بچی ہوئی شادی شدہ زندگی!

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک خبر بہت اچھلی۔ ایک خاتون نے اپنے شوہر کو ان کی محبوبہ کے گھر میں جا پکڑا۔ چونکہ یہ ویڈیو کسی طرح لیک ہوگئی یا کر دی گئی تو اس پہ طرح طرح کے تبصرے ہوئے۔ ان خاتون کے بقول وہ اپنی شادی شدہ زندگی بچانے کے لیے یہ سب کر رہی تھیں۔ مشرق میں عموماً اور پاکستان اور انڈیا میں خصوصاً شادی ایک رومانی تصور ہے۔ لڑکا پیدا ہوتے ہی اس کے سہرے گائے جانے لگتے ہیں اور لڑکی کی ماں کو چھٹی ہی میں کان کا زیور تک اتار کے بیٹی کے جہیز کے لیے سینت دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

بیٹے کی ماں شروع سے بیٹے کے کان میں یہ بات ڈالتی ہے کہ ایک دن ایک عورت آئے گی اور اسے اس کے سب رشتوں سے چھڑا دے گی۔ وہ پالنے والی ماں اور جان چھڑکنے والی بہنوں کو بھول جائے گا اور خالہ، نانی زہر لگیں گی۔ مختصراً اسے آنے والی عورت کی بات نہیں سننی، اس سے محبت نہیں کرنی ورنہ وہ زن مرید بن جائے گا۔

باہر دوستوں میں نکلتے ہی جوں ہی مسیں بھیگنے اور چھپ کے پہلا سگریٹ پینے کی عمر آئے گی تو دوست ’بچی‘ پٹانے اور آنے والی بیوی سے یہ راز چھپانے کے تیر بہدف نسخے بتانے لگیں گے۔

پہلی کمائی آنے پہ، جاننے والے، رشتے دار، سب ہی بہانے بہانے سے اپنی کمائی اپنے ہاتھ میں رکھنے اور آنے والی کو ’قابو‘ کر کے رکھنے کا مشورہ دینے لگیں گے۔

شادی کا وقت آئے گا تو تب پہلی بار اندازہ ہوگا کہ شادی کے معاملے میں جس شخص کی رائے سب سے غیر اہم ہے وہ دولہا خود ہے۔

لڑکیوں کا تو یہ ہے کہ ابھی پالنے سے پاؤں نکلا نہیں کہ ’اگلے گھر‘ سے ڈرانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ ہر بات پہ ’اگلے گھر‘ میں کیسے گزارا کیا جائے گا کا مسئلہ آن کھڑا ہوتا ہے۔

محبت اور اپنی پسند ناپسند کے بارے میں سوچنا ایک ایسا جرم ہے جس کی معافی ہمارے سماج میں کبھی نہیں ملتی۔ خاص کر ایک لڑکی تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ کس قسم کے شخص سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ یہ سوچنا ’بڑوں‘ کا کام ہے۔

اب بڑوں کے معاملے کس کو معلوم نہیں؟

سارا بچپن، ایک نمبر بڑا جوتا اور دو سائز کھلے کپڑے اس لیے پہنائے جاتے ہیں کہ جلدی چھوٹے نہ ہو جائیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب نئے ہوتے ہیں تو جھابڑ جھلے، دیوانے کے چولے، ادھرسے ادھر لٹکتے پھرتے ہیں اور جب مسک کے، چرسیں پڑ کے، شکل سے بد شکل ہو جاتے ہیں تو پورے آتے ہیں۔ اس وقت کس کام کے؟

مگر تب بڑے ان چیتھڑوں کو دیکھ کر اس قدر خوش ہوتے ہیں کہ دیکھا، دو سال ہو گئے، آج تک پورا آ رہا ہے۔

مرد، عورت، شادی

ایسی ہی، دوسائز بڑی، بے جوڑ، بے تکی، شادیاں بھی کی جاتی ہیں اور ان شادیوں کو نبھانے کے لیے، اپنی زندگیاں برباد کرنے والوں کی مثالیں یا تو فخریہ دی جاتی ہیں یا وہ خود ہی اپنی اذیت ناک زندگی کے بھیانک واقعات، اس قدر جھوم جھوم کے سناتے ہیں کہ سننے والوں پہ بیک وقت ہیبت، دہشت اور رقت طاری ہو جاتی ہے۔

ان کہانیوں کا لب ِلباب مردانہ محفلوں میں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک دفعہ بڑوں کے کہے سے شادی کر لو، باقی سب تو چلتا ہی رہتا ہے۔

یہ کہنے کے ساتھ ساتھ آنکھیں ماری جاتی ہیں کانوں میں اپنی ’خفیہ محبت بھری زندگی‘ کہ کہانیاں پھونکی جاتی ہیں اور ‘جی داروں’ کے قصے سنائے جاتے ہیں جو ‘بھابھی جی’ کی ناک کے نیچے سب کچھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیوی سے محبت اور وفاداری کا سبق کوئی نہیں دیتا کیونکہ جو ایسا کرتا ہے اسے ہمارے سماج کی سب سے ننگی مردانہ گالی ’ایہہ تے بڈھی دے تھلے لگ گیا‘ دی جاتی ہے۔

زنانہ محفلوں میں ’میں نے تو منہ سے بھاپ نہ نکالی‘ کا لاحقہ لگا لگا کر ایسی دلدوز حقیقتیں اور آپ بیتیاں سنائی جاتی ہیں کہ دنیا سے جی ہی اٹھ جاتا ہے۔

سب ہی مرد بے وفا، زانی، شرابی اور ریا کار لگنے لگتے ہیں۔ سارے بہنوئی، بھائی، تایا، چچا، دادا،نانا، پھو پھا، خالو، سب کی پولیں کھل جاتی ہیں کہ شادی کے اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔

اس طرح شادی کی یہ عمارت جن بنیادوں پہ کھڑی ہوتی ہے ان میں سوائے، جھوٹ، ریاکاری، لالچ، خوف اور منافقت کے کچھ نہیں ہوتا۔

شادی شدہ زندگی بچانے کی ساری ذمہ داری لڑکی پہ ڈال کے سب بڑے، اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں کیونکہ بقول ان کے وہ ’کرم‘ کے ساتھی نہیں ہوتے۔ بیوی سے بے وفائی کا یہ کھیل کبھی کبھی بگڑ بھی جاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں بگڑا۔

مگر زیادہ تر، یہ سب چلتا رہتا ہے۔ بیوی شوہر کی بے وفائی اور بدی کو ٹالتی رہتی ہے۔ سارا معاشرہ آنکھیں بند کئے بیٹھا رہتا ہے۔

زندگی گزر جاتی ہے، امنگیں سرد اور ولولے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں، چاہنے اور چاہے جانے کی تمنا ماند پڑ جاتی ہے۔

زندگی بھر ادھر ادھر بھاگنے والے تب سفید پڑتے بالوں اور چرسیں سی پڑی کھال والے کھسیائے ہوئے بڈھے بنے، لپسہ حریرہ بیگم کے پیچھے بے دال کے بودم کی طرح پھرتے ہیں اور لوگ ان پہ رشک کھاتے ہیں۔

یہ بچی ہوئی شادی شدہ زندگی کی ایک تصویر ہے۔ یہ تصویر بہتر بھی ہو سکتی ہے مگر اس کے لیے شادی نامی ادارے کی اصلاح بہت ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •