آصف فرخی: سنہری مونچھوں والا نوجوان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجانے سن ننانوے تھا یا دو ہزار، یہ خادم ایک پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں کراچی گیا تو حسبِ معمول سیدھے عزیزم حارث خلیق کے گھر جا کر بستر پٹکا۔ کچھ دیر بعد کچھ ادب دوست احباب تشریف لے آئے اور محفل جم گئی۔ یہ آصف اسلم فرخی سے رسمی ملاقاتوں کا نقطہ آغاز تھا، جس نے ایک مستقل تعلق کو جنم دیا جو کل دوپہر جسمانی طور پر ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔ لیکن یہ محض پہلی رو در رو ملاقات تھی۔ یونیورسٹی کے زمانے میں ہرمن ہیسے کے مشہور ناول “سدھا رتھ” کا اردو ترجمہ ہاتھ آیا تو یہ خادم اپنی تمام تر علمی بے بضاعتی کے باوصف، ناول کے بیانیے اور ترجمے کی خوبی میں ایسا جکڑا گیا کہ اب تک اثر باقی ہے۔ یہ آصف فرخی سے پہلا تعارف تھا۔

ہمارے ہاں ہماری غیر ملکی ادب سےروشناسی اکثر انگریزی ادب تک محدود رہتی ہے۔ یہ سہرا آصف فرخی اور محترم اجمل کمال کے سر جاتا ہے کہ انہوں نے دیگر زبانوں، ہسپانوی، اطالوی، عربی، ہندی، تمل، پنجابی، پرتگیزی ادب کو، براہ راست یا انگریزی ترجمہ کی راہ سے ہم تک اردو میں پہنچانے کی ابتدا کی۔ ان اصحاب کی کاوشیں نہ ہوتیں تو کم از کم اس خادم جیسے لوگ تمام عمر ان زبانوں کے ادب سے واقف نہ ہو سکتے۔

آصف اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال سے متعلق تھے۔ انہوں نے امریکہ کی وقیع ترین جامعہ ہارورڈ سے صحت عامہ کے مضمون میں اعلی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ خادم اپنی ذات پر قیاس کرے تو ایک ناکام انجینئر ہونے کے سبب ترقیاتی اقتصادیات کی جانب آیا۔ سو اس باب میں آصف کے متعلق بھی یہی گمان تھا کہ یہ بھی بگڑا شاعر مرثیہ گو کی قبیل کا معاملہ ہے۔ اس خادم کے ایک مرحوم خالہ زاد بھائی تھے جنرل افتخار۔ وہ عالمی سطح پر جانے مانے پیتھالوجسٹ تھے اور ایم بی بی ایس کے علاوہ اس شعبے میں ڈاکٹریٹ کے بھی حامل تھے۔ آصف کسی دور میں ان کی زیر نگرانی کام کر چکے تھے۔ افتخار بھائی ان کا تذکرہ “سنہری مونچھوں والا نوجوان” کہہ کر کیا کرتے تھے۔ ایک روز نجانے کیسے ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے آصف کا ذکر چھڑ گیا تو انہوں نے قدرے تاسف سے کہا کہ اگر یہ شخص پیتھالوجی کے شعبے سے وابستہ رہتا تو بہت نام پیدا کرتا۔ نجانے کیوں صحت عامہ جیسے عمومی دھندے میں لگ گیا۔ اس سے اس خادم پر کُھلا کہ “ایاز قدرِ خود بشناس”۔ آصف کا اس شعبے کی جانب گریز ان کی انسان دوستی اور شوق کا غماز تھا، کسی مجبوری کے سبب نہیں۔

دیگر جسیم اداروں کے مانند اقوام متحدہ بھی بیوروکریسی کے سرخ فیتے کے حوالے سے بجا طور پر بدنام ہے۔ اس خادم کے ایک دوست ہیں ڈاکٹر ذوالفقار، جو آصف ہی کی طرح ایک وقیع امریکی یونیورسٹی سے صحت عامہ میں ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ آصف کے ادارے میں بقول شخصے “پکی” ملازمت پر متعین تھے کہ ایک روز بیوروکریٹک سرخ فیتے سے تنگ آگئے اور استعفی دے دیا۔ ان کی تقریبِ الوداع میں جب انہیں رسمی تقریر کا موقع دیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ ان کےاستعفی کا سبب آصف فرخی ہیں۔ احباب آصف جیسے بے ضرر بلکہ مہربان شخص کی ذہنی حالت کا اندازہ کر سکتے ہیں جو یہ سن کر ہوئی ہوگی۔ پھر ذوالفقار نے وضاحت کی کہ انہوں نے زندگی میں اس شعبے کا آصف سے بڑا ماہر نہیں دیکھا لیکن ایک بیوروکریسی کا کل پرزہ ہونے کے سبب، ان کی اس حوالے سے کوئی شہرت نہیں ہے۔ لوگ انہیں جانتے ہیں تو ان کی ادبی حیثیت کے سبب۔ پھر یہ ایزاد کیا کہ میں تو ادب سے بھی کوئی علاقہ نہیں رکھتا، سو یہاں رہا تو گمنام مر جاوں گا۔

اس خادم پر آصف کا ایک بڑا احسان ہے۔ یہ خادم شعر، ادب، تنقید، لفظیات سے مبتدیانہ دل چسپی رکھتا ہے۔ کبھی کوئی چیز لکھ ڈالی، کوئی شعر سرزد ہوگیا تو وہ دوستوں کے حلقے تک محدود رہتا تھا۔ آصف نے ایک محفل میں تقریبا زبردستی اس خادم سے کچھ چیزیں لے کر اپنے ادبی رسالے “دنیا زاد” میں چھاپیں اور اس کے بعد بھی مسلسل تقاضا کرتے رہے۔ ابھی دوچار روز قبل پیغام بھیجا کہ وہ کورونا کی وبا کے دنوں میں تخلیق ہونے والی تحریروں پر اپنے رسالے کا خصوصی شمارہ شایع کرنا چاہتے ہیں اور اس بارے میں “ہم سب” پر چھپنے والے سلسلہ مضامین کو ایک مسلسل مضمون کی شکل میں ڈھالنے کا حکم دیا۔ یہ خادم اس کاوش میں مصروف تھا کہ ان کی سناونی آ گئی۔

آصف کا اوڑھنا بچھونا علم و ادب تھا اور انہوں نے عسکری صاحب، سلیم احمد، سراج منیر، سب کی آنکھیں دیکھ رکھی تھیں، لیکن عاشق وہ انتظار حسین صاحب کے تھے۔ یہ خادم دمشق آتے ہوئے دنیا زاد کا تازہ شمارہ ساتھ لے آیا تھا۔ اس کے آخر میں آصف کا، شعور کے بہائو میں لکھا ہوا ایک مضمون ہے جس میں انتظار صاحب کے کسی افسانے میں مذکور” کھنڈال” کے درخت کا تذکرہ ہے۔ جب آصف کے نامی والد ڈاکٹر اسلم فرخی حیات تھے تو وہی نہیں، ہم سب دوست ایسے معاملات میں مسکت رہ نمائی کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے۔ آصف نے لکھا کہ اس مینارہ نور کے بجھ جانے کی کمی کا انہیں اس درخت کی تلاش کرتے ہوئے مزید شدت سے احساس ہوا۔ انہوں نے نذر الحسن صدیقی سے لے کر شمس الرحمن فاروقی تک بہت سے علماء سے رابطہ کیا مگر تشفی بخش سراغ نہ مل سکا۔ اس خادم کو خیال آیا کہ اس درخت کا سرا ادبی ذخیروں اور علماء کے قاموسوں میں نہیں، اتر پردیش کے کسانوں کی بولی ٹھولی میں ملے گا۔ چنانچہ اپنے ہندی کے استاد اور مہربان دوست سید صولت عباس کی خدمت میں یہ اڑچن پیش کی۔ انہوں نے کمال مہربانی سے اپنے گاوں والے بزرگوں سے استفسار کر کے، بذریعہ صوتی پیغام اس درخت کی شناخت بہم پہنچائی۔ اس خادم نے وہی پیغام، بذریعہ یارِ عزیز عرفان خان، آصف کی جانب ترسیل کردیا۔ آصف علمی کھوج کے جنونی تھے۔ کسی لفظ کا پتا نہ ملتا تو بے چین رہتے۔ امید ہے کہ آنکھیں بند ہوتے وقت کم از کم “کھنڈال” کی الجھن کی بے چینی نہیں رہی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *