میری شناخت اور اساس
میں اپنی شناخت کی تلاش میں ہوں، آپ کو ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ میرا ملک 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا اس دن سے اب تک میری شناخت اور اساس کا معمہ حل نہیں ہو سکا۔
میرے دانشوروں اور سیاست دانوں کے مطابق میری شناخت کے تانے بانے جناب فاتح سندھ محمد بن قاسم سے ملتے ہیں۔ لیکن جب میں اپنے عرب بھائیوں سے تعلق جوڑنے لگتا ہوں تو وہ مجھے اپنانے سے مکمل انکار کرتے ہیں ان کے خیال میں تمام برصغیر پاک و ہند کے مسلمان مسکین لوگوں کی اماج گاہ ہیں۔
حال ہی میں مجھے ترکی کی جانب تعلق جوڑنے کا عندیہ دیا گیا مگر ترک بھائی بھی ہمیں اپنانے سے انکاری ہیں۔ حالانکہ میں نے ابن عربی سے متاثر ہو کر صوفی ازم اور روحانیت پر علمی تحقیق بھی شروع کر دی تھی۔ ہمارے علما تو پہلے ہی متنبہ کر چکے ہیں کہ قرب قیامت میں قبلہ ترکی کی طرف کر لینا کیونکہ عربوں میں سے اسلام تب تک نکل چکا ہو گا۔ چونکہ ہمارے ہاں بھی صوفی ازم کے پیروکار بہت زیادہ ہیں تو ہم نے تو ترکوں کو اپنا لیا تھا مگر وہ بھی انکاری ہیں۔
ملکی اساس کی تین بنیادیں ہیں ایمان، اتحاد اور تنظیم
ایمان ہمارا شروع سے خطرے میں رہا ہے، کیونکہ یہود و نصاری ہمارے وجود میں آتے ہی ہمارے خلاف کمر بستہ ہو گئے تھے۔ کرونا کی وبا نے ہمارے ایمان کو خطرہ میں ڈال دیا ہے کیونکہ بل گیٹس ہمارے ایمان پر بذریعہ چپ chip قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ جس سے ہم تمام پاکستانی اس کے قابو میں آ جائیں گے اور اپنے ایمان کو اس کے رحم و کرم پر ڈال دیں گے۔ میرے خیال میں ہمیں جتنا ایمان کا ہیضہ ہے، چپ Chip بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی، ایمان کی حرارت سے اس چپ Chip کا شارٹ سرکٹ ہو جانا ہے۔
دوسری اساسی بنیاد اتحاد کی ہے۔ اتحاد کی ہنڈیا بیچ چوراہے ہم نے خود پھوڑی ہے کہ پہلے ہم دو حصے تھے جو آپس میں مل کر رہنے کا فیصلہ نہیں کر سکے، یہاں تک کے 1971 میں دو لخت ہو گئے۔ آج ہم چار صوبے فیصلہ نہیں کر سکے کہ مل بانٹ کر آپس میں کھا لیں یہ نا ہو کہ ہمارا ہمسایہ ہمیں کھا جائے۔ آپ پانی، بجٹ اور باقی معاملات دیکھ لیں، ہم آپس میں سندھ کارڈ، پنجاب کارڈ، بلوچستان کارڈ، پختونخوا کارڈ اور کشمیر کارڈ کھیل رہے ہیں۔ ہر بھائی دوسرے بھائی سے ناراض ہے۔
اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں جو کبھی قومی ہوتی تھیں اب صوبائیت کی طرف گامزن ہیں۔ علما میں ہمارے اتنا اتحاد ہے کہ تمام مسلم ممالک میں رمضان کا آغاز و اختتام اور عید ایک دن ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ان دنوں میں بھی اتحاد کے پرخچے اڑائے جاتے ہیں۔ لسانی اور مذہبی بنیادوں کی تقسیم کی لکیر اتنی واضح ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مسجدوں اور امام بارگاہوں میں جانے کے روادار نہیں۔ ہمارے ہاں زبان و مسلک کی بنیاد پر محلے و کالونیاں مختلف شہروں میں قائم ہیں، جیسا کہ مہاجر کالونی، پٹھان کالونی اور امامیہ کالونی وغیرہ۔
مزید خلیج آج کل نمایاں ہو رہی ہے جس میں کچھ لوگ لبرل، ملحد، سیکولر، رجعت پسند اور غدار کے طور پر جانے جا رہے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ تفریق صرف دائیں اور بائیں بازو تک محدود تھی، مگر اب تو حال یہ ہے کہ ابھی آپ کا نقطہ نظر سوشل میڈیا پے آتا ہی ہے تو آپ کو غدار، ملحد اور لادین ہونے کے طعنہ ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔
تیسری اساسی بنیاد تنظیم تھی جس کا عملی مظاہرہ آپ ہمارے ٹریفک، بازار اور دیگر جگہوں پر رویہ سے لگا سکتے ہیں۔ ہر انسان کی کوشش ہے کہ وہ دوسرے سے آگے نکال جائے۔ تنظیمیں تو ہم نے بہت بنائی ہیں ہر طرح کی سیاسی تنظیم، لسانی تنظیم، طلبہ کی تنظیم، تجارتی تنظیم، اور مذہبی تنظیم وغیرہ وغیرہ۔ لیکن تنظیم کو ہم معاشرے میں رائج نا کر سکے۔ ہم ہجوم کی شکل میں آج تک بکھرے ہوئے ہیں۔ 70 سال بعد بھی ہم اپنی شناخت اور اساس کا رونا لئے کبھی عربوں کے پیچھے تو کبھی ترکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اس دوران ہمیں تیزابیت کی شکایت ہو گئی ہے، السر کا مرض لاحق ہو گیا ہے کبھی معاشرتی حوالے سے کبھی مذہبی حوالے سے کبھی معاشی حوالے سے مگر ہم ابھی بھی تشخیص و علاج کے حوالے سے ابہام کا شکار ہیں۔


