کچھ لوگ ایکٹر نہیں ہوتے


گزشتہ کچھ دنوں سے کئی پوسٹس عرفان خان کے بچھڑنے کی خبر دے رہی ہیں، ہر آدمی اپنے لحاظ سے دکھ کا اظہار کر رہا ہے۔ میں بھی اس فین کلب کا حصہ ہوں، مگر میں اپنی منافقت کے ہاتھوں شرمندہ ہو رہا ہوں۔ کیا ہے کہ ہم فلمیں بھارت کی دیکھنا چاہتے ہیں مگر اپنے ٹی وی پہ نہیں بلکہ انٹرنیٹ پہ، انسان دوستی پہ اداکاروں کے لئے اچھے جذبات تو ہیں، مگر ان کے مر جانے پہ ہی کوئی اچھی بات یا کوئی تعریفی کلمہ کہہ دیں گے۔ حالانکہ فن اور فنکار، ادب اور ادیب، مصور اور تصویر نفرت کی قید میں نہیں آتے۔ ان کے ہاں سے زندگی ہنستی کھیلتی اور گنگناتی برآمد ہوتی ہے، ہم ان کے ساتھ ملکے روتے ہیں اور اکٹھے قہقہ لگاتے ہیں۔ ایسا دشمن تو نہیں کرتے، کہیں نہ کہیں آکے یہ سب ختم تو ہوتا ہے لیکن ہم مانتے نہیں ہیں۔ محبت میں بے پناہ وسعت ہے جبکہ نفرت میں تنگی اور گھٹن کے سوا کچھ نہیں ہے۔

خیر ان افسردہ کرنے والی پوسٹس میں سے ہی ایک روشنی کی طرح پھوٹنے والی تحریر سامنے آگئی۔ جی ہاں! یہ حسنین جمال صاحب کا ایک کالم تھا کہ جس میں عرفان کی کہانی تھی۔ اس تحریر نے مجھے روک دیا کہ محض تعزیتی ریفرنس کافی نہیں ہے، زندگی کی فائل کے کاغذات ٹٹولنے پڑینگے کیونکہ ”کچھ لوگ ایکٹر نہیں ہوتے“ وہ کیریکٹر ہوتے ہیں۔ وہ ہوا سے آکسیجن، سورج سے روشنی، زمین سے پانی اور رزق چننے کے لئے نہیں جیتے، وہ صرف وصول کنندہ نہیں ہوتے بلکہ مخیر بھی ہوتے ہیں۔

مجھ جیسے سست الوجود اور اوسط دماغ کو متاثر کرنے کے لئے وہ خط ہی کافی تھا۔ مگر اس نے میری انگلی پکڑی اور مجھے ماضی کے دریچوں کی طرف دھکیل دیا۔ کمزور یاداشت والے افراد کے لئے ماضی میں اندھیروں کے ناقابل تسخیر سلسلے ہی ہوتے ہیں، اب کی بار معاملہ مختلف تھا بلکہ جہاں جہاں عرفان تھا روشنی کا حلقہ تھا اور وہیں میرا پہلا پڑاؤ تھا۔ یہ ماضی بعید کا قصہ ہے، لگ بھگ آج سے بیس برس کی دوری پہ فلم ”گھات“ لگی تھی، جسے دیکھ کے دل نے کہا تھا کہ یہاں مکالمہ اور تاثر دونوں بغل گیر ہوتے ہیں کسی بے تکلف دوست کی طرح کہ جو بہت عرصے بعد اچانک آن ملتے ہیں۔

اس آشنائی کا عکس تاریکی میں بھی چمک رہا تھا۔ فلم فلاپ ضرور ہوئی مگر کیریکٹر کامیابی سے ادا ہوا۔ اسی طرح حاصل، لائف آف پائی، قریب قریب سنگل، لنچ بکس، پان سنگھ تومر، ڈی۔ ڈے۔ ایسے ان گنت سٹاپ تھے کہ جن پہ یادوں کی سواری رکی۔ مکالمہ مصنف کی تخلیق ہوتی ہے مگر عملی ادائیگی اور چہرے کے تاثرات اسے تکمیل کے درجے پہ فائیز کرتے ہیں۔ عرفان میں یہ ہنرمندی بھی خوب تھی کہ انہوں نے ہر فلم میں مکالمے کو اپنی کاریگری سے یادگار بنا دیا۔

زندگی کی کہانی اسی طرح ہے کہ جیسے اس خط میں بیان کی گئی ہے، انسان کائینات کی کشادہ صفت میں ایک زرے کی طرح ہے، ایسے کئی ذرات مل کے اس جہاں کو خوبصورت بناتے ہیں۔ ہر زرہ اہم ہے، جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں ہیں تو اس وقت ہم سب کچھ ہوتے ہیں۔ ہم خیال نہیں ہیں بلکہ تخلیق ہیں کہ جس کے پاس اختیار کی دولت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم انفرادیت پسندی اور حیوانی جبلت کے ہاتھوں یر غمال ہیں۔ ہم صرف وجود کے پجاری ہیں، سوچ اور احساس کو نہیں جان پاتے۔ البتہ مٹی میں گاڑ کر پھر عقیدت و احترام کی مورتی بناتے ہیں، پھر زندگی کے صفحات الٹنا شروع کرتے ہیں۔ ہر صفحہ ہماری آنکھیں کھولتا ہے، کہ کچھ لوگ صرف ایکٹر نہیں ہوتے بلکہ کیریکٹر ہوتے ہیں۔

عرفان ایک فکرمند اور حساس کردار تھا، وہ منڈی میں بکنے کے لئے نہیں تھا۔ اس کے ہاں آدرش ہیں، وہ اسے کبھی مرنے نہیں دیں گے۔ جو لوگ گوگل پہ اسے سرچ کریں گے گے وہ ان سے کلام کرے گا، ایسی ہی ایک سرچ نے مجھے بتایا کہ عرفان لوگوں کو تفریح فراہم کرنا چاہتا ہے مگر اس کی خواہش ہے کہ اسے جاندار سکرپٹ ملے کہ جس کا کردار معاشرتی زندگی میں اپنی حقیقت کے ہمراہ موجود ہو یا رہا ہو۔ وہ جانتا ہے کہ لوگ اس کے کام کو دیکھنا چاہتے ہیں نہ کہ اس کے چہرے کو۔

چہرہ فوری تعارف ہوتا مگر شاید پائیدار تعارف آپ کے آدرش کے ذریعے ہوتا ہے۔ اسے اپنے کردار کی ذہنی کیفیت کو کھنگالنا پڑتا ہے، تب تاثرات چہرے پہ سجتے ہیں۔ برصغیر کے فنکاروں میں بھی ایک قبیلہ ایسا ہے کہ جو نفرت کی فضا میں محبت کے رنگ بھرنے کا ہنر رکھتا ہے۔ رشی کپور بھی اسی قافلے کے ایک مسافر تھے جو ہم سے جدا ہوئے ہیں۔ فلم ڈی ڈے کی یہ تصویر شاید اسی لئے وائرل ہوئی کہ دو افراد جو ایک منزل کے مسافر ہیں، وہ قافلے سے ضرور بچھڑے ہیں، مگر اپنے پیچھے محبت کی وراثت چھوڑ گئے ہیں۔

Facebook Comments HS