سوشانت سنگھ راجپوت کی موت اور ہمارے جنازہ خوار
یقیناً یہ سال ہندی سینما اور مداحوں سمیت دنیا بھر کے فلم بینوں کے لئے نہایت ہی افسردہ اور غم کا سال ہے۔ جہاں اس سال نے عرفان خان، رشی کپور اور واجد خان جیسے سورج کی طرح روشن ناموں کو بجھا دیا وہی سوشانت سنگھ راجپوت جیسے ہر فن مولا اور محنتی اداکار کو اپنے چاہنے والوں سے الگ کر دیا۔ انہوں نے 21 اگست 1986 کو انڈیا کی شمالی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں آنکھ کھولی اور انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے خواب کی تکمیل کے لیے فلمی دنیا کا رخ کیا۔
شروع میں انھوں نے بیک اپ ڈانسر کے طور پر کام کیا جس کے بعد ’کس دیس میں ہے میرا دل‘ نامی ایک ٹی وی سیریل میں کام کیا۔ پھر ٹی وی سیریل ’پوتر رشتہ‘ نے ان کی مقبولیت کو گھر گھر پہنچا دیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ریئلٹی ڈانس شو جھلک دکھلا جا میں بھی شرکت کی جس کے بعد انھیں فلموں میں بریک ملا اور کائی پو چے میں ایک اہم کردار نبھایا۔ سوشانت راجپوت نے حالیہ برسوں میں کئی اہم فلموں میں کام کیا اور آج وہ بالی وڈ کے ان ستاروں میں سے تھے جنہوں نے اپنی ان تھک محنت کی بدولت ابھی چمکنا شروع کیا تھا۔
اب رات کے تین بج رہے ہیں جب میں اپنی یہ تحریر لکھ رہا ہوں دل نہایت اداس ہے کہ سوشانت سنگھ جیسا عظیم کلاکار آج ہم سب سے بہت دور چلا گیا۔ وہ نہ صرف ایک باکمال آرٹسٹ تھا بلکہ ایک عمدہ انسان بھی تھا جس کا اندازہ اس کے انٹرویوز اور پبلک اپیرنس سے لگایا جا سکتا ہے۔ مجھے یہ تحریر لکھنے کا بھی دل نہیں کر رہا لیکن جس طرح سوشانت کی موت کے بعد اسلامی جہادیوں نے قرآنی آیت سے فتوے دینا شروع کیے کہ مشرق کی موت پر افسوس نہ کرو وہ میرے نہایت بھونڈی اور عقل سے عاری بات ہے جبکہ میرا قرآن خود کہتا ہے کہ ”اے ایمان والوں لوگوں سے شفقت سے پیش آؤ اور ان کے ساتھ بھلائی اور رحم کرو کیونکہ تمہارا رب بہت غفور و رحیم ہے“ لیکن نہیں ہم تو وہ کرنا ہے جس سے ہماری جہالت نمایاں ہو۔ سوشانت کی موت مینٹل ہیلتھ کا برا نمونہ ہے جس نے سبق دیا کہ دماغی بیماری کیسے انسان کو اندر ہی اندر ختم کر دیتی ہے کہ اسے مرنا سب سے بہتر لگتا ہے۔
لنڈے اور سوشل میڈیا کے جہادیوں کو سوشانت کی موت پر کشمیر اور فلسطین یاد آ گیا جسے نہ تو ہماری فوج آج تک آزاد کروا پائی نہ ہی مسلم امہ کی تنظیمیں اور نہ ہی کوئی حضرت اور غازی۔ اور جن کو اتنا درد محسوس ہوتا ہے اپنے مسلم بھائیوں کا وہ اپنے بیڈروم سے اٹھیں اور ایل او سی کی طرف مارچ کریں۔ پھر دیکھیں گے کتنے مجاہدین کا کنبہ غازی ہوتا ہے۔ جس ملک کی معاشی حالت پسماندہ، دودھ ملاوٹ زدہ، ادویات جعلی، آئے دن چھوٹے بچوں اور بچیوں کا جنسی استحصال، گندگی اور غلاظت کے ڈھیر اور اخلاقیات کھنڈر ہوں ان کو قرآن کی آیات کسی ہندو کی موت پر سنانا زیب نہیں دیتا۔ جب اپنی شلوار میں سوراخ ہو تو دوسروں کا ازاربند کھنیچنے سے عزت نہیں بچا کرتی۔ اور سوشانت کی آخری رسومات میں تو اس کے جسم کو ہندو مذہبی عقیدے کے مطابق جلا دیا جائے گا لیکن ہمارے ملک میں یہ مذہبی جنازہ خوار نا جانے کب ٹھنڈے ہوں گے


