اداس دنوں میں۔۔۔ پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا
انسان ہونے کے ناطے ہم میں سے اکثر لوگ کبھی کبھی خود کو اتنا کمزور اور بے بس پاتے ہیں کہ باہر نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی پتھر اپنے وزن کے سبب پانیوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اور دوبارہ سطح پر نہیں آ پاتا۔ ایسے مشکل وقت میں ایک مددگار سہارے کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمیں بے بسی کے گرداب سے کھینچ نکالے۔ ان حالات میں اپنی مدد آپ کا اصول بیکار بلکہ خطرناک ہوجاتا ہے اور انسان مایوسی میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ اپنے بچاؤ کے لیے ہم بروقت خارجی مدد حاصل کریں اور اتنا ہی ضروری ہے کہ وہ مددگار ہماری پریشانی کی نوعیت سمجھتا ہو ورنہ مصیبت اور بڑھ جاتی ہے۔
ہمارے ہاں اس حوالے سے آگہی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے آئے دن خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ڈپریشن کیا ہے اور ایسا کیوں ہوتا ہے کہ مشکلات میں گھرا ایک انسان خود اپنی جان کے درپے ہوجاتا ہے؟ ہمیں اسے سمجھنا ہوگا کیونکہ بعید نہیں کہ کل ہمارا کوئی پیارا بھی انہی مسائل کو شکار ہوجائے اور اسے ہماری مدد کی ضرورت پڑے۔ ایک استاد اور یونیورسٹی کاؤنسلر ہونے کی حیثیت سے میرا رابطہ ان گنت نوجوان طالب علموں سے رہتا ہے جن کی عمریں سولہ سے بیس سال کے درمیان ہیں۔ یہ طالب علم اپنی ایسی پریشانیاں بھی مجھ سے بانٹ لیتے ہیں جو ان کے خیال میں باقی لوگ نہیں سمجھتے۔ انہیں مجھ پر اعتماد رہتا ہے کہ یہ سب سنتے ہوئے میں ان کی شخصیت کے متعلق کوئی منفی رائے قائم نہیں کرتی اور ان کی رازداری کا ہمیشہ خیال رکھتی ہوں۔ ایک استاد کو لازماً اس اہل ہونا چائیے ورنہ طالب علم اپنا آپ اس پر آشکار نہیں کرتے۔
جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسا مددگار موجود ہے جس کے سامنے وہ اپنا حال کھل کر بیان کرسکتے ہیں تب وہ اپنے اصل مسائل بھی بیان کرنے لگتے ہیں۔ نوجوانوں کے ان مسائل کو پیشہ وارانہ انداز سے دیکھنا جانا چائیے۔ میں نے یہ تربیت انگلینڈ کی ایک بڑی رفاحی تنظیم NSPCC سے حاصل کی اور کچھ عرصہ اسی ادارے میں کام کیا۔ وہاں مجھے سیکھنے کا موقع ملا کہ ڈپریشن اور اس سے ملتے جلتے مسائل میں گھرے نوجوانوں اور کم عمر افراد کی مدد کیسے کی جانی چائیے۔ بعد ازاں یہ تجربہ اور تربیت میری تدریسی زندگی میں بہت معاون ثابت ہوئی۔ آئی بی ڈپلومہ پروگرام کوآرڈینیٹر ہونے کی حیثیت سے میرا رابطہ اسی عمر کے طالبعلموں سے رہتا ہے اور میں ان کے رویوں کو بہت قریب سے دیکھتی ہوں۔
طالب علموں کے ان رویوں کو سمجھنا آسان نہیں اور خود مجھے یہ سیکھنے میں ایک عرصہ لگا۔ اساتذہ عموماً اس کا خیال نہیں رکھتے بلکہ ہمارے ہاں تو اسٹاف روم میں بچوں کی ایسی باتوں بتا کر مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ مسائل کوئی مذاق نہیں ہیں اور انہیں نہایت سنجیدگی سے لیا جانا چائیے۔ اپنی نادانی میں ہم بچوں کے مسائل کو اور بڑھا دیتے ہیں۔ ان کی پرائیویسی اور عزت نفس کا خیال نہ کر کے انہیں تباہی کی خاموش راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں نفسیاتی کاؤنسلنگ کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ بھی بیشتر کاؤنسلرز کا رویہ پیشہ ورانہ مہارت سے کوسوں دور اور بعض اوقات تو محض پیسے کمانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ میری مراد یہ نہیں کہ نفسیاتی مدد کے تمام ادارے ہی فراڈ ہیں البتہ ذاتی تجربے کی روشنی میں ایسی کئی مثالیں ضرور دیکھنے میں آئی ہیں۔
ڈپریشن اور روزمرہ پریشانیوں میں بہت گہرا فرق ہے اور اسی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا افراد کی مدد کے لیے پیشہ ورانہ رویہ اور بھی اہم ہوجاتا ہے۔ ڈپریشن کے حوالے سے آگہی بڑھنے کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ اکثر ایسے افراد بھی ڈپریشن کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں جو درحقیقت اس میں مبتلا نہیں ہوتے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ حقیقی مریضوں کے نظر انداز ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور انہیں مناسب مدد نہیں مل پاتی۔ اسی سے ملتا جلتا ایک اور رویہ سوشل میڈیا پر تب نظر آتا ہے جب ڈپریشن کا شکار کسی شخص کی خودکشی کی خبر عام ہوتی ہے۔ لوگ دھڑا دھڑ ایسی پوسٹس لگانا شروع کردیتے ہیں کہ ڈپریشن کے شکار افراد اپنے آپ کو اذیت مت دیں اور خودکشی کا خیال آنے پر وہ ان سے بات کرسکتے ہیں تاکہ ان کے دل کی بھڑاس کم ہو اور وہ اپنی جان لینے سے باز رہیں۔ معلوم ہونا چائیے کہ یہ پیشہ ورانہ رویہ نہیں ہے اور ہم میں سے ہر شخص ایسے افراد کی مدد کرنے کا اہل نہیں ہوتا۔
بعض اوقات تو یہ نادان دوست ایسے مریضوں کے لیے مزید مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ ڈپریشن میں مبتلا شخص کے مسائل اور خوف ایک عام صحت مند شخص کو بالکل بے معنی اور فضول نظر آ سکتے ہیں جبکہ خود مریض کے لیے وہی باتیں نہایت اہم اور بنیادی ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ آپ نادانی میں مسئلے کو ہوا دے بیٹھیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ ہوتا ہے کہ ایسے کچھ تجربات کے بعد مریض اپنے مسائل کسی بھی شخص کے ساتھ بانٹنے سے اجتناب کرنے لگتا ہے اور مکمل تنہا ہوجاتا ہے۔ ہمیں ایسے ٹرینڈز کا حصہ بننے سے پہلے اچھی طرح سوچنا چائیے کہ کیا ہم واقعی ایسے پیچیدہ مریض کی مدد کرسکتے ہیں، کیا ہمیں اس حوالے سے بنیادی تربیت اور طریقہ کار کی سوجھ بوجھ بھی ہے یا نہیں۔
ڈپریشن اور خودکشی کے حوالے سے سوشل میڈیا بیک وقت مفید اور مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ کچھ لوگ ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے بلکہ محض توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں اور توجہ نہ ملنے پر ڈپریشن کو گلیمرائز کرنے لگتے ہیں۔ ایسے افراد کو سمجھنا چائیے کہ وہ ناصرف حقیقی مریضوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ خود بھی اس مرض کا شکار ہوسکتے ہیں جو کسی طرح بھی مفید نہیں ہے۔ ذہنی صحت اور ان سماجی رویوں کا بہت قریبی تعلق ہے اور اگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لے آئیں تو معاشرے کی عمومی ذہنی صحت میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خودکشی کرنے والا کا قاتل معاشرہ بطور کل ہوتا ہے۔
اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی اور مدد گار ادارے موجود ہونے چائیں جہاں ماہرین ہمہ وقت موجود ہوں۔ ذہنی صحت ابھی تک ہمارے معاشرے کی ترجیحات میں نمایاں انداز سے شامل نہیں ہے جس کی وجہ سے سماجی انتشار، تشدد اور غیر صحت مند خطرناک رویوں میں اضافہ ہوتا ہے اور آئے روز مزید افراد ان مسائل کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ خودکشی کے حوالے سے ہیلپ لائن کو فعال اور موثر کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے تاکہ آخری حد پر پہنچے افراد کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ حکومت اور شہری اداروں کو ایسی تربیت گاہیں بنانی چاہیں جہاں اس حوالے سے بنیادی آگاہی اور طریقہ کار سکھایا جائے۔ جو افراد ایسی پیشہ ورانہ تربیت نہیں رکھتے ان کی بنیادی ذمہ داری اپنے سماجی رویوں میں بہتری لانا ہونی چائیے۔
شہریوں کی ایک بڑی تعداد جب اپنے رویوں میں شفقت اور نرمی لے آتی ہے تب معاشرہ بطور کل بہتری کی طرف گامزن ہونے لگتا ہے۔ باہمی عزت اور وقار کا رویہ نہایت ضروری ہے۔ اپنے ساتھ کے لوگوں کو رنگ و نسل، مذہب اور سماجی مرتبے کے لحاظ سے منفی رویہ مت دکھائیے کیونکہ یہ عوامل ذہنی صحت کے لیے قاتل ہیں۔ باڈی شیمنگ جو ہمارے روزمرہ مزاح کا عام حصہ ہے اس سے گریز کیا جانا بہت ضروری ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس ہنسی مذاق میں دوسرے لوگ کس قدر اذیت کا شکار ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ بالکل تنہا ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اگر ان افراد میں ذہنی بیماری کا رجحان بھی موجود ہو تو یہ روزمرہ رویے آگ کو تیل دکھانے کا کام کرتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ایسا شخص تنگ آکر کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھا لیتا ہمیں مسئلے کی نزاکت سمجھ ہی نہیں آتی۔ چنانچہ خودکشی کے بعد مدد کے ٹرینڈز چلانے سے بہت بہتر ہے کہ ہم اپنے عمومی رویوں میں محبت اور دوستی کو شامل کریں تاکہ ایسے افراد کو انتہائی صورتحال تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے۔


