وبا کے موسم میں عرفان خان، رشی کپور، آصف فرخی اور گلزار دہلوی کا ماتم

وبا کے خمار میں ڈوبی موت کا رقص اپنے جوبن پر ہے۔ یہاں سے وہاں تک خوف کی چھتری تنی ہوئی ہے۔ جو زندہ ہیں وہ اس خوف میں مرے جا رہے ہیں کہ کہیں اجل ان کو نہ آ پکڑے اور جو اس وبا سے ملک عدم کے راہی ہوئے وہ شاید اس آس میں پھر سے زندگی کی تمنا کرتے ہوں گے کہ اب کے ایسے حالات میں مریں گے جن میں کم از کم اتنا تو ہو کہ لحد کی دہلیز تک رخصت کرنے کے لئے سارے احباب آ سکیں۔

جب زندگی کے چراغ کی لو بے یقینی کے جھکڑ میں بار بار جھک کر زمین سے لگی جا رہی ہو تو فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے کہ جانے والوں کا ماتم کریں یا خود کی خیر منانے میں لگ جائیں؟ کیسے کیسے فنکار اس نفسانفسی میں ہی قریب سے اٹھ کر چلے گئے لیکن کس کا زور تھا جو ہاتھ پکڑ کر روک لیتا؟ ان سب کی موت وبا سے نہ ہوئی ہو لیکن حالات نے ان کے جانے کا زخم کچھ اور گہرا ضرور کر دیا۔ عرفان خان نے آنکھیں بند کیں تو کتنی ہی آنکھیں ویران ہو گئیں۔

یہ بھی کوئی عمر تھی چلے جانے کی؟ عرفان نے ایسا روگ پال رکھا تھا کہ دھڑکا سا لگا رہتا تھا۔ والدہ کا انتقال ہوا تو وہ وبا کی وجہ سے نافذ لاک ڈاؤن کے سبب جنازے کو کندھا نہ دے سکا۔ قریبی بتاتے ہیں کہ اس بات کا اس کے دل نے بڑا صدمہ لیا۔ بچہ بیمار ہو تو ماں کی گود چاہتا ہے۔ عرفان جان لیوا مرض میں گرفتار تھا اور ماں ہی چلی گئی۔ چند دن بھی نہیں لگے کہ عرفان نے اسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے قریب بیٹھی بیوی کو بتایا کہ ماں لینے آ گئی ہے۔

بہت سے چاہنے والے عرفان کے آخری دیدار کی تمنا لئے ہوئے تھے لیکن وبا پھر پیروں کی زنجیر ثابت ہوئی۔ گنتی کے لوگ عرفان کو قبرستان تک چھوڑ آئے۔ ابھی عرفان کو رو کر بھی نہیں نمٹے تھے کہ رشی کپور نے رخت سفر باندھ لیا۔ عام دن ہوتے تو گھر سے شمشان تک تل دھرنے کی جگہ نہ رہتی لیکن وبا کا موسم تھا اس لئے خاص خاص عزیز ہی رشی کپور کے جسم کو عناصر خمسہ میں ضم ہوتے دیکھا کیے۔

نادیدہ دشمن کے خوف سے دنیا دروازے بھیڑ کر تو بیٹھ گئی لیکن ایک دوسرے کے رابطے میں رہی۔ آصف فرخی بھی ان میں سے تھے جو فیس بک پر پرانی یادیں تازہ کرتے رہتے۔ میری فرینڈ لسٹ میں تھے اس لئے ان کی سرگرمیاں دیکھتا رہتا تھا۔ میں نے ان کے دوست اور اپنے استاد پروفیسر عبید صدیقی کے انتقال کی مناسبت سے لکھی تحریر فیس بک پر شیئر کی تو ایک لائک ان کی طرف سے بھی آیا۔ میں یہ دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے الجھ گیا۔ دراصل تحریر ہندی میں تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہیں ہندی پڑھنی آتی تھی یا پھر انہوں نے پوسٹ کے ساتھ لگی عبید صاحب کی تصویر دیکھ کر ہی لائک کر دیا تھا۔

فیس بک پر پابندی سے سرگرم رہنے والا اگر دو ایک دن کو خاموش ہو جائے تو کھٹکتا ہے۔ میں نے سوچا علمی ادبی آدمی ہیں کسی کتاب یا مقالے میں لگے ہوں گے۔ پھر عدنان خان کاکڑ کے ذریعہ شیئر کی گئی خبر سامنے پڑی تو دل پر گھونسا لگا۔ کسی نے ان کی تازہ قبر اور اس پر پڑے پھولوں کی تصویر بھی شیئر کی تھی۔

دہلی کی اردو تہذیب میں دلچسپی رکھنے والوں نے اخباروں میں جب پڑھا کہ ’پنڈت آنند موہن رتشی گلزار دہلوی کورونا سے صحتیاب ہو کر گھر واپس آ گئے ہیں‘ تو چین کی سانس لی۔ دو تین دن بعد ہی اطلاع آئی کہ گلزار دہلوی انتقال کر گئے۔ اس 93 سالہ بزرگ کو دہلی کی اردو تہذیب کا ستون سمجھا جاتا رہا۔ ساٹھ۔ ستر برس سے شہر کی ہر بڑی ادبی مجلس میں ان کی شرکت ضرور ہوا کرتی تھی۔ عقائد کے اعتبار سے ہندو مذہب کے پیروکار تھے۔

شہر کے معزز برہمن خاندان کے اس فرد نے زندگی بھر اردو تہذیب کی آبیاری کی۔ عمدہ شاعر تو تھے ہی اپنی وضع قطع اور شخصیت سے چلتی پھرتی اردو تہذیب معلوم ہوا کرتے۔ ایک ادبی مجلس میں شہر کے کسی کالج میں اردو پڑھنے والی مسلمان لڑکیاں سلام کرنے کو بڑھیں تو دعائیں دیتے ہوئے بولے ’سلطان جی اچھا رکھیں‘ ۔ پتہ نہیں ان لڑکیوں کو معلوم ہوگا یا نہیں کہ سلطان جی دراصل حضرت نظام الدین کا لقب ہے۔ شہر کی تہذیبی روایات کے مطابق یہ دعا دینے کا مخصوص ڈھنگ ہوا کرتا تھا۔

حضرت نظام الدین کی درگاہ کے لائف ٹرسٹی گلزار دہلوی کو عرس کے دوران میزبانی میں ہمیشہ مصروف پایا گیا۔ رمضان میں گھر پر افطار کا اہتمام کرتے اور مسلمان دوستوں کو مدعو کرتے۔ تحریک آزادی میں نغمے گانے سے لے کر تا دم آخر اردو کی خدمت گزاری تک ان کی شخصیت کے اتنے خصائص تھے کہ اب ان کے بغیر ہر بزم بے رنگ لگنی طے ہے۔

ویسے تو اردو والوں کی بے نیازی کو دیکھتے ہوئے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ حسن ظن کہتا ہے کہ دہلی کی اردو تہذیب کی اس آخری شمع کو رخصت کرنے کے لئے ایک خلقت ٹوٹ پڑتی لیکن برا ہو اس وبا کا کہ اب ان کے چاہنے والے یہ حسرت دل میں لے کر ہی جیا کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words