امداد وصول کرنے والے چند ناشکرے اور چند اچھے لوگوں کی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وبائیں انسان دوست نہیں بلکہ انسان شناس ہوا کرتی ہیں۔ اس فکر کا ادراک مجھے کرونا وائرس کے دوران ہونے والے لاک ڈاؤن کے دنوں کے دوران ہوا۔ کرونا وائرس جیسی عالمی وبا اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کا سامنا موجودہ صدی کے انسان پہلی بار کر رہے ہیں مگر حالات چاہے نئے ہوں مگر انسان کا رویہ یا کردار اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بس حالات کے نشیب و فراز میں وہ کھل کر سامنے آ جاتا ہے اور یہی وبا کے ان دنوں میں ہو رہا ہے۔

شاید کالم پڑھنے کے بعد کچھ افراد کی رائے ہو کہ یہ سب لکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے مگر میرے خیال میں وہ سب افراد جو ان حالات میں ریسکیو مشن پر آگے آئے اور انہیں جس قسم کی صورت حال اور رویوں کا سامنا کرنا پڑا وہ سماجی سائنس کے شعبہ سے وابستہ افراد کے لیے مطالعہ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ لوگوں کے رویے ہمارے لیے مطالعاتی جائزہ لینے کے بہانے بن گئے۔ جس نے ہر احساس دل کو دکھی ضرور کیا کہ ہم وہ جو بغیر کسی لالچ اور تشہیر کے لوگوں کو ریلیف سپورٹ فراہم کرنے کے لیے اپنے تعلقات، اپنی سوشل میڈیا وال اور اپنی پروفائل کا بھر پور استعمال کر رہے ہیں ان کی اپنی ذات کتنی بے وقعت کر دی جاتی ہے۔

ان حالات میں مجھے مستحقین کی درجہ بندی کرنے میں آسانی ہو گئی، لوگوں کی نفسیات سمجھنے میں بھی سہولت ہو گئی اور جو رویہ پوری شدت سے مجھ پر آشکار ہوا وہ ہے ناشکرا پن۔ میں اور میرے وہ دوست جو غیر ارادی طور پر محدود مشن کے ساتھ آگے بڑھے اور پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اور ہم چراغ جلاتے چلے گئے، ان کی یہ خواہش ہرگز نہیں ہے کہ لوگ ہمارے شکر گزار ہوں، ہماری اوقات ہی کیا ہے مگر کم از کم انہیں رب العالمین کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے دروازے کی دہلیز پر رزق پہنچایا۔ مگر ادھر آپ کسی کو راشن دے کر موڑ مڑیں اور کوئی ان سے جا کر پوچھے کہ آپ کو کچھ ملا تو ایک ہی جواب کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہ کہ ”سانوں تے کسی نے پچھیا ای نہیں“ ۔ (ہمیں تو کسی نے پوچھا ہی نہیں)

پنجاب کی جیلوں میں قید بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف ادارے ”رہائی فاؤنڈیشن“ کی بانی فرح ہاشمی سے جب اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے شاہدرہ لاہور کے علاقے میں مستحق افراد تک راشن تقسیم کرنے کے دوران ایک سروے کا پلان بنایا۔

انہوں نے اپنے ساتھ چھ سات لڑکوں کی ٹیم تیار کی، اور جب وہ ایک گلی میں راشن پیکٹ کی تقسیم مکمل کر کے دوسری طرف گئیں تو وہ لڑکے بھی بائیک پر سامان رکھے ان تک پہنچے اور ان سے پوچھا کہ کوئی آپ کے پاس آیا تو چھ سات گھرانوں نے ایک ہی جواب دیا کہ ”ساڈے کول کوئی وی نہیں آیا، سانوں کسی نے پچھیا ای نہیں“ (ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، ہمیں کسی نے نہیں پوچھا)۔ اس جواب نے فرح ہاشمی کو افسردہ کر دیا، انہوں نے کہا کہ جس قوم کے افراد میں ناشکرا پن شامل ہو جائے وہ قومی سطح پر ہر معاملے میں بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

من حیث القوم ہم میں ناشکرا پن بہت زیادہ ہو چکا ہے، اکثریت ان افراد کے کردار پر شک کرتی ہے جو مشکل دنوں میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے ہیں بغیر کسی لالچ کے آپ کو آسانیاں دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے تو اس سے زیادہ بری صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، ہمسائے میں مقیم ایک بزرگ جوڑے کو دوائیں فراہم کی اور پھر راشن کے پیکٹ بھی کہ ایک بیٹا تین ماہ سے بے روزگار ہے اور دوسرا ماں کو پوچھتا نہیں۔ اس کے باوجود وہ یہی کہتے پائے گئے کہ سانوں کسی نے پچھیا نہیں۔

مگر مجھے اس وقت بے انتہا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اس بزرگ جوڑے نے ہمارے ڈسٹ بن پر نظر رکھنی شروع کر دی کہ ہم کیا کھا رہے ہیں۔ مرغی کے گوشت کی ہڈیاں ہیں یا بکرے کے۔

خاتون کے مطالبات بڑھنے لگے اور میں نے انکار کر دیا کہ آنٹی ایسا نہیں ہوتا میں جتنا کر سکتی اتنا کر رہی۔ رہی سہی کسر تب پوری ہو گئی جب محترم بزرگ خاتون نے پوچھا کہ تمہارا کاروبار کیسا جا رہا ہے، میں ہکا بکا انہیں دیکھتی رہی مگر خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا۔ مجھے نیکی کے نام پر شر کا سامنا کرنا پڑا۔ شک لوگوں کی گھٹی میں پڑا ہے، ان کے ذہن میں یہ بات ہے کہ لوگ ہمارے نام پر کھاتے ہیں اور ہم جب چاہیں انہیں ذلیل کریں، فرح ہاشمی ہوں، سحر شعیب ہوں یا حنا اقبال ہم سب خواتین صرف اللہ کی رضا کی خاطر میدان عمل میں اتریں مگر ہمیں جن منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑا اس کی مثال نہیں ملتی۔

ہم لوگ مولانا روم کے اس قول کی پیروی کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے کہ خدا تک پہنچنے کے ہزاروں راستے تھے مگر ہم نے مخلوق سے محبت کو چنا۔ کسی سلفی اور ذاتی تشہیر کے بغیر۔ مگر لوگوں کا ناشکرا پن ہمارے چلنے کی رفتار سست کرتا رہا۔ بے شک میں نے انسانوں کے بہترین روپ بھی دیکھے، ان میں سے کچھ افراد کا ذکر کروں گی ایک وسیم بھٹی (مزدور) اور دوسرا ایک مالی۔ وسیم بھٹی کا نام کچھ جگہوں پر دیا ہوا تھا، اس سے پہلے انہیں راشن پیکٹ دے کر آئی تو اسی شام کال آئی کہ باجی فلاں جگہ سے راشن آیا ہے کیا کروں، میرے پاس تو ہے، میں نے ایک گھر کا پتہ بتایا، وہ وہاں دے آئے۔

دو دن بعد پھر میرے ریفرنس سے وسیم بھٹی کو پانچ ہزار روپے آئے، وہ میرے پاس گھر آئے اور چار ہزار مجھے دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی کے کام آ جائیں گے، بس ایک ہزار روپے رکھے ہیں، دودھ اور گیس کے لیے۔ ایسے لوگ ہماری ہمت بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں، ان کا کردار ناشکرے پن کی زہریلی فضا میں صبر کی آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ملک نامی مالی، اسے راشن کے ساتھ سبزی بھی اٹھوائی، رات گئے اس کی کال آئی کہ باجی آپ کی سبزیوں والا تھیلا بھی اٹھا لایا ہوں، اسے صرف اتنا کہا کہ یہ بھی راشن کا حصہ ہے، اس نے بھیگی آواز میں فقط اتنا ہی کہا اللہ تیرا شکر۔

میرے قبیل کے لوگ کچھ طلب نہیں کرتے سوائے اس ایک جملے کے کہ اللہ تیرا شکر کہ تو نے لوگوں کے دلوں میں ہمدردی ڈالی ورنہ ہم سفید پوش کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے تھے۔ یہ لوگ بھی کیس اسٹڈیز ہیں جن میں شکر ادا کرنے کی صلاحیت ہے، پہلے اپنے رب کو اور پھر ان کا جنہیں رب نے وسیلہ بنایا۔ میں نے سوسائٹی کے سویپر کا بھی حق ادا کیا تو دعائیں دینے کے علاوہ اپنی ایک حرکت سے شکر ادا کرتا ہے کہ وہ دیکھے کہ باجی نے جھاڑو نہیں دیا تو وہ گھر سے باہر گرے ہوئے پتوں کو اٹھاتا اور یوں صفائی کر دیتا ہے۔

یہ چند ایک لوگ ہیں جن میں دونوں طرح کی فکر کے حامل افراد شامل ہیں مگر مجموعی طور پر ناشکرا پن ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ ہے۔ کچھ لوگ وائرس کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں مگر گھر گھر جا کر امداد طلب کرنے کے لیے ضرور تیار ہیں اور سب کا ایک ہی فقرہ ہے کہ سانوں کسی نے پچھیا ای نہیں۔ اور اللہ کا شکر تو ہم نے کسی قیمت پر ادا نہیں کرنا، ایسے لوگوں کا ایک ہی ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے کہ اللہ ہی انہیں بھر سکتا ہے، آپ کی اور میری کیا اوقات۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *