جھوٹی خبریں، مستند خبریں اور دیکھنے کی ضد


ایٹم کیا ہے؟ الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران کیا کام سرانجام دیتے ہیں؟ کس سائنسدان نے سب سے پہلے ہمیں ایٹم اور اس کی ساخت کے بارے میں بتایا؟ یونانی فلاسفر ڈیموکریٹس نے سب سے پہلے اس پر کام کیا اور بعد کے سائنسدانوں جیسے ڈالٹن، جے جے تھامسن، ردرفورڈ اور بوہر نے ایٹم کی ساخت پر پر تجربے کیے۔ ہمارے جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ سب سے پہلے کس نے دریافت کیا؟ انگریز معالج ولیم ہاروے نے ہمیں یہ سمجھایا۔ اسی طرح حرکت کے قوانین اور دوسرے سائنسی ایجادات کے بارے میں ہم نے سائنس کی کتابوں میں پڑھا۔ ان تمام ان دیکھی چیزوں کے بارے میں ہمارے اساتذہ نے ہمیں پڑھایا اور اب بھی طلباء اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور یقین کے ساتھ دوسرے لوگوں تک یہ علم پہنچاتے ہیں۔

تاریخ سے ہمیں پتہ چلا کہ ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی کو پانی پت کے مقام پر شکست دی اور مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ہمایوں کے بعد شیر شاہ سوری، اکبر، جہانگیر، شاہ جہان اور اورنگزیب حکمرانی کرتے رہیں اور بہادر شاہ ظفر مغلوں کے آخری حکمران قرار پائے۔

کارل مارکس نے داس کیپیٹل لکھی۔ اور اپنے اور بعد کے دور کو بہت متاثر کیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ محمد علی جناح نے پاکستان بنایا اور علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھ کر نوجوان نسل کو اپنی شاعری سے متاثر کیا۔ امام ابو حنیفہ اپنے دور کے جلیل القدر عالم تھے اور حنفی فقہ مرتب کی۔ صحیح مسلم، صحیح بخاری، سنن ابو داود اور امام مالک کی موطا احادیث کی کتابیں ہیں۔ تاریخ نے ہمیں بتایا کہ امام تیمیہ، طبری، ابن اسحاق، ابن سینا، ابن خلدون، امام غزالی اور ابن رشد اپنے اپنے شعبے کے ماہر اشخاص تھے۔ ر لوگوں نے ان کے کام کو دیکھا۔ کسی نے ان کے کام پر تنقید کی اور کسی نے ان کو سراہا۔

اسی طرح میثاق لکھنو، نہرو رپورٹ، چودہ نکات، جلیانوالہ باغ کا واقعہ، قرارداد لاہور اور 1946 کے انتخابات کے علاوہ تاریخ، معیشت، سماج، مختلف تہذیبوں کا رہن سہن اور ان جیسے لاتعداد واقعات، واردات، قصے، کہانیاں، بیانات اور شخصیات ہیں جن کے بارے میں ہم تک معلومات مختلف ذرائع سے پہنچے ہیں۔ ان واقعات میں سچ اور جھوٹ دونوں کا آمیزہ شامل ہوتا ہے۔ کچھ من گھڑت باتیں بھی مختلف شخصیات اور واقعات سے منسوب ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جس سے ہم روگردانی یا انکار نہیں کر سکتے جسے مستند تاریخ کہا جاتا ہے۔

یہ تمہید میں نے اس لئے باندھی کیونکہ جب سے کرونا کی وبا آئی ہے تو مختلف قسم کے لوگ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم نے کرونا کا کوئی مریض اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے۔ اگر ہم دیکھ لیں تو ہمارا اس وبا کی وجودیت پر کامل یقین ہو جائے گا۔ لیکن یقین کے لئے بعض اوقات دیکھنے کی حس کافی نہیں ہوتی۔ اور بھی بہت سے ذرائع ہوتے ہیں جس سے ہم کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ اوپر جن شخصیات یا واقعات کا ذکر ہوا ہے ان میں سے ہم نے کسی شخص کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

مستند تاریخ سے اور ہم عصر لوگوں کے بیانات پڑھ کر ہم نے یقین کر لیا کہ ایسا ہوا ہوگا۔ اب جناح کے بیانات، کارل مارکس کی سوچ یا اقبال کی شاعری کے بعض پہلوؤں سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے۔ مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تحریک پاکستان میں جناح نام کا کوئی شخص تھا ہی نہیں، کارل مارکس نے داس کیپیٹل نہیں لکھیں یا علامہ اقبال شاعر تھے ہی نہیں وغیرہ۔

ارل بیبی نے اپنی ریسرچ کی کتاب میں لکھا ہے کہ آپ نے نیشنل جیوگرافک میگزین میں پڑھا کہ جاپان میں لوگ جاپانی زبان بولتے ہیں۔ یا وٹامن سی سے آپ سردی کو روک سکتے ہیں، یا غیر محفوظ جنسی عمل سے آپ کو ایڈز لگ سکتا ہے۔ یہ باتیں کسی شعبے کے ماہرین نے آپ کو بتائی اور آپ نے یقین کر لیا۔ شاید ہم نے ان چیزوں کے متعلق مشاہدہ کیا ہوگا اور نہ ہم نے خود سے یہ چیزیں دریافت کی ہے۔ مگر ہم کسی ماہر کی کہی ہوئی بات سے متفق ہو جاتے ہیں۔ اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر آپ بیمار ہیں اور ڈاکٹر آپ کو پیناڈال یا کوئی سیرپ پینے کا مشورہ دیتا ہے۔ تو آپ بلا چون و چند اس کے مشورے کو پلو سے باندھتے ہیں۔ کیونکہ آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ دوائیوں کے معاملے میں ڈاکٹر مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ اب ڈاکٹر نے سیرپ یا گولیاں بنانے کے عمل کو دیکھا ہے نہ اس میں جو اجزاء شامل ہوتے ہیں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ مگر پھر بھی ہم وہی طریقہ اپناتے ہیں جو ڈاکٹر نے ہمیں گوش گزار کیا ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں کرونا کی طرف جس نے ساری دنیا کی معیشت، تجارت، سیاحت اور لاتعداد شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے متعلق لوگوں کے مختلف آراء ہیں۔ اور دھڑا دھڑ جعلی خبریں اور ویڈیوز روزانہ کی بنیاد پر شیئر ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کوئی گیم کھیلا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ طاقتور ممالک کمزور ممالک کے باسیوں میں چپ لگانا چاہتی ہے تاکہ ان کو اپنی مرضی سے کنٹرول کرسکیں۔

اب سب لوگ تو اتنے سیانے نہیں ہوتے جو پروپیگنڈا مواد، جعلی اور مستند خبروں کا فرق سمجھ سکیں۔ ان کے لئے پہلا اور آخری آپشن یہ ہوتا ہے کہ وہ اس مواد پر یقین کر لیں اور دوسروں تک بھی یہ مواد پہنچائے۔ ایسے لوگوں میں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں شامل ہیں۔ جو وقتاً فوقتاً کسی تصویر، ویڈیو اور آرٹیکل کو اس بنیاد پر پھیلاتے ہیں کہ کرونا وائرس کو غلط ثابت کریں۔ کمنٹس میں سب یورپ، امریکہ اور سازش کرنے والوں پر لعن طعن کے نشتر برساتے ہیں۔ ایسے سوشل میڈیا کے نام نہاد اینٹی کرونا جنگجو پر امید ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ اور سازشی عناصر کا قلع قمع کیا۔ یہ لوگ آپ سے ہاتھ بھی ملاتے ہیں۔ چوراہوں پر گپیں بھی ہانکتے ہیں۔ اور ہاتھوں کی صفائی کے لئے صابن کا استعمال تو بالکل نہیں کرتے۔

مگر حقیقت سازشی تھیوریوں کے بالکل برعکس ہیں۔ دنیا میں لاتعداد آزاد، غیر جانبدار اور معتبر صحافی ہیں۔ بہت سارے مستند چینلز ہیں جو ہمیں معلومات دے رہی ہیں کہ کرونا وائرس سے اموات ہو رہی ہیں۔ زندگی کا پہیہ اس وائرس نے روک رکھا ہے۔ سیاحت اور کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ بے روزگاری سے کروڑوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ غربت کا گراف بڑھ گیا ہے۔ اگر ایسی خبریں مجھے نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ، بی بی سی، الجزیرہ، ڈان، دی نیوز، ٹریبیون، گارڈین اور دوسرے چینلوں کے معتبر اور مستند صحافی دے رہے ہیں تو میں ان خبروں اور تجزیوں کو کو من و عن تسلیم کروں گا۔ کیونکہ بیک وقت سب جھوٹ نہیں بول سکتے اور نہ ہی یہ چینلز اپنی کریڈیبلٹی اور صحافتی اقدار کو پیروں تلے روند ڈالیں گے۔

Facebook Comments HS