شاہ فیصل سے ارطغرل تک، پاکستانیوں کے بدلتے تیور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عجیب اتفاق ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے بچپن میں لگائے ہوئے تاریخ کے رٹے سخت مشکلات کی زد میں ہیں اور محمد بن قاسم سمیت ہمارے کئی فیورٹ کردار تنقید کی زد میں ہیں، وطن عزیز میں چپکے چپکے ایک نیا تاریخی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ، امن پسند قائداعظم کے پاکستانیوں کو یک لخت جنگجو ترک قبائلی سردار ارطغرل میں اپنا نیا ہیرو نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی ایک تصویر ( لفظ وائرل سے اب ڈر لگتا ہے ) کے مطابق ابھی بات ارطغرل کے نام پر فلنگ اسٹیشن تک پہنچی ہے کچھ بعید نہیں کہ جلد ہی قصہ عمارتوں، شاہراؤں اور گلی محلوں کے ناموں سے ہوتا ہوا شہروں کے ناموں تک پہنچ جائے۔

پاکستان میں مقبولیت کا ایک ٹائم ٹیسٹڈ پیمانہ ٹرکوں کے پیچھے کسی کی تصاویر کا نظر آنا ہے۔ صدر ایوب سے لے کر سلطان راہی تک اور بے نظیر سے لے کر ملالہ یوسفزئی تک سب کی تصاویر اپنے اپنے ادوار میں ٹرکوں کے پیچھے، کراچی سے خنجراب تک عوامی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی پائی گئیں ہیں۔ چنانچہ لاک ڈاؤن کے بعد ماس کمیونیکشن کے اس اہم ذریعے کی بدولت ملک کے طول و عرض میں چلنے والے ٹرکوں پر غازی ارطغرل کی رنگٰین ٹیکنی کلر تصاویر کے ساتھ، یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے، والا شعر لکھا نظر آنا بعید از قیاس نہیں۔

پاکستان میں مقبولیت کا ایک اور پیمانہ اندھی عوامی مقبولیت ہے۔ خا ص طور پر ترکوں کے معاملے میں ہم نے کئی بار ترکوں سے بڑھ کر ترک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ تاریخی طور پر بیسویں صدی کے آغاز میں جب ترک خود خلافت کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے تو دنیا بھر کے مسلمانوں میں سے اگر کسی کو اعتراض ہوا تو اسی خطے کے مسلمان تھے۔

آج ایک طبقہ اس تحریک خلافت کے عمل کو ترکوں سے محبت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے اور دوسرا اس کو پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ کہنے پر بضد رہتا ہے۔ ترکوں سے والہانہ محبت کی یہ روایت اب ایک اور شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔ ایک سروے کے مطابق موجودہ دور میں ترک صدر اپنے ملک سے زیادہ پاکستان میں مقبول ہیں۔ اندازہ کر لیں۔ ڈریں اس دن سے جب طیب اردگان صاحب نے حلقہ این اے پینتالیس اسلام آباد دو سے قومی اسمبلی کی نشست کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔ اور اگر ان کا انتخابی نشان کمان، ڈھال یا تلوار ہوئی تو بس جیت پکی ہی سمجھیں۔

لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ تین دہائیاں قبل سعودیہ کے شاہ فیصل سے بھی پاکستانیوں کی محبت میں کچھ ایسی ہی لپک تھی۔ نتیجہ یہ کہ آ ج شاید ہی کوئی بڑا شہر ایسا ہو جہاں فیصل نام سے کوئی جگہ موسوم نہ ہو۔ یہ پاکستان میں عوامی مقبولیت کا اگلا پیمانہ ہے یعنی جگہوں کے نام اپنے من پسند ہیروز کے نام پر رکھ دینا۔ اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد، راولپنڈی کی شاہ فیصل کالونی، کراچی کی شاہراہ فیصل، لاہور کا فیصل ٹاؤن اور کسی دور میں پاکستان کا مانچسٹر اور لائل پور کہلانے والا آج کا فیصل آباد اس کی چند مثالیں ہیں۔

اب آپ جانیں اور آپ کا تخیل۔ ارطغرل آباد، ارطغرل ٹاؤن فیز ٹو، ارطغرل چورنگی، ارطغرل انڈر پاس، ارطغرل فلائی اوور، ارطغرل انٹرنیشنل ائیر پورٹ، ارطغرل یونیورسٹی آف سائٰنس اینڈ ٹیکنالوجی، وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان میں عوامی مقبولیت کا ایک اور پیمانہ ہے بچوں کے نام۔ موٹروے خان اور یوم تکبیر خان تو اب بڑے ہو گئے ہوں گے لیکن یہ زیادہ پرانی بات نہیں۔ ان سے ذرا پہلے پاکستانیوں کی ایک پوری نسل کا نام فیصل، شاہ فیصل سے عقیدت کا مظہر ہے۔ بعد میں یہ منفرد اعزاز عمران خان اور پھر عمیرہ احمد کے ناولوں کے کرداروں کے حصے میں آیا۔ ممکن ہے آج سے کچھ عرصے بعد جب آپ اپنے چھوٹے بچے کو اسکول میں داخل کروائیں تو واپسی پر وہ آ کر آپ کو بتائے کہ آج اس کے کلاس فیلو چودھری ارطغرل سومرو نے اس کا لنچ چوری چھپے نکال کر کھا لیا۔

ارطغرل کے متعلق پاکستانیوں کے متعلق بدلتے ہوئے تیور دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہمارے تاریخ کے لگائے ہوئے رٹے اب پرانے ہوئے۔ اگر ہمارے زمانے میں پاکستانی تاریخ عربوں، افغانوں، منگولوں، مغلوں اور ایرانیوں کے گرد گھومتی تھی تو آنے والے دور میں پاکستانی نصاب اور تدریسی کتب میں ترکوں کا مستقبل روشن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *