’اب ترک ہمیں بتائیں گے کہ کون ہمارا دوست ہے اور کون دشمن؟‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

turkey referendum

BBC

اگر ہماری طرح ہی آپ بھی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ہر طرف کورونا وائرس کی خبریں اور ٹرینڈ دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہے ہیں تو آئیں آپ کی توجہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی کسی اور طرف لے چلتے ہیں۔

کہاں؟ متحدہ عرب امارات! کیوں؟ آگے پڑھیے تو!

ویسے تو پچھلے کچھ عرصے میں متحدہ عرب امارات انڈیا اور پاکستان میں سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر متعدد بار اہم موضوع بحث بنا ہے۔ انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات اور مسلمان مخالف لہر پر اماراتی شہزادی ہند القسیمی کی جانب سے ٹوئٹر پر بارہا تنقید انڈیا اور پاکستان میں ٹرینڈ بھی بنی اور میڈیا پر بھی خبروں میں بھی آئی۔

لیکن اس بار بات کچھ مختلف ہے۔

ہوا یہ کہ گذشتہ روز پاکستان میں شام آٹھ بجے کے قریب ہیش ٹیگ بائیکاٹ یو اے ای ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنا شروع ہوا جو بظاہر ایک ترک شہری علی کسکن نے شروع کیا۔ علی کسکن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق وہ ایک صحافی ہیں۔

وہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہیں اور اکثر ترک صدر اردوغان کی تصویریں ٹویٹ کرتے ہیں۔ علی کسکن کو بہت سے پاکستانی ٹوئٹر صارفین فالو بھی کرتے ہیں۔

علی کسکن نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘متحدہ عرب امارات اب ترکی کا دشمن ہے۔ میں اپنے سب مسلمان دوستوں سے کہتا ہوں کہ متحدہ عرب امارات پر پابندیاں عائد کریں’۔

#BoycottUAE

 

یہ ٹویٹ ہزاروں دفعہ لائیک کی گئی اور اس پر بہت سارے پاکستانیوں کی طرف سے سینکڑوں کمنٹ آئے۔ جیسے کہ پاکستان سے اسد چودھری نے لکھا کہ ‘اُن کی خاموشی اور انڈیا کی حمایت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ہم غداروں کو معاف نہیں کریں گے۔

BoycottUAE

آپ کا دشمن ہمارا دشمن ہے۔

اور ظاہر ہے اگر آپ ٹوئٹر پر متحدہ عرب امارات کے خلاف بات کریں گے تو اماراتی بھی جواب دیں گے!

 

اماراتی ٹوئٹر صارف حسن سجوانی نے جواب میں لکھا کہ ‘جب تم دبئی یا ابوظہبی میں نوکری کے لیے بھیک مانگتے آؤ گے تب تم سے پوچھیں گے کہ دہشت گرد کون ہے؟

 

ترک، پاکستانی، اماراتی میدان میں آگئے تو انڈین پیچھے کیوں رہیں!

جھٹ سے ایک انڈین ٹوئٹر صارف نے کہا کہ ‘ہم انڈین ہمیشہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں’۔

آپ کو شاید یاد ہو، کچھ عرصے پہلے جب متحدہ عرب امارات نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ سے نوازا تھا تو اس پر پاکستان میں سوشل میڈیا پر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ یہ ایوارڈ ایک ایسے وقت میں دیا گیا تھا جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کے بعد وادی میں لاک ڈاؤن جاری تھا۔

 

ریٹائرڈ میجر گورو آریہ بھی بحث میں کود پڑے۔

انھوں نے لکھا کہ ’کچھ ہفتے پہلے تو پاکستانی متحدہ عرب امارات سے اپیل کر رہے تھے کے انڈیا کا بائیکاٹ کریں۔ اب صرف ایک مہینے بعد پاکستان میں ’بائیکاٹ یو اے ای ٹرینڈ‘ کر رہا ہے۔۔ ترکی نے کچھ ٹکڑے پھینکے اور پاکستانیوں نے اپنی وفاداری رات گئے بدل لی۔‘

اب ٹوئٹر پر اس طرح کی بحث تہذیب کے دائرے میں رہے اس کا امکان اکثر کم ہی ہوتا ہے۔

 

ابھینو کھرے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان میں بائیکاٹ یو اے ای ٹرینڈ کروانا متحدہ عرب امارات کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ اب اُن کی گاڑیاں کون چلائے گا؟”

ساتھ ہی بہت سے انڈین ٹوئٹر صارفین نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی سعودی شہزادے محمد بن سلمان کو گاڑی چلا کر لے جاتے تصویر بھی شیئر کی۔ بتائیں!

 

پاک ترک فرینڈشپ نامی ہینڈل نے لکھا کہ ‘عرب ہمارے ساتھ وفاداری نہیں کرتے۔ وہ اپنے مفادات دیکھتے ہیں۔ کافی بار انھوں نے ہماری پیٹ میں چھرا گھونپا ہے۔ ترکی ہی وہ ایک ملک ہے جو ہمیشہ ہمارے شانہ بشانہ رہا ہے۔‘

اسی طرح کے اور تبصرے بھی کیے گئے، لیکن کچھ لوگ تھوڑا کنفیوز اور پریشان بھی ہوئے۔

 

محمد ابراہیم قاضی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘عزیزم علی، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تاریخی روابط ہیں اور یہ

#BoycottUAE ہیش ٹیگ ہمارے باہمی تعلقات کے مفاد میں نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ترکی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات ہیں مگر دونوں برادرانہ ممالک کو بات چیت کر کے ان کا حل نکلالنا چاہیے’۔

حالیہ دنوں میں پاکستان میں ترک ڈرامہ ارطغرل کافی مقبول رہا ہے اور اسی سے متاثر ایک ٹوئٹر صارف نے علی کسکن کو اس ٹرینڈ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘بھائی دنیا میں مسلمانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور وہ #BoycottUAE نہیں۔ جب ہم ارطغرل دیکھتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ سلجوق اس لیے زوال پذیر ہوئے کیونکہ مسلمانوں میں آپس میں دشمنیاں تھیں’۔

آصف منیر نے ٹویٹ کی اور کہا کہ ‘متحدہ عرب امارات یہاں کام کرنے والے بہت سے لوگوں کے لیے گھر ہے اور وہ اپنی سرزمین میں بسنے والے خاندانوں کا پیٹ پال رہے ہیں، ہمیں ترکی سے محبت ہے مگر ہمیں متحدہ عرب امارات سے بھی محبت ہے۔ میں 42 سال سے متحدہ عرب امارات میں رہ رہا ہوں اور میں نے اماراتیوں میں نفرت نہیں دیکھی’۔

گھنٹوں بعد بھی یہ ہیشٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔

ذوہیر ظفر نے وہ سوال پوچھا جو شاید کئی لوگوں کے ذہن میں تھا کہ ’کیا مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ ہیش ٹیگ کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟‘

جبکہ طحہ منیب نے لکھا کہ ’اب ترک ہمیں بتائیں گے کہ کون ہمارا دوست ہے اور کون دشمن؟‘

اچھا اتنی بحث ہو رہی ہو اور ایک بھی پیروڈی اکاؤنٹ کا ذکر نہ ہو؟ ناممکن! دی زیدو لیکس نامی اکاؤنٹ کی ایک ٹویٹ کا سکرین شاٹ انڈیا میں بہت شئیر کیا گیا۔

ٹویٹ میں لکھا تھا؟ یہ: ‘شاباش میرے عزیر پاکستانی بہن بھائیو، بائیکاٹ یو اے ای ٹرینڈ کرنے کا مگر براہ کرم یہ نوٹ کر لیں ہم نے اُن کے 30 ارب ڈالر دینے ہیں۔ اگر ہم بیس کروڑ پاکستانی اپنی ایک آنکھ اور ایک گردہ عالمی مارکیٹ میں بیچ دیں تو 33 ارب ڈالر ملیں گے۔ اُن کی رقم واپس کرتے ہیں اور بقیہ 3 ارب کی اگلے تین سال کے لیے مفت بریانی کھاتے ہیں۔’

ویسے تو اس ٹرینڈ پر مزید ٹویٹ کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اب ہماری توجہ اس پیروڈی اکاؤنٹ کی پن کی گئی ٹویٹ پر چلی گئی ہے: مفت بریانی کا اتنا شوق!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 13519 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp