فرض کریں اگر ہیلری کلنٹن امریکہ کی صدر منتخب ہو جاتیں؟

چھوٹے سے واقعے سے بڑا طوفان
ایک چھوٹا سا واقعہ کئی بار بہت بڑی تبدیلیوں کا پیش خمہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت برپا ہوسکتی ہے جب ایک بہتر تاریخ اصل واقعات سے بدل جاتی ہے۔ اس سیریز میں خلائی سفر کے زبردست منصوبوں کا ذکر ہے، جس میں چاند پر ایک اور ڈرامائی قدم رکھنے کا بھی واقعہ بھی شامل ہے۔
یہ ایک لحاظ سےایک جذباتی قسم کی تمثیل بھی بن جاتی ہے، جب تاریخ کے حقیقی کردار اس افسانوی کہانی کے خلانوردوں کے ہمراہ موجود ہوتے ہیں۔ اس سے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم نیل آرم سٹرونگ کی حقائق پر مبنی اصل فلم ‘فرسٹ مین’ کی طرح یہ سیریز دیکھ رہے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ سیریز جس کا ٹائیٹل ‘فار آل مین کائینڈ’ ہے، پہلی خلائی نورد عورت کا ذکر کرتی ہے، جو سنہ ستر کی دہائی کے اوائل میں خلا کا سفر کرتی ہے، جبکہ اصل میں پہلی عورت نے خلائی سفر اس سیریز کے وقت کی نسبت ایک دہائی بعد کیا تھا۔
لیکن اس سیریز میں ان کی کامیابی کے پیچھے جو مشکلات تھیں ان پر زیادہ بات کی گئی ہے۔
اس میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ قابلِ غور ہیں۔ یہ عورتیں عدم تحفظ کا اپنی قابلیت سے مقابلہ کرتی ہیں اور اس سے ان کے اپنے اپنے پارٹنرز کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بات کا تو ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ اس وقت کے جنسی تعصب والے رویوں کی بھر مار ہے۔
اس متبادل افسانوی تاریخ میں رچرڈ نکسن دوسری مرتبہ کے صدارتی انتخاب میں شکست کھا جاتا ہے اور ٹیڈ کینیڈی صدر بن جاتا ہے۔ لیکن جیسا کہ سیریز ‘دی گُڈ فائیٹ’ میں دکھایا جاتا ہے، صدارت کا یہ دور آسانی کے ساتھ نہیں گزرتا ہے۔ اور سیریز میں مسلسل ہلاکتوں کے واقعات جاری رہتے ہیں کچھ خلائی حادثات کی وجہ سے اور کچھ دنیا کے اپنے واقعات کی وجہ سے۔
نسوانی حقوق کے رجحان والی تخلیقات میں ‘دی ٹیسٹامنٹ’ ہے جو پچھلے برس ستمبر میں شائع ہوا تھا۔ اٹوُوڈ ایک آرٹسٹ کے طور پر ظلم و جبر کی ریاست کی جگہ ایک مثالی ریاست قائم کرنے کی علامت کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
آخر انھوں نے سنہ 1985 میں ایک ظلم و جبر والی بدترین ریاست ‘دی ہینڈمیڈز ٹیل’ میں تخلیق کیا تھا۔ جمہوریہ گیلیڈ میں ‘ہینڈ میڈز’ یعنی کنیزوں کو ایک جنسی غلام اور کمانڈروں کے بچے پیدا کرنے کی فیکٹریوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
سنہ 2017 میں آکر ہُولُو کے زمانے یہ عمل اور بھی زیادہ واضح ہوجاتا ہے، جب حقوقِ نسواں کے لیے کام کرنے والی خواتین رہنماؤں پر حملے ہوتے ہیں۔ مارگریٹ اٹوُوڈ کا نظریہ اس حد تک پریشان کن ہے کہ سیریز کے افسانوی وقت یعنی سنہ 2195 میں جمہوریہ گیلیڈ کے بارے میں عقدہ کھلتا ہے کہ وہ ماضی کی باقیات میں سے ہے۔

یہ اس لمحے اور بھی زیادہ سمجھ میں آنے والا نظریہ لگتا ہے کہ اٹوُوڈ ‘دی ٹیسٹامنٹ’ میں واقعات کے تسلسل کی ترتیب سے امید کی ایک کرن دکھاتی ہے۔
پہلا معرکہ ناول کے پندرہ برسوں کے بعد دکھایا ہے جب جمہوریہ گیلیڈ اپنے سقوط کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس ناول میں تین افراد کہانی سنانے والے ہیں۔ ایک خوفناک آنٹی لیڈیا ہیں جو کہ مرد لیڈر کے ظلم و زیادتی کے کاموں میں اس کی خوشی کے ساتھ آلہِ کار بننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اپنی ماضی کی کہانی خفیہ طور پر لکھ رہی ہے، جس میں ایک مکمل تاسف ہے، اور دوسری دو مدد کرنے کی سازش کر رہی ہیں، جس میں ایک نوجوان خاتون ہے جس کی گیلیڈ میں پرورش ہوئی اور جو خطرے کے وقت مزاحمت کرتی ہے اور گیلیڈ میں جرائم اور کرپشن کے شواہد کے ساتھ کینیڈا بھاگ جاتی ہے۔
لیڈیا کو اب احساس ہوتا ہے کہ گیلیڈ ریاست کا وجود ممکن کیسے ہوتا ہے۔
اس نے اور ملک کی باقی آبادی نے ماحول اور معاشرے کے زوال کے اشاروں کو نظرانداز کیا۔ وہ کہتی ہے کہ ‘سیلاب، آگ لگنے کے واقعات، آندھیوں اور سمندری طوفانوں، پھولتی ہوئی اقتصادیات اور بے روزگاری کے اشاروں پر ہمیں توجہ دینی چاہئیے تھی۔’ یہ کتنا جانا پہچانا سا لگتا ہے؟ اٹنوُوڈ اس واضح غفلت کو تسلیم کرتے ہوئے مخلتف کرداروں کی دی ہوئی قربانیوں اور ان کی صعوبتوں کے بعد ایک بہتر مستقبل کی نوید دیتی ہے۔
یہ فکشن ایک خوش آئیند لمحے کا اشارہ دیتے ہیں
اگرچہ صرف پُر امید ہونا کافی نہیں ہے۔
ریان مرفی کی نیٹ فلِکس پر سیریز ‘ہالی وُوڈ’ جو اسی طرح کی متبادل تاریخ کے موضوع پر بنائی گئی ہے۔ اس کے مطابق فرض کریں اگر امریکہ کی فلم انڈسٹری میں سنہ 1940 کی دہائی میں نسلی تعصبات، جنسی تعصبات اور ہم جنسی سے نفرت کے رجحانات پر قابو پالیا گیا ہوتا تو کیسا ہوتا۔
یہ سیریز اصل میں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح متبادل تاریخ پر سیریز نہ بنائی جائے۔ یہ شاندار پروڈکشن والی سیریز لازمی طور پر دیکھے جانے کے قابل ہے، باوجود اس کے کہ اس کے مکالمے بہت ہی بے کار ہیں اگرچہ اداکاری اچھی ہے۔ لیکن اس کا ناگوار ہونا شاید اس کے مسائل میں سے سب سے چھوٹا معاملہ ہے۔
اس بچگانہ انداز میں بنائی گئی فلم میں ماضی کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ ایک سیاہ فام عورت آسکر ایوارڈ جیت لیتی ہے۔ ایک فلم کے ہم جنس پرست سیاہ فام سکرین رائیٹر بھی ایک انعام حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایشیائی نژاد امریکی بھی ایوارڈ حاصل کر لیتا ہے۔

ایسے جس طرح مرفی کے ہاتھ میں کوئی جادو کی چھڑی ہو، اور نسلی رکاوٹیں اور جنسی تعصبات خود بخود غائب ہو گئے ہوں۔ ‘ہالی وُوڈ’ ایک خواب جیسی فلم ہے۔ لیکن اس کا جنوں اور پریوں کی کہانیوں کی طرح حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ حقیقت میں تو ہیرو کو مشکلات پر قابو پانے کے لیے بہت جد و جہد کرنا پڑتی ہے۔
جرات مندانہ انداز میں کی جانے والی متبادل تاریخ پیش کرنے کی کوششیں یہ پیغام نہیں دے رہی ہیں کہ ہم مڑ کر ماضی کی طرف سفر کرسکتے ہیں اور ماضی میں جا کر وائرس کو روک سکتے ہیں، تعصبات ختم کرسکتے ہیں، یا بریگزٹ کا نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ ’ورن ہر وون برون‘، جو کہ حقیقی زندگی میں ایک سائنسدان ہے، ‘فار آل مین کائینڈ’ کے ایک افسانوی منظر میں کہتا ہے کہ ‘ہر سیاسی نظام میں نقائص ہیں اور ہر نوکرشاہی بدعنوان ہے۔’
یہ فکشن بہت ہی ٹھوس انداز میں حقیقت بیان کرتے ہیں۔ یہ آج کے دور میں پُرمسرت لمحات پیش کرتے ہیں۔ اگر ہم ماضی کا متبادل انداز میں تصور کرسکتے ہیں، چاہے اس میں نقائص ہی کیوں نہ ہوں، تو ہم ایک بہتر مستقبل تخلیق کرنے کے قریب ہو سکتے ہیں۔


