی مہک نے ابرار کو بتا دیا کہ آٹے کا حلوہ تیار ہو چکا ہے۔ وہ دوبارہ اندر گیا اور بھرا کٹورہ لے کر باہر نکلا۔ نیاز کا بدلہ نیازمندی سے چکا دیا گیا۔

اسی رات کے آخری پہر میں جب سارے محلے کے مکین تو مکین کتے بھی سو رہے تھے پولیس نے محلے کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور سیدھا اس گھر پر چھاپہ مارا جہاں اورنگزیب فراری کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ اگلے چند ہی لمحوں میں اپنے ماں باپ سے ملاقات کے لئے چوروں کی طرح آنے والا اورنگ زیب پولیس کے نرغے میں تھا۔ اورنگ زیب جماعت کا وہ مجاہد تھا جس نے اللہ کے حکم سے نہ صرف افغانستان میں روس سے جہاد کیا بلکہ پاکستان میں بھی کئی کافروں کو دوزخ کا راستہ دکھایا تھا۔ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار اسی طرح اندھیروں میں اپنے گھر آچکا تھا لیکن کسی نے اس کی مخبری نہیں کی اس کو فراری کا لقب بھی اسی لئے دیا گیا تھا کہ وہ فراری موٹر کار کی رفتار جیسا مجاہد ہے جو کسی کے ہاتھ نہیں آتا۔ لیکن اس بار فراری دھر لیا گیا۔ اور شک کی آنکھیں زوار شاہ کی طرف اٹھیں۔

ان آنکھوں میں یقین کے ڈورے اس وقت پھیلے جب پھٹے پر بیٹھنے والے ایک نکمے نے گواہی دی کہ اس نے صبح غلام عباس شاہ کو زوار شاہ کے دروازے پر دیکھا تھا سارا محلہ منٹوں میں زوار شاہ اور عباس شاہ کے گٹھ جوڑ تک پہنچ گیا۔ اگلے غلام عباس شاہ کا اپنی بیگم کے ساتھ زواری کے لئے ایران جانا اس گٹھ جوڑ پر پکی مہر لگا گیا۔ سب کا خیال تھا کہ وہ محلے والوں کے سوالوں سے بچنے کے لئے ایران گیا ہے۔ جب کہ کچھ کا گمان تھا کہ وہ ایران نہیں، اپنی بیٹیوں کے پاس کراچی بھاگ گیا ہے اس نے جو کام کرنا تھا وہ کر دیا، اب واپس نہیں آئے گا۔ کسی نے زوار شاہ سے کچھ نہیں کہا، بس اندر ہی اندر گالیاں دیتے اور سلگتے رہے۔ زوار شاہ کے علاوہ سب کو معلوم تھا کہ یہ سلگنا کبھی نہ کبھی لاوا بن کر نکلے گا۔ حالانکہ اس بے چارے کا اس ساری کارروائی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ لیکن زبانوں سے نکلی باتوں نے دلوں میں ایسی گرہیں ڈالی تھیں جو اب کسی کے دانتوں سے بھی نہیں کھلنی تھیں۔ چند مہینوں بعد فاسٹ ٹرائیل کورٹ نے اورنگ زیب فراری کو موت کی سزا سنا کر قلم توڑ دیا۔

عشا کی اذان ہوتے ہی ٹرانسفارمر ایک دھماکے سے پھٹا اور سارا محلہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ جب سے جبار وکیل کے سب سے بڑے بیٹے نے اپنے گھر میں اے سی لگوایا تھا 50 کے وی کے اس ٹرانسفارمر نے ہفتے میں ایک دن پھٹنا معمول بنا لیا تھا وہ بدبخت جب بھی اے سی چلاتا یہ ہانپتے کانپتے اللہ کو دم دے دیتا اور پھر اگلے دن واپڈا کے مسیحا آ کے اس لاش میں روح پھونکتے۔ کافی دیر تک صوفی ہاشم نے اندھیرے میں کانپتے ہاتھ چلانے کے بعد ماچس کی ڈبیا تلاش کی۔ اسے یقین تھا کہ اس دیری میں پہلی رکعت ضرور رہ جائے گی۔ اس نے جلدی جلدی اپنی ویسٹن جرمنی کی لالٹین روشن کی او ر مسجد کے لئے نکل پڑا۔

راستے بھر وہ یہی سوچتا رہا کہ آج وکیل کے بیٹے سے یہ بات ضرور کرے گا کہ خدا کے بندے نماز کے ٹائم تو اے سی نہ چلایا کرو بزرگ نمازیوں کو مسجد تک پہنچنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اب سب کے پاس ویسٹن جرمنی کی لالٹین تو ہوتی نہیں جو ان کے راستے روشن کرے۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی گلی سے نکلتا ایک سایہ اپنی پوری شدت کے ساتھ صوفی ہاشم کے ساتھ ٹکرایا۔ ویسٹن جرمنی کی لالٹین اس کے ہاتھ سے چوٹ کر دیوار سے ٹکرائی۔ چمنی چھناکے سے ٹوٹی اور اس کی لو ہوا کے ایک جھونکے سے بجھ گئی۔ یہ سایہ لمحوں میں صوفی ہاشم کی بوڑھی ہڈیوں کو روندتا وہاں سے غائب ہو گیا۔ چند منٹوں بعد صوفی ہاشم کی آوازوں پر لوگ وہاں پہنچے۔ ان کے ہاتھوں میں ٹارچوں کی روشنی سے گلی اتنی روشن ہو گئی کہ سب کی آنکھوں نے وہاں نہ صرف گندی نالی میں گرے صوفی ہاشم کو دیکھا بلکہ لال سرخ خون کے دائرے میں پڑی ابرار کی لاش بھی سب کو نظر آگئی۔ خون گندی نالی میں جانے سے پہلے جم چکا تھا اور صوفی ہاشم کی بہتی آنکھیں اپنے لالٹین کے ڈھانچے کو دیکھ رہی تھیں۔

 ”اوئے کوئی جھاڑو لاؤ۔ چمنی کے شیشے کسی بچے کے پیروں میں نہ لگ جائیں“ صوفی ہاشم نے روتے ہوئے کہا

8

سفیان کے ساتھ ساتھ ہم تینوں کے ٹیسٹ بھیکیے گئے جو نیگیٹو تو آئے لیکن سفیان میں کرونا کی ساری علامات بھی تھیں اور کا ٹیسٹ بھی پازیٹو نکلا۔ ڈاکٹروں نے اسے تو ہسپتال میں داخل کر لیا لیکن ہم تینوں کو اپنے گھر میں ایک بار پھر ایک دوسرے سے علیحدہ رہنے کا حکم دے کر جانے کی اجازت دے دی۔ میں یہ سوچ سوچ کے پاگل ہو رہا تھا کہ سفیان تو گھر سے نکلا ہی نہیں پھر ٹیسٹ پازیٹو کیوں نکلا۔ اس سے پہلے کہ اتھارٹیز کو خبر ہوتی اور ہمیں گھر میں قید کر کے اسے سیل کر دیا جاتا، میں نے ڈاکٹروں سے ہاتھ جوڑ کر التجا کی کہ مجھے ایک بار اس سے ملنے دیا جائے، مجھے اس سے کچھ پوچھنا ہے لیکن وہ راضی نہ ہوئے۔ ایک نرس کو میری حالت پر رحم آ گیا اور اس نے ڈاکٹر کے جانے کے بعد مجھے سفیان کے ساتھ دور سے بات کرنے کی اجازت دے دی۔

سفیان نے پہلے تو روتے روتے مجھ سے معافی مانگی اور بتایا کہ وہ کمرے میں تو بند تھا لیکن دو بار اسی کمرے کی وہ کھڑکی جو گلی کی طرف کھلتی ہے اس سے نکل کر اپنے ایک دوست سے گیم کی سی ڈی لینے گیا تھا۔ جو ہماری ہی کالونی کی پانچویں گلی میں رہتا ہے۔ گیم کا نام بھی اس نے بتایا ”ڈیتھ ٹریپ“۔ میں ایک ہی لمحے میں اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ وہ یہ وبا کہاں سے لایا ہے۔ میں نے فوراً اتھارٹیز کو اطلاع دی اور ایک گھنٹے کے اندر اندر ہماری کالونی کو سیل کر دیا گیا۔ ہمارے گھر کے ساتھ ساتھ گلی نمبر پانچ کا مکان نمبر 110 بھی سیل کر دیا گیا اور اس میں رہنے والوں کے ٹیسٹ شروع ہو گئے۔ اس گھر میں پاسپورٹ آفس میں کام کرنے والے کسی علمدار کاظمی کا گھر تھا۔ نام سے ظاہر ہے یہ آدمی کون تھا اور کہاں سے اس وبا کو لایا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5 6

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 17 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi

One thought on “نیوٹن کا تیسرا قانون (لنڈے کے لبرل مت پڑھیں )

  • 18/04/2020 at 4:04 pm
    Permalink

    کیا خوب ، لطف آگیا، مصطفیٰ نے جو لکھا کمال کا لکھا،

Leave a Reply