وبا کے ہاتھوں بچھڑ گئے ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”تمہیں کیا خبر کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے تم سے بچھڑ کر جینا کسی اذیت سے کم نہیں ہر نیا دن قیامت سا ہے تمہاری یاد عذاب بنتی جا رہی ہے۔ زندگی کا کوئی موڑ ایسا نہیں جہاں تم نہیں۔ ۔ ۔ تم ٹھیک کہا کرتی تھی خوشیوں کو نظر لگتے ذرا سی دیر لگتی ہے۔ میں کتنے آرام سے مسکرا دیتا تھا۔ میں ہجر کے درد سے کتنا ناواقف تھا۔ میں اوپر والے کی کن سے کیوں نہیں ڈرا۔ میں خوش رہتے رہتے غموں کو بھی بھول گیا تھا آنسو میرے پاس سے کبھی نہیں گزرے تھے اور اب درد ہی درد ہے اذیت ہی اذیت ہے تم لوٹ کر کیوں نہیں آتی؟ میں ہر روز تمہیں آوازیں دیتا ہوں۔ مگر تم نے قسم کھا رکھی ہے واپس نہ آنے کی۔ ۔ ۔ میری تنہائی مجھ سے سوال کرتی ہے۔ اذیت بھی مجھ پر ہنستی ہے۔ ۔ ۔ میرے آنسو قہقے لگاتے ہیں۔ ۔ ۔ سنو تم لوٹ آؤ نا۔“

راحیم ہر روز کی طرح ڈائری لکھ رہا تھا۔ ڈائری کا کوئی بھی صفحہ درد سے خالی نہیں تھا۔ ہر جگہ آنسوؤں کے نشان باقی تھے۔

راحیم کی زندگی خوشیوں سے بھر پور تھی ماں باپ کا لاڈلا تھا۔ زندگی میں جو چاہا حاصل کر کے رہا۔ کبھی بھی دکھ درد جیسے جذبے سے واقف نہیں ہوا۔ ۔ ۔ 2010 میں محبت ملی۔ جسے حاصل کرنے کے لیے بھی راحیم کو کچھ خاص کوشش نہیں کرنی پڑی۔ ماں باپ کا لاڈلا ہونے کی بنا پر پسند کی شادی پر کسی کو اعتراض نہ ہوا۔ بہاروں جیسی خوشبو سے ہر رشتہ مکمل تھا۔ جب محبت ہوئی تو اس کی تعلیم مکمل کا سفر جاری تھا اور اس کے بعد والد کا کاروبار سنبھالنا تھا۔ وفا جیسی خوبصورت لڑکی جسے کوئی بھی دیکھے تو محبت کے جزیرے پر ٹھہر جائے ،مسحور ہو جائے ،ہمیشہ کے لئے قید جائے۔

وفا اپنے والد کی اکلوتی بیٹی تھی۔ وادی نیلم کی خوبصورتی وفا کی موجودگی سے اور نکھر جاتی تھی۔ ۔ ۔ وفا شروع سے ہی کشمیر کی رہنے والی تھی اتفاقاً راحیم کی ملاقات وفا سے 2010 کے شروع میں ایک ٹور کے دوران ہوئی۔ وفا اور راحیم کس طرح ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے یہ ان کو بھی علم نا ہوسکا اور بہت جلد وہ محبت کی راہوں کے مسافر بن گئے۔ وقت گزرتا رہا ہر دن گویا بہاروں سے بڑھ کر تھا۔ وفا اور راحیم دونوں ہی اپنے گھر کے لاڈلے تھے۔

۔ ۔ اور محبت بھی ان کی عاشق نکلی۔ ۔ ۔ وفا کو لگتا تھا محبت بچھڑنے کا نام نہیں ہے محبت کی سرزمین پر صرف ملن کے پھول کھلتے ہیں۔ 2010 میں ہی نکاح ہو چکا تھا اور زندگی کے باقی معاملات نبھاتے نبھاتے 2019 میں رخصتی کی رسم بھی ادا ہوئی اور وہ دونوں ہمیشہ کے لئے ایک ہو گئے۔ راحیم کا تعلق لاہور سے تھا اور وفا پہلی دفعہ لاہور آئی تھی۔ خالص محبت نے کبھی دوری کا احساس نہ ہونے دیا۔ کتاب زیست میں محبت کے عنوان سے رنگوں بھری ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ محبت موسم بہار کی ہمسفر تھی۔ وفا کا تعلق میڈیکل سے تھا جب کے راحیم اپنے والد کی خواہش کے مطابق ان کا بزنس ہی چلاتا تھا۔ ۔ ۔ وفا اور راحیم کی محبت پر زمین و آسمان رشک کیا کرتے تھے۔ دونوں ن کبھی بھی خود سے الگ ہونے کا نہیں سوچا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ۔ ۔

2020 میں آنے والی وبا محبت کو بھی ساتھ لے گئی۔ کرونا وائرس جیسی وبا راحیم کی محبت کو کھا گئی۔ وفا کو سب ڈاکٹر وفا کے نام سے جانتے تھے وفا اپنی زندگی کا ہر دن خدمت خلق میں گزارتی۔ ۔ ۔ کرونا وائرس جیسی وبا کے شکار لوگوں کا خیال رکھتے رکھتے ڈاکٹر وفا اپنی زندگی کی بازی ہار گئی۔ ۔ ۔

”ہیلو! آپ سر راحیم بات کر رہے ہیں؟ سر ہمیں انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے ڈاکٹر وفا اپنی زندگی کی بازی ہار گئی ہیں۔ ۔ ۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں۔“

راحیم وفا کے ہسپتال سے آئی آخری کال آج تک بھلا نہیں سکا۔ ہر روز ڑائری میں اپنا درد لکھتا رہا۔ ۔ ۔
نہ وفا کی کمی پوری ہوئی نہ درد ختم ہوا۔ ۔ ۔
زندہ تو راحیم بھی نہیں رہا محبت کا بچھڑ جانا بھی تو موت کا ہی دوسرا نام ہے۔ ۔ ۔

Latest posts by مریم چودھری، لاہور (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply