ریشماں کا عاشق اور منٹو کا ہم پیالہ و ہم نوالہ: بلونت گارگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادب میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونی چاہیے مگر معلوم نہیں ہمارے ہاں یہ چلن اتنا عام کیوں ہے؟ نہ صرف عام بل کہ اس پر ڈھٹائی کے ساتھ پہرہ بھی دیا جاتا ہے۔ بڑا لکھاری اس وجہ سے بڑا ہوتا ہے کہ اس نے بڑا ادب تخلیق کیا ہوتا ہے۔ اسے کوئی جتنا مرضی چھوٹا کر لے وہ چھوٹا نہیں ہو سکتا۔ وہ دب تو سکتا ہے مگر مر نہیں سکتا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ایک دن آئے جب ہم لکھاری یعنی بڑے یا عظیم کو زبان کی حدود میں قید کر کے اس کے قد کا تعین نہیں کریں گے بلکہ ہم اس زبانی قد کی تکرار کو رد کر کے تخلیق کی بنیاد پر مصنف کے قد کو ماپنا شروع کریں گے، مگر کب؟

کسی تخلیق کے بڑے پن کو عام قاری سے متعارف کروانے اور منوانے کا کام تبصرہ نگاروں اور نقادوں کا ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ ایمان داری کے ساتھ کسی فن پارے کے مقام کا تعین کر کے پڑھنے والوں تک پہنچائیں۔ جب مذکورہ لوگ نا انصافی سے کام لیتے ہیں تووہ ایک نسل یا کئی نسلوں کو اس عظیم تخلیق کے فیض سے محروم کر دیتے ہیں۔ یہ بظاہر تو ایک معمولی سی بات معمول ہوتی ہے مگر اس عظیم تخلیق کو دبانے سے اس تخلیق کی ذات پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا مگر اس کی جگہ ناقص تخلیق لے لیتی ہے جو پڑھنے والوں کے معیار میں بلندی کی بجائے پستی پیدا کر دیتی ہے۔

یعنی ایک نسل کی پستی۔ جو آنے والی نسلوں کے زوال کی وجہ بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مجید امجد کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جسے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے اس کی وفات کے کئی سال بعد اس کے کلام کو اکٹھا کیا اور کلیات مجید امجد شائع کروایا تو آج امجد کی یہ تخلیق اپنا کھویا ہوا مقام اردو شاعری میں حاصل کرتی جا رہی ہے۔ مگر وہ نسل جس کے لیے یہ شاعری کئی گئی وہ اس سے محروم رہ گئی۔

اس مذکورہ بیان کی ضرورت مجھے اس وقت پیش آئی جب میں نے بلونت گارگی ( 1916۔ 2003 ) کے چند خاکے پڑھے۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں تین لوگوں کا ذکر یہاں نہ کرنا زیادتی سمجھو ں گا۔ میں 07۔ 04۔ 2020 تک بلونت گارگی سے بل کل واقف نہ تھا کہ یہ کون ہے؟ میرے ایک دوست میاں ممتاز حیات مانیکا کا میسج ملا کہ اپنے والد سے بلونت گارگی کی رہائش کا پوچھ دیں کہ آزادی سے پہلے لاہور میں ان کا مکان کہاں اور کون سا تھا۔ میں نے گارگی صاحب کی تحقیق شروع کردی کہ یہ لاہور میں کس مکان میں رہتے تھے۔ اسی دوران میں مجھے ڈاکٹر وسیم گردیزی کا فون آیا۔ ”حسن! ہم سب پر آپ کا آرٹیکل خوشونت سنگھ پر پڑھا بہت اچھا لگا۔ آپ اس کا م کو جاری رکھیں۔ آپ نے بلونت گارگی کا خوشونت سنگھ پر خاکہ پڑھا؟“

میں نے کہا: ”نہیں“ ۔ وہ کہنے لگے : ”ضرور پڑھیں، اس سے اچھا خاکہ شاید ہی کسی نے لکھا ہو“ ۔ میں نے کہا: ”مجھے وہ بھیج دیں“ اور یوں انہوں نے مجھے وہ لنک بھیج دیا۔ جب میں نے اسے کھولا تو وہ رویل لاہور کا فیس بک پیچ تھا جسے ڈاکٹر کرامت مغل چلاتے ہیں۔ اس پر مجھے بلونت گارگی کے چند خاکے پنجابی زبان میں پڑھنے کو مل گئے۔ میں نے جب پہلا خاکہ پڑھنا شروع کیا تو میری حیرانی اور خوشی ایک ساتھ بڑھتی گئی۔

جب یہ دونوں اپنی انتہا کو پہنچ گئیں تو میرے ہاتھ خودبخود گارگی کے فن پر تالیاں بجانے لگے اور منہ سے بے ساختہ واہ، واہ۔ واہ نکل رہی تھی۔ مجھے افسوس بھی ہو رہا تھا کہ اتنے بڑے خاکہ نویس کو ہمارے ادبی لوگ نظر انداز کیوں کرتے آئے ہیں۔ کیا اس کا گناہ یہ ہے کہ اس نے یہ خاکے پنجابی زبان میں لکھے؟ جب یہ سوال میرے ذہن میں ابھرا تو مجھے جواب کی کچھ کچھ سمجھ آ گئی۔ آخر کب تک ہم زبان کی سیاست پر تخلیق کو قربان کرتے رہیں گے۔

ہمیں اس بھیانک سیاست سے تخلیق کو آزاد کروانا ہو گا۔ ہمیں ہر زبان کو عزت دینا ہو گی۔ ان میں لکھا جانے والا ادب اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے یا اسے نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ کسی علاقائی یا مادری زبان میں لکھا گیا ہے۔ میری ناقص رائے کے مطابق بلونت گارگی بھی ایک ایسا ہی تخلیق کار تھا۔ جس نے پنجابی زبان کو بہت کچھ دیا جو سراہے جانے کے قابل ہے۔ بلونت گارگی بٹھنڈا، پنجاب، انڈیا میں پیدا ہوا۔ پڑھنے کے لیے لاہور آ گیا اور پھر اسی شہر کا ہو کر رہ گیا۔

وہ لاہور میں مال روڈ کے آس پاس کسی گلی محلے کا رہنے والا تھا۔ گارگی نے ایف۔ سی۔ کالج لاہور سے ایم۔ اے انگریزی اور سیاسیات کیے اور آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔ جہاں ان کی فنکاروں ادیبوں اور شاعروں وغیرہ سے دوستی ہونا ایک فطری سی بات تھی۔ وہ استاد، افسانہ نگار، ناول نگار، تھیٹر ڈائریکٹر اور ڈرامہ بھی لکھتا تھا۔ جن کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوا۔ وہ تھیٹر کے حوالے سے پوری دینا میں جانے جاتے تھے۔ انہوں نے دنیا کے کئی ملکوں میں جا کر تھیٹر کیا۔ ان کو 1962 میں ہندوستان سرکار کی طرف سے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، پدما شری ایوارڈ ( 1972 ) اور سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ ( 1998 ) سے نوازا گیا۔

میں یہاں آپ کو بلونت گارگی بطور خاکہ نگار سے متعارف کروانا چاہتا ہوں۔ بلونت کے جو خاکے میں نے پڑھے ان میں ریشماں، سعادت حسن منٹو، شیو کمار بٹالوی، خوشونت سنگھ اور ایم۔ ایس۔ رندھاوا (تقسیم ہند کے وقت دہلی کا ڈپٹی کمشنر) وغیرہ شامل ہیں۔ بلونت اس طرح خاکہ لکھتا ہے جیسے ایک کہانی سنا رہا ہو جس میں ہر کردار کہانی کے پلاٹ کا حصہ ہو۔ اس لیے اس کے خاکے کو پڑھنے کے بعد قاری خاکے کے مرکزی کردار سے پوری طرح واقف ہو جاتا ہے اور اس کی شخصیت کا شاید ہی کوئی پہلو ہو جو قاری پر واضح نہ ہو پائے۔

وہ خاکہ لکھتے ہوئے اپنے تعلق کو ظاہر ضرور کرتا ہے مگر وہ خاکے کی ضرورت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ وہ خاکے میں اپنا بیانیہ یوں ترتیب دیتا ہے کہ کردار کا فن اور شخصیت پڑھنے والے پر خودبخود نکھر کر سامنے آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اسے اہتمام نہیں کرنا پڑتا کہ اب کردار کی تعریف کرنی ہے یا برائی بل کہ بیانیہ فطری طور پر خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتا جاتا ہے۔ مثلاً یہ اقتباس پڑھیں : ”منٹو کو اپنے فن پر ناز تھا۔ وہ شرط لگا کر ڈرامہ لکھ لیا کرتا تھا۔ اس کا عام اعلان تھا تمام دوستوں کے لیے کہ آپ کوئی سا موضوع بتائیں۔ میں اس پر ڈرامہ لکھ دوں گا پر شرط دو درجن بیئر کی بوتلیں ہوں گی“ ۔

ایک دوست نے چیلنج دیا ”کبوتری“ اس پر ڈرامہ لکھو۔ منٹو نے فوراً لکھ دیا جو مقبول بھی ہوا۔

ایک دفعہ دوستوں کے ساتھ اسی موضوع پر بات جیت ہو رہی تھی کہ اسی دوران میں ایک آدمی دروازے پر آیا اور اجازت مانگی ”کیا میں اندر آ سکتا ہوں“ اس کا دوست فوراً بولا: ”مزہ تو تب ہے اگر منٹو اس عنوان پر ڈرامہ لکھے“ ۔ بیئر کی شرط لگ گئی اور منٹو نے ”کیا میں اندر آ سکتا ہوں“ پر ڈرامہ لکھ دیا۔ اس مذکورہ پیرا گراف سے قاری پر واضح ہو رہا ہے کہ منٹو اپنے فن پر بلا کی مہارت رکھنے والا، شرابی، اور حس مزاح رکھنے والا انسان تھا۔

اسی خاکے سے ایک اور اقتباس دیکھیں۔ ”لاہور سے شائع ہونے والے رسالے ادب لطیف کے ایڈیٹر اور مالک چوہدری نذیر (جو آرائیں قوم سے تعلق رکھتے تھے ) صرف چار جماعتیں پاس تھا۔ ٹھیٹھ پنجابی بولتا تھے۔ جس نے اپنے چچا برکت علی کے ساتھ مل کر مکتبہ اردو قائم کیا جو جلد سارے ہندوستان کا سب سے بڑا اور مقبول پبلشنگ ہاؤس بن گیا۔ چوہدری نذیر ہر مصنف کی تخلیق کو پڑھتے اور پرکھتے تھے سوائے منٹو کے۔ منٹو ہی کی کہانی کے انتظار میں کئی دفعہ انہیں اپنا رسالہ بھی دیر سے شائع کرنا پڑا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گارگی خاکے کے فن سے اچھی طرح واقف تھے۔ وجہ یہ کہ اس اقتباس میں چوہدری نذیر کا تعارف کروانا جو منٹو کے فنی قد کاٹھ کے تعین کے لیے بہت ضروری تھا۔ اگر وہ صرف یہ کہہ دیتے کہ پبلشرز منٹو کی کہانی کے انتظار میں رہتے تو منٹو کی اہمیت کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا۔

دوسرا خاکہ ریشماں جی کا بلونت گارگی نے یوں روح سے لکھا ہے کہ آپ ریشماں کی شخصیت و فن کے دل دادا بن جاتے ہیں۔ ذرا دیکھیے ریشماں جی کے فن کو قاری سے کیسے متعارف کرواتا ہے۔ ”رات کے تین بج رہے تھے۔ ریشماں جی گا رہی تھیں۔ راج کپور بار بار اپنے سینے پر مکے مارتا اور ساتھ گنگناتا: ہائے او ربا! قربان جاواں۔ ہائے او ربا۔“ اس خاکے میں گارگی بتاتا ہے کے ریشماں کے اعزاز میں دلیپ کمار، امجد خاں وغیرہ نے بھی محفل سجائی مگر خاص ذکر راج کپور کا کیا کیوں کہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ راج کپور کا موسیقی کا علم بے مثل تھا۔ اس کی مثال خاکے میں صنعت کا درجہ رکھے گی۔ آگے چل کر ریشماں کی شہرت کو یوں بیان کرتا ہے : ”ریشماں نہیں جانتی ایم۔ ایف۔ حسین، منی کرشنا مورتی، اور خوشونت سنگھ کون ہیں پر یہ سب جانتے ہیں کہ ریشماں کون ہے“ ۔

ریشماں جی کی سادگی اور معصومیت کو جب بیان کرتا ہے تو پڑھنے والا دنگ رہ جاتا ہے مثلاً جب ریشماں جی کو حاضر بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنے گھر پر دعوت دی۔ ریشماں جی اور اس کے ساتھی وقت سے پہلے پہنچ کر اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہو چکے تھے۔ تھوڑی دیر بعد اندرا گاندھی اندر داخل ہوئی۔ ریشماں جی کے پاس آ کے ملی اور سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔ ریشماں جی اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اندرا گاندھی سے مخاطب ہوئیں۔ ”اجازت ہے، گانے کی“ ؟

اوشا بھگت نے ریشماں جی کے لیے چائے کا کہا ہوا تھا تو اتنی دیر میں بیرا چائے لے کر اندر داخل ہوا۔ اندرا گاندھی نے کہا: ”پہلے چائے پی لیں“ ۔

ریشماں جی بولی: ”چائے نہیں، اب تو گانے کو من چاہ رہا ہے“ ۔
مسز گاندھی مسکراتے ہوئے کہنے لگی: ”ہمارے پاس بہت وقت ہے، بہت وقت۔ آپ پہلے چائے پی لیں“ ۔
ریشماں جی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: ”اب تو صرف گانے کو ہی جی کرتا ہے“ ۔

بلونت گارگی کا ہر ایک خاکہ اپنی مثال آپ ہے۔ جو اتنا مربوط، دلچسپ، اور فنی اعتبار سے مکمل ہوتا ہے کہ اس کا ایک ایک فقرہ مزہ بھی دیتا ہے اور اگر اس کو تحریر سے نکال دیا جائے تو تحریر وہاں سے پھیکی پڑ جائے گی۔ اس مضمون لکھنے کا مقصد ایک تو آج کی نسل کو بلونت گارگی سے متعارف کروانا تھا اور دوسرا یہ کہ ہم دنیا کے دوسرے بڑے لکھاریوں کی تحریروں کا ترجمہ کر کے ان پر تو فخر کر رہے ہوتے ہیں مگر اپنی مٹی کے لوگوں کو پڑھنا اور ان کے ادب کی تعریف کرنا ہم نے کیوں گالی بنا لیا ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ ان کو بڑھا چڑھا کر بیان کریں مگر جتنا ان کا حق ہے وہ تو ان کو دیں۔ زبان کبھی دشمنی کی وجہ نہیں بنتی بل کہ اس کے نام پر ہونے والی سیاست اور اس سے ذاتی فائدے حاصل کرنا اصل جنگ کی وجہ ہے۔ آئیں ہم ادب کو تو اس سیاسی جادوگری سے پاک کر کے تخلیق اور تخلیق کار کو اس کا جائز مقام دینا شروع کریں۔ ادب کو بڑا بنانا ہے تو حقیقی بڑے تخلیق کاروں کے کام کو پہچاننا ہو گا۔ ان کو جائز مقام دینا ہو گا۔

ویسے بھی بڑا ادب زبان کا مسئلہ نہیں ہوتا، یہ تو خالصتا انسان کا مسئلہ ہے۔ جس زبان کو جتنا بڑا انسان (تخلیق کار) مل گیا اس نے اتنا بڑا ادب اس زبان کی جھولی میں ڈال دیا۔ زبانوں کے پاس تخلیق کاروں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔ یہ تو تخلیق کار پر منحصر ہے کہ وہ زبان سے کیا لیتا ہے۔
گارگی صاحب ابھی آپ کے گھر کی تلاش جاری ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *