آصف فرخی: ایک مانوس اجنبی
جب سے آصف کے ساری دنیا کو جُل دے کر دنیا سے گزر جانے کی خبر سنی ہے دل اسی طرح اداس ہے جیسے کوئی گھر کا فرد روٹھ کے چلا گیا ہو، ہمیشہ کے لیے رشتہ ناتے توڑ کے۔ حالانکہ ان کی موت سے قبل باوجود کئی برس کی خط وکتابت کے وہ مجھے ذاتی طور پہ اتنے قریب محسوس نہیں ہوئے کہ میں ان سے بے تکلف دوستی کا رشتہ استوار کرتی۔ ان کی حیثیت میرے لیئے ہمیشہ مانوس اجنبی کی سی ہی رہی لیکن ادب کی قاری ہونے کی حیثیت سے میں ان کی بہت قدر کرتی تھی۔ وہ ادب کی تناور شخصیت تھے جنہوں نے ادب کی ترویج کے حوالے سے ایک زندگی میں کئی زندگیاں گزاریں۔ جن کی شدید مصروف زندگی کا محور خالصتاَ ادب تھا خواہ اردو ادب ہو یا ادب عالیہ کے تراجم۔
ان کی توانائیاں اردو ادب اور اس سے وابستہ جینوین ادبی لوگوں کے کام کو آگے بڑھانے کے لیئے تھیں۔ جنہیں ان کی نظر شناس نگاہیں عقاب کی طرح جا لیتیں اور وہ اپنی حوصلہ افزائی سے اس کے صحیح مقام پہ پہنچانے میں مصروف ہوجاتے، کبھی اپنے رسالے”دنیا زاد“میں چھاپ کے تو کبھی معتبر اخبار اور رسالوں میں ان کے ادبی کام کے متعلق اپنے مضامین لکھ کر۔ سینیئر ادیبوں کے ساتھ بھی ان کا باہم احترام کا رشتہ تھا۔ ذاتی طور پہ میں ڈاکٹر حسن منظر، ڈاکٹر شیر شاہ سید، شاہدہ حسن، عشرت آفرین اور حمیرہ رحمن کے حوالے سے ہی ان کے عزت واحترام اور دوستی کے اس مضبوط رشتے سے آشنا ہوں۔ تاہم آصف سے برسوں ای میل کا تبادلہ ہونے کے باوجود ہمارے بیچ ایک فاصلہ ہی سا رہا۔ رسمی سی دوستی۔ ا س کی وجہ شاید ادب سے میرا واجبی سا تعلق ہے جو پڑھنے کی حد تک ہی رہا ہے۔ مجھ میں فطری طور پہ وہ ادبی جرثومے ناپید ہیں جو مجھے ان کے ادب کے سمندر میں ڈوبے حلقہ احباب کا حصہ بناتے۔ تو اب جب کے وہ منوں مٹی تلے دب چکے ہیں میں اپنے سے کئی بار سوال کر چکی ہوں کہ اس مانوس اجنبی کی موت مجھے آخر اتنی حیران، پریشان اور شدید اداس کیوں کر گئی؟ کیوں میں نے تڑپ کے اپنے مشترکہ دوست ڈاکٹرشیر شاہ، عشرت آفرین اور شاہدہ حسن کو نم آنکھوں کے ساتھ فون کیا اور کیوں آج ان کے انتقال کے کئی دن گذر جانے کے بعد یہاں ان کی یادوں کا گلاب ہے کہ کھلتا ہی جا رہا ہے کہ جس کی تروتازگی اور چاروں اور پھیلتی مہک نے مجھے بالآخر اتنا بے کل کر دیا کہ میںنے اپنے سوگ کے اظہار کے لیے قلم اٹھا ہی لیا۔ ایک مانوس سا اجنبی جس نے اپنی موت کے بعد میرے دل کو جھنجھوڑا اورتاسف سے بار بار یہ کہلوایا“آصف نے جانے میں بہت جلدی کر دی”۔
آصف سے میری پہلی ملاقات ڈاکٹر شیر شاہ سید کے گھر ایک ڈنر پہ ہوئی۔ ان دنوں میں پاکستان گئی ہوئی تھی۔ جون اور جولائی کے سخت گرمی کے دنوں میں شیرشاہ کے قطر ہسپتال میں میرے سولہ اور اٹھارہ سالہ بچوں خرم اور زہرہ، نے ڈیڑھ ماہ والینٹیر کرکے شیرشاہ کا دل جیت لیا تھا۔ اور یہ ڈنر شیر شاہ کا ان کے بے لوث کام کااظہار تشکر تھا۔ گو یہ پر اہتمام دعوت میرے خاندان کے لیے تھی مگر اس میں آصف بھی شریک تھے جنہیں وہاں پہ گھر کے فرد کا درجہ حاصل تھا۔ شیرشاہ نے آصف کو بتایا کہ میں والٹ ڈزنی کی سوانح عمری چھپوانے میں دلچسپی رکھتی ہوں جو بچوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ میں نے اس کا ایک باب پڑھ کے سنایا جو انہیں پسند آیا مگر انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ بچوں کا ادب نہیں شائع کرتا۔ اسکے بعد ادب سے زیادہ کراچی کے حالات پہ باتیں ہوتی رہیں۔ جس کی خستہ حالی ہم سب کا مشترکہ المیہ تھا۔
لیکن سچ پوچھیں توآصف سے یہ ملاقات پہلی نہیں تھی۔ ہوا یوں کہ ایک شب میں اپنی عزیزازجان دوست اور کو لیگ مشہور شاعرہ، شاہدہ حسن (ہم دونوں عبداللہ کالج میں پڑھاتے تھے) سے فون پہ آصف کے کسی تازہ افسانوی مجموعہ پہ گفتگو کررہی تھی جو مجھے ازحد پسند آیا تھا۔ کافی دیر ہم دونوں ان کے انداز تحریر اور ادبی کمٹمنٹ پہ اظہار خیال کرتے رہے لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ کسی وجہ سے ٹیلیفون کے تار مل جانے کے باعث آصف اس تحسینی گفتگو کو خاموشی سے سن رہے تھے۔ دراصل یہ فون انہوں نے شاہدہ کو کیا تھا۔ دوسرے دن شاہدہ نے بتایا کہ پتہ ہے آصف ہماری ساری گفتگو سن رہے تھے۔ سامنے تعریفوں کے پل باندھنے والوں کی گفتگو کے بجائے یقینا یہ پیٹھ پیچھے کی تعریف انہیں زیادہ اچھی لگی ہوگی۔ میں نے کبھی بھی آصف کو نہیں بتایا کہ شاہدہ سے گفتگو کرنے والی اور آپ کی تعریفوں کے پل باندھنے والی میں تھی اور سچ پوچھیں توہمارا رشتہ ہمیشہ ہی دور سے ٹیلیفون کی ملاقات کی طرح ہی رہا۔
میری کتاب“ سب میرے لعل و گوہر“ کو آصف نے بہت محنت سے چھپوایا۔ اشاعت کے سلسلے میں ان سے ای میل پہ خاصا رابطہ رہا۔ ڈھیروں خطوط لمبے اور مختصر دونوں ہی لکھے گیے۔ یہ کتاب ان مشہور ہستیوں پہ لکھے مضامین اور انٹر ویوز پہ مشتمل تھی جو ماسوا چند کے، ذاتی زندگی میں میرے دوست رہے ہیں۔ تاہم اپنی دوستی اور محبت کی وجہ سے میں نے کچھ ایسے لوگوں کوبھی شامل کر دیاجن کی کوئی خاص ادبی یا کسی اور شعبہ میں اتنی اہمیت نہ تھی۔ جن کو مجموعہ سے نکالنے کا مجھے آصف کی جانب سے مشورہ ملا کہ ایک اصطبل میں گدھے گھوڑے ساتھ مت رکھیں۔ مجھے بے اختیار ہنسی آگئی مگر یقین نہیں کہ یہ سطر لکھتے ہوے وہ مسکرائے بھی ہوں گے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اپنی زندگی میں سنجیدگی سے ڈھیروں کام نپٹاتے ہوئے انہیں ہنسے مسکرانے کی مہلت کم ہی ملتی ہوگی۔ آخر ایک زندگی میں انہیں کئی زندگیوں کے کام نپٹانے تھے۔ اور پھر واپسی کا ٹکٹ بھی تو جلدی کا تھا۔
جب بھی شیرشاہ پاکستان سے امریکہ آتے تو اپنی جانب سے ڈھیروں کتابوں کے تحائف کے ساتھ آصف کے کتابوں کے تحفے بھی لاتے۔ آصف اپنی تمام مصروفیت کے باوجود اپنے دنیا زاد کے شمارے اور اسلم فرخی صاحب کی کتابیں بھجوانا نہیں بھولتے تھے۔ انہیں پتہ تھا کہ مجھے ان کے والد کی کتابیں اور ان کی زبان بے حد پسند ہیں۔ لوگوں کی زندگیوں سے میرے عشق کو بھانپتے ہوئے مجھے پاکستان کے ادبی میلے میں اپنے والد کی کتاب پہ مقالہ لکھنے کی باقاعدہ دعوت دی۔ انہوں نے شاید کچھ سوچ سمجھ کر ہی بلایا ہو گا لیکن ہم نے بھی اپنی ادبی قامت کو جانتے ہوئے سلیقے سے معذرت ہی مناسب سمجھی۔ دوسری بات یہ بھی تھی کہ جنوری میں ملازمت سے چھٹی ملنا بھی مشکل تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ ان کی پہلی اور آخری خواہش پوری کرنا ہماری قسمت میں نہیں تھا۔
2007ء میں میری والدہ کے انتقال پہ ان کا خط رسمی نہیں بلکہ دل سے لکھا ہوا محسوس ہوا۔ پھر جب امی کی برسی پہ میںنے دلگیر مضمون لکھا اور امریکہ کے اخبار اردو ٹائمز میں اشاعت کے بعد انہیں بھی بھیجا تو انہوں نے تاسف سے لکھا۔ “کاش آپ نے مجھے بھیجا ہوتا تو میں دنیا زاد میں چھاپتا۔ ” بس ان کا یہ کہنا ہی میرے لیے کافی تھا۔
آصف میرے توسط سے کینیڈا میں مقیم اردو کی سینئر افسانہ نگار اختر جمال کا افسانوی مجموعہ چھپوا رہے تھے۔ اختر جمال کی حیثیت میری نظر میں ماں کی سی تھی،بالخصوص امی کے انتقال کے بعد۔ تاہم باوجود میری مسلسل یاد دہانی کے اس کام میںآصف نے اتنی تاخیر کی کہ اختر جمال کا اپنے مجموعہ کی اشاعت کے انتظار میں ہی انتقال ہوگیا۔ وہ اتنی وضع دار خاتون تھیں کہ باوجود انڈیا کے دوسرے بڑے ناشروں کے اصرار کے اپنے وعدہ پہ دو سال ڈٹی رہیں کہ آصف سے وعدہ ہے تو وہی چھاپیں گے۔ ان کے انتقال کے بعد میں نے غالبا اداسی اورخفگی میں آصف کو ای میل کرنا بھی بتدریج کم بلکہ اب ختم ہی کردیا تھا۔ یہ ان کی کوتاہی تھی یا مصروفیت میں سوچتی ہی رہی۔ شاید دوستی بھی اتنی تھی ہی نہیں کہ اس کے کھونے کا ملال ہوتا۔ لیکن ان کے انتھک ادبی کاموں کا سنتی اور پڑھتی رہتی تو دل میں سراہتی رہتی۔
‘آن لائن میگزین”ہم سب“ پہ ان کے مضامین کا سلسلہ شروع ہوا۔ وہ پڑھتی اورپھر ان کے ویڈیو کالموں کو عبادت کی طرح سنتی۔ میری نظر میں انکی ادبی قامت بہت بڑی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ انہوں نے“ہم سب“ کے لیے اپنے مشکل اور سخت ادبی انداز تحریر کو کسی قدر سہل بنا دیا تھا۔ جو مجھ جیسے غیر ادبی لوگوں کو بھی بہ آسانی اپنی جانب کھنچ لیتا۔ تاہم اس کی وجہ سے ان کے علمی معیار پر آنچ نہیں آئی۔ سوچتی ہوں شاید انہیں اپنی عمر کی نقدی کے قلاش ہونے کا اندازہ ہو گیا تھا۔ اب وہ اس عمر جاوداں کی جانب رواں تھے جو کسی مانوس اجنبی کو پوری طرح اپنانے کے بعد اس یقین کے ساتھ ہوتی ہے کہ وہ سب کا تھا۔ ہر وہ شخص جس کو اردو سے محبت ہے وہ ان کے اپنے ہی تو تھے۔ وہ تو اردو ادب کا مضبوط ستون تھے جس نے کئی لوگوں کا بوجھ اکیلے اٹھایا ہوا تھا اور آج اپنی رخصتی کے بعد ہم سب اردو کے چاہنے والوں کے دلوں کو ویران اور بنجر کرگئے۔ مجھے یقین ہے کہ وقت کے ساتھ ہمیں ان کی ادبی قامت اور وقعت کا مزید احساس ہوگا۔ اور پھر ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔





