حقیقت میں ارطغرل غازی مسلمان تھے یا بت پرست؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پی ٹی وی پر چلنے والے شہرہ آفاق ڈرامے ارطغرل غازی سے اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ نا صرف واقف ہو چکا ہے بلکہ وہ نسل جو تصوراتی اور افسانوی ہیروز کے سحر سے باہر نہیں نکلتی تھی وہ بھی اب ارطغرل، بامسی اور ترگت کو اپنا ہیرو ماننے لگ گئی ہے۔ جہاں نوجوان لڑکے حلیمہ جیسی صابر، وفا شعار اور بہادر لڑکی کے خواب دیکھنے لگ گئے ہیں تو وہیں دوسری طرف لڑکیاں بھی ارطغرل جیسا دلیر، ذہین اور دھن کا پکا مرد اپنے خوابوں میں سجائے بیٹھی ہیں۔ ایسے میں اچانک اس سوال کا جنم لینا بے حد معنی خیز ہے کہ کیا حقیقت میں ارطغرل غازی ایسے ہی تھے یا ان سب باتوں کے بالکل برعکس وہ ایک بت پرست تھے؟

اس سے پہلے کہ اس سوال کے جواب کو تلاش کیا جائے۔ ہم چاہیے کہ اس سوال کی حقیقت سے بھی واقف ہو جائیں۔ اس سوال کے لئے جو حوالہ دیا جاتا ہے وہ کتاب تاریخ دولت عثمانیہ سے لیا گیا ہے جو ڈاکٹر محمد عزیر کی لکھی ہوئی ہے اور 1939 میں پہلی دفعہ شائع ہوئی اور اس وقت تک ڈاکٹر محمد عزیر پی ایچ ڈی درحقیقت مولوی محمد عزیر ایم اے تھے اور اسی کتاب کے دیباچے میں سید سلیمان ندوی نے مصنف موصوف کو اسی نام سے مخاطب کیا ہے۔

اس کتاب میں ایک جگہ مصنف لکھتے ہیں کہ اب سے بائیس سال قبل تک یہ امر عموماً مورخین کے نزدیک مسلم تھا کہ ارطغرل اور اس کے ساتھی ایشیائے کوچک میں داخل ہونے سے پہلے ہی مسلمان تھے۔ لیکن 1916 میں مسٹر ہربرٹ گینس نے اپنی مستند تالیف اساس سلطنت عثمانیہ کو شائع کر کے یہ تازہ تحقیق پیش کر دی ہے کہ سوگوت میں بودوباش اختیار کرنے کے وقت عثمان اور اس کے قبیلے کے لوگ بت پرست تھے۔ مزید اسی طرح کے ایک اور شبہ کا اظہار مولوی محمد عزیر نے ایک اور برطانوی مصنف ڈاکٹر جولیس گرمانی کی کتاب ترکوں کی اسلامی خدمات کا حوالہ دے کر بھی لکھ جو کہ 1932 میں لکھی گئی تھی۔

بلاشبہ ایک اچھے مورخ کی طرح ڈاکٹر عزیر نے اپنی معلومات کو باقاعدہ حوالوں سے مزین کر کے پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیا لیکن اس سے یہ مطلب اخذ کرلینا کہ اب یہ معلومات حتمی ہیں اور ان پر ایمان لے آنا کسی طور بھی عقل مندی نہیں۔ ایک طالب علم ہونے کہ ناتے میں ان معلومات کو قطعاً سچ نہیں مانتا کیونکہ ضروری یہ ہے کہ ان معلومات کا حالات و واقعات کی ترتیب اور دیگر مورخین کی دی گئی معلومات سے موازنہ بھی کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ سادہ الفاظ میں تاریخ کا پوسٹ مارٹم بھی کیا جانا چاہیے۔ سو آئیے اب پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔ اور چند دلائل سے اپنا موقف ثابت کرتے ہیں کہ ارطغرل غازی پیدائشی مسلمان تھے۔

1۔ ارطغرل کا انتقال 1288 کے قریب قریب بتایا جاتا ہے۔ اور مولوی محمد عزیر صاحب کے مطابق 1916 تک یعنی سوا چھ سو سال تک یہ بات متفق علیہ تھی کہ ارطغرل اور ان کا قبیلہ مسلمان تھے۔ پھر یکا یک کہاں سے یہ تحقیق سامنے آ گئی؟ اور کیوں؟

اس کا جواب ہے کہ یہ نئی تحقیق اس وقت کی گئی تھی جب خلافت عثمانیہ اپنے آخری دور سے گزر رہی تھی اور اس کی ساکھ بچانے کے لئے اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید نے مسلمانوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے سوگوت میں ارطغرل غازی کے مزار کی تعمیر نو کی اور ان کے ساتھی مجاہدین کا ایک علامتی قبرستان بھی آباد کیا جس کا مقصد ترکوں کو ان کے آبا و اجداد کی طرف راغب کرنا تھا۔ ایسے میں اس وقت کے دشمن انگریز اور برطانوی کالونی کے زیر انتظام امریکہ تک کے مصنفین کا ترک مسلمان ہیروز کو کافر یا بت پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرنا کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے۔

2۔ خود مولوی محمد عزیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز جو کہ 717 سے 720 تک خلیفہ رہے ان کے دور سے ہی ماورا النہر کے ترک بادشاہوں کو باقاعدہ اسلام کی دعوتیں دی جا چکی تھیں اور ان میں سے اکثر اسلام قبول بھی کر چکے تھے۔ اور دسویں صدی تک ماورا النہر کی ترک قوم کے دس ہزار خیمے اسلام قبول کر چکے تھے جو ساغون اور کاشغر کے علاقوں میں آباد تھے۔ اسی دوران اسلام ترکوں میں اتنی تیزی سے پھیل رہا تھا کہ دو لاکھ سے زائد ترک خیمے مسلمان ہو چکے تھے۔

خود آخری عباسی خلیفہ کی ماں بھی ترک النسل تھی اور اسی وجہ سے معتصم باللہ نے سامرا میں بہت سے ترکوں کو آباد کر کے اس کو اپنا پایہ تخت بنایا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ چنگیز خان کے پوتے برقائی خان اپنی فوج سمیت مسلمان ہو چکے تھے ایسے میں تیرہویں صدی تک تاتاریوں سے برسر پیکار رہنے والے ارطغرل اور ان کے قبیلے کا اسلام نہ لانے کا سوال اٹھانا بلا جواز اور غیر منطقی ہے۔

3۔ مولوی محمد عزیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ بروسہ اور نبی شہر کے درمیان ایک جنگ میں ارطغرل نے سلطان علا الدین کیقباد کے نائب کی حیثیت سے تاتاریوں اور بازنظینیوں کی ایک متحدہ فوج کو بری طرح شکست دی تو اس کے صلے میں سلطان علا الدین نے نا صرف ارطغرل کو صدر سلطانی کا علاقہ دیا بلکہ اپنی فوج مقدمۃ الجیش کا سپہ سالار بھی مقرر کر دیا۔ اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ایک ایسا سلطان جو ایک ساتھ بت پرست تاتاریوں اور صلیبیوں کے ساتھ نبرد آزما ہو اور مسلم امہ کی آخری امید ہو وہ بھلا ایک بت پرست کو اپنی فوج کا سپہ سالار صرف اس کی بہادری کی وجہ سے کیوں بنائے گا؟

4۔ 1301 میں اچانک عثمان اول کی قیادت میں عثمانی سپاہیوں کی بازنظینیوں کے ساتھ شدید لڑائی اور شہنشاہ تک کی فوج کو شکست دینا ایک معجزے سے کم نہیں جس کی منطق ڈاکٹر ہربرٹ گینس کے نزدیک عثمان کی فوج کا نو مسلم ہونا بتایا جانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کھسیانی بلی کا کھمبا نوچنا۔ ۔ ۔ یعنی عثمانی فوج نے اپنے سے کئی گنا بڑی اور منظم فوج کو صرف اس لئے شکست دے دی کہ وہ سب تازہ تازہ جذبہ ایمانی سے منور ہوئے تھے۔ الحمدللہ مسلمان نیا ہو یا پرانا لیکن جب بھی بات دین کی اور اسلام کی بقا کی آتی ہے تو مسلمان واقعی ایسی تاریخیں رقم کر جاتا ہے کہ اس کے دشمنوں کی آہ و بکا صدیوں تک سنی جا سکتی ہے۔

5۔ اب ذرا دیگر دلائل کو بھی مختصراً دیکھ لیں تو ارطغرل غازی کی ایک مسلمان سلجوقی شہزادی حلیمہ خاتون سے شادی اور ارطغرل کے والد سلیمان شاہ کا نام بذات خود ایک دلیل ہے کہ کیا کسی بت پرست نے اپنا نام سلیمان شاہ رکھا یا شہزادہ نعمان کی بیٹی حلیمہ خاتون نے ایک بت پرست سے شادی کی؟ مزید اگر دیگر مورخین کو دیکھا جائے تو ابن اثیر، فرشتہ، علامہ شبلی نعمانی، حسرت موہانی اور نجیب اکبر آبادی کی کتب میں تفصیل سے ارطغرل اور ان کے اجداد کے مسلمان ہونے کا تذکرہ ملتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ جدید انگلش مورخین کیرولائن فنکل (عثمان کا خواب 2005 ) ، سٹینفورڈ جے شا (سلطنت عثمانیہ کی تاریخ اور جدید ترکی 1977 ) ، لیسلے پی پیریئس (دی امپیریل حرم 1993 ) وغیرہ نے اپنی کتب میں تفصیلی ذکر میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عثمان اور ان کے اجداد مسلمان تھے۔ فنکل کی کتاب عثمان کا خواب میں سوگوت اور اس کے نواح میں تو مسلمانوں کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر بہت سے عیسائیوں تک کے اسلام قبول کرنے تک کے شواہد کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس تمام بحث سے حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ارطغرل غازی اور ان کے اجداد نہ صرف مسلمان بلکہ عظیم ترین مجاہدین بھی تھے۔ جنہوں نے کمزور پڑتی ملت اسلامیہ کا بھرپور دفاع کر کے ناصرف تاتاریوں اور بازنطینیوں کو شکست دی بلکہ اپنی مسلسل اور ان تھک جدوجہد سے ایک نئی اسلامی خلافت کی بنیاد بھی رکھی جس نے بلا مقابلہ 400 سال تک مسلمانوں پر متفقہ حکومت بھی کی۔

ایسے میں ارطغرل غازی کے مسلمان ہونے پر سوال ایک ایسا ہی شوشہ ہے جس کی مثالیں اس سے پہلے بھی کئی مل چکی ہیں۔ بدقسمتی سے ابھی تک ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پایا کہ آج کے اس کانٹینٹ وار کے دور میں ہم پر مسلط قوموں کی پالیسی ہی یہی رہی ہے کہ ہم سے ہمارے ہیروز اور راہ نما چھین لئے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن قاسم ہوں یا محمود غزنوی، ٹیپو سلطان ہوں یا صلاح الدین ایوبی حتیٰ کہ قائد اعظم محمد علی جناح تک سب کے کرداروں کو مشکوک بنا نے کے لئے ہر ماہ دو ماہ بعد کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے اور ہمارے نام نہاد لبرل دانشور اس کو سچ مان کر انگریز مصنفین کی بات کو حرف آخر مان لیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ان حقائق کا پوسٹ مارٹم کر لیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *