لگے رہو منا بھائی
کرونا کی عالمی وبا، جسے ہمارے عوام و خواص نے شروع سے ہی بہت آسان اور سادہ سمجھا وہ بھی اس زعم میں کہ ہم پاکستانیوں نے ہر طرح کا آلودہ پانی پی رکھا ہے اور ہر قسم کی ملاوٹ زدہ خوراک کھا رکھی ہے اور یہ جراثیم وغیرہ کو ہم بھلا کیا سمجھیں۔ لیکن اب جبکہ مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہسپتالوں میں صحت یابی کی منتظر ہے اور بڑے بڑے ہسپتالوں میں ”نو ویکنسی“ کے بورڈ نظر آتے ہیں تو ہمارا ذہن بے اختیار اسی آلودہ پانی اور ملاوٹ زدہ خوراک کی طرف لوٹتا ہے جس کے ”بھروسے“ پر ہم یہ دعوی کرتے تھے کہ ہمیں وائرس کیا کہہ سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب صحت یابی کے لئے بھی خالص غذا درکار ہے۔ وہ کہاں سے آئے گی؟
اس ضمن میں یار لوگوں نے کمائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ ابتدا ماسک، سینیٹائزر، ڈیٹول اوردستانوں سے ہوئی اور اختتام سنا مکی (جسے، مضر اثرات سے قطع نظر، چند فیس بکی حکیموں کی بدولت سوشل میڈیا پر کرونا کا سو فیصد علاج تصور کیا گیا) ، آکسیجن سلنڈر، پلس اوکسی میٹر، انجیکشن ریمڈیسیویر اور ٹیسیلی زومیب کی قیمتوں میں سو سے لے کر تین سو گنا اضافے پر ہوا۔ اس پرمستزاد یہ کہ سائیبر کرائم میں ملوث گروہوں کی الگ چاندی رہی۔
افریقہ کے جعلی کال سینٹروں میں بیٹھے scammers، پاکستانیوں کو بنک کا عملہ بن کر کالیں کرنے والے گروہ کے طور پرمتحرک رہے اور ان گروہوں میں ”اردو سروس“ مہیا کرنے والے پاکستانی سر فہرست رہے کیونکہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتے ہوئے فراڈیے با آسانی پہچانے جاتے تھے۔ اس لئے پاکستانیوں نے اس شعبے میں بھی اپنی خدمات فراہم کرکے دل خوش کر دیا ہے۔ شروع شروع میں Scam Callers جب اپنے تعارف کے ساتھ ساتھ حد سے زیادہ حال چال پوچھتے تھے تو تھوڑا شک ہوتا تھا لیکن اب تو ان کی روانی بھی قابل رشک ہے۔
بزرگوں سے سنا تھا کہ بر صغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کے وقت ہجرت زدہ قافلوں پر ہونے والے حملوں میں عورتوں کے کانوں سے بالیاں نوچنے کے واقعات عام تھے جس سے وہ لہو لہان ہو جاتیں۔ کسی لاش کی کنگن پہنی کلائیاں پھول جاتیں تو زیور اتارنے کے لئے پورا ہاتھ کاٹ لیا جاتا۔ پھر پاکستان بن گیا اور چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ اپنے ہی لوگوں نے، کسی ٹرین یا جہاز کے حادثے میں، موت کے منہ میں جاتے ہوئے بدنصیب مسافروں کو بچانے کی بجائے ان کی گھڑیاں، نقدی اور زیورات ایک بار نہیں۔ ہر بار لوٹے۔ سٹریٹ کرائمز کا تو حال ہی مت پوچھیں۔ سوچتا ہوں کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں جب کوئی اٹھائی گیر یا لٹیرا نظر آتا ہے اور وہ ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے تو اس کے گھر والوں کا رد عمل کیا ہوتا ہوگا؟ ماں، بہنیں، باپ اور بھائی کہتے تو ہوں گے کہ یہ دیکھو ہمارا لاڈلا کیا کر رہا ہے۔
اچھے لوگ نظر آتے ہیں لیکن خال خال۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ معاشرے کی تشکیل میں کہاں کمی رہ گئی؟ یہ لوٹ کھسوٹ، لاشوں پر منافع خوری اور اخلاقی گراوٹ پر شرمندگی اور شرمساری کا فقدان معاشرے میں کہاں سے سرایت کر گیا؟ کیونکہ انسان کے بارے میں تو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ فطرتاً معصوم ہے۔
اس کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے۔ وہ یہ کہ بچے کی پیدائش سے لے کر سکول جانے کی عمر تک اور پھر سکول کے ابتدائی چند سال، اس کی Ethical ٹریننگ اور نشوونما کی بجائے تعلیم کے نام پر اسے ایک رٹو طوطا بنانے پر پورا زور لگایا جاتا ہے۔ بنیادی Mannerism اور اچھے برے کی تمیز سکھانے کی بجائے اسے جھوٹ سکھایا جاتا ہے۔ اسے انسانیت سے محبت کا درس دینے کی بجائے عملی طور پر انسانوں میں تفریق سکھائی جاتی ہے اور وہ جذباتی طور پر ایک غیر متوازن شخصیت کا مالک بن کر ہر اس چیز کو درست سمجھنے لگتا ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔
”امید پر دنیا قائم ہے“ جیسے جذباتی ڈھکوسلوں سے نفرت سی ہو چلی ہے۔ اب دنیا کے اچھے یا برے ہونے کادار و مدار صرف اور آنے والی نسلوں کے حوالے سے، حکومتوں کی سطح پر، ایک منظم اور جامع پروگرام سے ہی ممکن ہے۔ ورنہ رفتگان کی طرح، نئی نسل اپنی پختہ عادتیں لے کر یہی ”کا ر ہائے نمایاں“ سر انجام دیتی رہے گی۔ سو لگے رہو! منا بھائی!


