نواب رئیسانی اور بلوچستان کا ناکام مقدمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کی دھرتی کو ہم ماں سمجھتے اور ماں کہتے ہیں۔ ماں کی طرح اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔ اس کے ریگستانوں اور پہاڑوں سے پیار کرتے ہیں۔ اس دھرتی پر بسنے والی تمام ماؤں کے دکھ کو سمجھتے ہیں۔ ہر بیٹے کی طرح اس کی تکلیف پر بے چین ہو جاتے ہیں۔ لیکن آج یہ سسکیاں لے کر رو رہی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کا مان ٹوٹ چکا ہے۔ اس پر بھروسا نہیں کیا جا رہا۔ کیا یہ بانجھ ہو چکی ہے۔ کیا اس دھرتی ماں نے کوئی ایسا سپوت نہیں جو اس کے حقوق کا دفاع کر سکے اس کا قرض لوٹا سکے۔ اس کے پرانے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔

عوامی حلقوں میں صوبے کی تاریخ کی غیر مقبول صوبائی حکومت نے جاوید جبار این ایف سی میں بلوچستان کا نمائندہ بنا دیا ہے جس نے بے بس بلوچستانیوں کی طرح مجھے بھی جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات تھی کہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے وزیر خزانہ کے مخالفت کے باوجود اپنے صوبے کے ماہرین کو نظر انداز کر کے کراچی میں مقیم شخص کو نمائندہ بنا کر اپنے صوبے کے لوگوں کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ گویا جام کمال جہاں صوبے انتظامی معاملات ٹویٹر کی دنیا سے چلانے کے عادی ہیں۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کو بھی اپنا ٹویٹر کا نجی ہینڈل سمجھ رکھ ہے کہ جو دل میں آیا داغ دیا۔

این ایف سی ایوارڈ کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ بلوچستان میں بسنے والوں کے لئے موت، زندگی اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ اس مقدمے کو اگر کسی نے بہترین انداز میں لڑا ہے تو وہ نواب اسلم رئیسانی ہیں۔ بطور وزیراعلی بلوچستان بہت سارے معاملات پران سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کیونکہ کہنے کو تو ان کے ساتھ شامل تمام جماعتیں اور ارکان حکومت کا حصہ تھیں لیکن بیرونی خطرات سے لے کر اندرونی مسائل تک کا مقابلہ کرنا تن تنہا نواب رئیسانی کی ذمہ داری تھی اور یوں وزیراعلی کے ساتھ وہ اپنے دور حکومت میں بدامنی کے زد میں رہنے والے بلوچستان کے اپنے خاموش ترین وزیر اطلاعات یونس ملازئی کی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے مجبور تھے۔

ملکی میڈیا کے تابڑ توڑ حملوں کو طنزومزاح میں ٹالنے کے ماہر وزیراعلی کو ”ڈگری، ڈگری ہے، چاہے اصلی ہو یا جعلی ہو“ جیسے جملے بھی متعارف کرانے پڑے لیکن انہوں نے صوبے کے لئے جو اہم ترین خدمات سرانجام دیں اور این ایف سی میں بلوچستان کا مقدمہ ایک حقیقی حکمران کی طرح لڑا جس نے صوبے کی حکومت کی معاشی حالت بدل کر رکھ دی اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ان کی اپنی حکومت تو این ایف سی ایوارڈ کے بعد حاصل ہونے والے فائدوں سے زیادہ مستفید نہ ہو سکی لیکن اس کے بعد کے تمام حکومتوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔

این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ 5 فیصد سے بڑھا کر 9 فیصد کرنا، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مدد 120 ارب روپے لینا، این ایف سی فارمولے کے مطابق بلوچستان کے حصص کے آئینی تحفظ دینا کہ اگر وفاقی حکومت ٹیکس کم بھی جمع کرتی ہے تو بلوچستان کا حصہ نہیں کاٹا جائے گا۔ سب نواب رئیسانی کے مرہون منت ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کو اگر دیکھا جائے تو وزراء اعلی اسلام آباد چلے جاتے تھے اور اگلے روز اخبارات کی شہ سرخیاں ہوتی کہ وفاق نے صوبائی حکومت کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادا کرنے کی رقم دینے کی منظوری دے دی پورا سال صوبائی حکومتوں کا اس میں گزر جاتا اور تنخواہوں کی مد میں اور ڈرافٹ کی صورت میں 18 سے 20 ارب روپے بینکوں کی ادائیگی بلوچستان حکومت کی ذمہ واجب الادا تھے جب کہ اس رقم کی ادائیگی بھی این ایف سی ایوارڈ میں وفاقی حکومت کے ذمے داری بنا دی گئی اور یوں یہ رقم بھی وفاق کو ادا کرنی پڑی۔

بلوچستان ایک ایسا صوبہ تھا کہ جس کے پاس اس اکاؤنٹ زیرو ہو جاتے تھے۔ اوور ڈرافٹ 18 سے 20 ارب روپے بن چکا تھا جس کی مد میں مختلف بینکوں کو سالانہ کروڑوں روپے سود ادا کرتی لیکن این ایف سی ایوارڈ کے پہلے سال اس پوزیشن پر آ گیا تھا کہ 8 ارب روپے مختلف بینکوں میں انویسٹ کر دیا گیا تھا۔ اگر یہ دلیل دی جائے کہ نواب رئیسانی نے باہر کے شخص سابق وفاقی سیکریٹری پٹرولیم گل فراز اختر کو اس وقت این ایف سی کا ممبر بنایا تھا تو چونکہ اس وقت ہمارا مسئلہ سوئی گیس کی مد میں وفاقی حکومت کے ساتھ گیس کے بقایا جات تھیں بدلے میں وفاق سے 120 ارب روپے گیس سرچارج کی مد میں لیا بھی تھا تو اس کے ساتھ ناصر محمود کھوسہ جیسے اچھے چیف سیکرٹری اور محفوظ علی خان جیسا زیرک انسان کی بھی ٹیم میں موجودگی تھی جس نے کسی بلوچستانی سے بڑھ کے بلوچستان کا مقدمہ لڑا جبکہ موجودہ دیگر ناکام حکومتی ٹیم کے ساتھ موجودہ چیف سیکرٹری سے یہ توقع خام خیالی ہوگی۔

جام کمال کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ این ایف سی ایوارڈ صرف حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے صوبے کا مسئلہ ہے جس کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرنا لازمی تھی۔ اگر اس این ایف سی میں صوبے سے تھوڑی سی بھی زیادتی ہوئی تو کیا جام کمال کے ساتھ جاوید جبار اس کو سہہ سکیں گے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ اتنا باریک اور دشوار گزار راستہ ہے جس پر چلنے سے اخلاقی طور پر جاوید جبار کو خود معذرت کر لینی چاہیے۔ جاوید جبار خود عقل مند ہیں۔ یقیناً سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply