یہ شخص کب تک یوں اُداس رکھے گا!


جب جب اِس کی تصویریں نظروں سے گُزرتی ہیں اِس کے جانے کا غم غیر ارادی طور پر گھیر لیتا ہے یہ کیسی چاہت ہے کہ جس کا احساس کسی کے جانے کے بعد ہو پتہ لگے کے اُس کے ساتھ تو تعلق ہی بڑا شدید تھا ایسا رشتہ تھا جو لمبی سی ڈور سے بڑی مضبوطی سے دونوں طرف بندھا تھا اب جو ایک سرے سے ٹوٹا ہے تو سمجھ نہیں آ رہی دوسرا سرا جو ہمارے ہاتھ میں رہ گیا ہے اُس کو کس سے باندھنا ہے۔ اب تو ایک ہی سوال ہے کہ ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا؟ ہائے ے ظالم ہاں! واقعی! عرفان خان ایک ہی تھا۔

لوگ کہتے ہیں عرفان حقیقت کے قریب ترین جا کر کردار نبھاتا تھا تھا بے جان مکالموں میں اپنی آواز پھونک کے جان ڈال دیتا تھا اُسے کردار میں ڈھلنا نہیں پڑتا تھا ہر کردار اُس کے رنگ میں ڈھل جاتا تھا۔ میں نے حقیقی عرفان خان کو اُس کے درجنوں انٹرویوز میں جانا کیا لُطف اور چاشنی تھی اُس کی باتوں میں سادگی و تحمل سے مزاح کی تہیں چڑھا کر جواب دیتا۔ وہ زندگی کی حقیقت کو جاننے میں کُچھ حد تک کامیاب ہوگیا تھا پیسہ شہرت اور شہرت بھی عالمگیر وہ کون سے فلموں کے پنڈت تھے جن سے اس نے واہ واہ نہ سمیٹی ہو لیکن اُس کی باتیں سُن کے لگتا وہ اِن سب چیزوں سے کُچھ پرے کی سوچ رکھنے والا انسان بن چُکا تھا

اپنے نام سے خان ہٹا لیا تھا مذہب پر اُس کی سوچ کافی غیر روایتی ہوچکی تھی چیزوں کو اپنے طریقے اور سوچ سے قبول کرنے کی پاداش میں ہندوستان کے مولویوں کے ایک گروہ نے اُس کو آڑے ہاتھوں بھی لیا مگر لائیو شو میں اپنے سوالوں کا دفاع کرتا رہا کہ مُجھے مذہب کے ہر اصول اپنی سوچ عقل و علم سے قبول کرنے ہیں۔

عرفان لمبا سفر کرتے ہوئے اس بالی وڈ کی زمین تک آیا تھا جہاں اُس کی کٹھن اور صبر آزما جدوجہد کی کھیتی کو اُگنے میں وقت تو لگا تھا مگر اب جا کر وہ ہیرے اُگلنے لگی تھی وہ اپنی پسند کی فلمیں چُن سکتا تھا وہ ہر طرح سے کامیاب اور مستقل طور پر قدم جما چُکا تھا مُجھ جیسے لاکھوں آرٹ اور ڈرامہ فلموں کے چاہنے والوں کے لئے اسکرین پر اُس کو دیکھنا ذہنی تناؤ الجھنوں سے فرار کا ذریعہ تھا

زندگی کے کُچھ بے معنی لمحوں میں معنی تلاش کرنے جیسا تھا لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر وہ ایک اداکار ہی تو تھا جس سے تُم کبھی نہیں ملے اور وہ تُمہاری محبت و عقیدت کو ذرا بھر بھی نہیں جانتا تو اُس کے جانے پر یہ نوحے کیوں؟ میں اِس کا جواب دینا ہی نہیں چاہتا اُنہیں کیسے بتائیں کہ وہ تو میرے پاس تھا وہی تو تھا کبھی قریب قریب سنگل کا آزاد شاعر زندگی سے بھرپور یوگی بن کے کبھی لنچ باکس میں کبھی مداری کبھی کاروان بن کے تو کبھی مقبول اُس کا ہر کردار تو میرے پاس رہا ہے۔

اس کی اداکاری میں شائستگی تھی تو وہیں اُس کے پہناوے میں جاذبیت تھی میں نے سوٹ کو اُس سے زیادہ جچتا کسی پر نہیں دیکھا پیکو فلم دیکھیں سادہ بلیزر پہنے کالا چشمہ لگائے وہ میرے اب تک کے دیکھے کُچھ پُرکشش مردوں میں سے ایک تھا سادگی میں قیامت کی ادا رکھنا اُسے دیکھ کے سمجھ آتا تھا۔

زندگی کی بے معنیوں بے رُخیوں اور ناپائیداریوں سے اِتنا واقف ہوچکا تھا کہ اپنے خط میں ساری کثریں نکال دی وہ خط کیا تھا ایک فلسفی کی زندگی کا نچوڑ تھا زندگی کی تلخ حقیقتوں سے بھرا جام تھا جس کا قطرہ قطرہ عرفان نے پیا اور ہمیں اِس کا ذائقہ اپنے لفظوں میں بھی لکھ بھیجا کے میرے پیارو! زندگی وہ نہیں جو جی رہا تھا زندگی یہ ہے جو درد میں ہے اور اپنے ہونے کا احساس دِلا رہی یے بڑی تکلیف ہورہی ہے خُدا کی طرح چاروں طرف درد ہی درد ہے، اسی درد نے جب شیو کمار بٹالوی کو گھیرا تو اُس نے بھی درد کو لفظوں میں کُچھ ایسے ہی بیان کیا۔

میں درد نوں کعبہ کہہ بیٹھا
رب ناں رکھ بیٹھا پیڑاں دا۔

اِسے تجربہ محبت وہم یا اتفاق کہہ لیں مُجھے اپنوں سے بچھڑنے کی ڈاک ہفتہ پہلے ہی مل جاتی ہے جیسے ایک رات سونے سے پہلے اپنی مرحومہ نانی کی وفات کا خیال چُپکے سے میرے ساتھ آکے لیٹ گیا اور صبح یہ خیال حقیقت بن کے نانی کی وفات کی خبر کے ساتھ جاگا۔ سچ لکھوں تو میں عرفان کی آخری فلم دیکھ کر ہی کُچھ اِس طرح کا محسوس کرنے لگا تھا کہ وہ درد کا جام اپنا کام کر رہا ہے وہ پُرکشش آنکھیں مانند پڑ رہی ہیں کیسنر نے ہر رگ میں محشر برپا کر دیا ہے ایک بُری اطلاع رستے میں ہے وہ اطلاع آئی اور کروڑوں لوگ بارڈر کے اُس جانب پڑے ایک ان دیکھے جنازے میں خود کو شریک سمجھ کر بے ساختہ اشک بار تھے دل بجھے تھے آنکھیں نم تھی مگر ہماری خوش قسمتی رہی کے ہم نے عہد کے بڑے کلاکار کو مرنے سے جینے کے ہر رنگ میں دیکھ لیا

جہاں زندگی کی بے اثباتی کا ذکر ہوگا وہاں عرفان کے اُس خط کو پڑھا جائے گا جہاں اداکاری کے اسرار و رموز پر بات ہوگی وہاں اُس کی فلموں کو دیکھا جائے گا بیج دفن ہوگیا ہے اُب اگلی نسل اُس کی چھاؤں میں بیٹھے گی۔

Facebook Comments HS