مقتدر حلقے اور قاضی کا کٹہرہ


قاضی فائز عیسی بالآخر سرخرو ٹھہرے! سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی طرف سے بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس بھی خارج کیا گیا اور جج صاحب کے خلاف شو کاز نوٹس بھی واپس لے لیے گئے۔ اور ان کی اہلیہ کی جائیداد کے معاملے کو 3۔ 7 کی اکثریتی رائے سے ایف بی آر کو بھجوا دیا گیا جو محض اب ایک ٹیکس کا معاملہ ہے۔ اور جس جائیداد کی منی ٹریل جج صاحب کی اہلیہ سپریم کورٹ کی کارروائی میں کاغذی ثبوتوں اور رسیدوں کے ساتھ دکھا چکی ہیں۔ یہ عدالتی تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد ترین کیس تھا اور پہلی بار کوئی حاضر سروس جج بطور درخواست کنندہ پٹیشنر کے طور پر عدالت کے روبرو پیش بھی ہوا۔ اسد علی طور صاحب نے ’نیا دور‘ کے لیے عدالتی رپورٹنگ کی اور ہر روز کی کارروائی اپنے قلم سے قارعین کے دل و دماغ میں ایسے اتاری جیسے وہ ناظر بن کے عدالتی کارروائی براہ راست دیکھ رہے ہیں، موقع ملے تو ان کی تمام رپورٹس کا طویل مطالعہ ضرور کیجئے تاکہ ادراک ہو سکے کہ فیصلے کے ساتھ ساتھ جج صاحبان نے کیسے کیسے معنی خیز ریمارکس ادا کیے ہیں جو آنے والے دنوں نہ صرف عدالتی کردار بلکہ سیاسی دھارے پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

باقی رہی قاضی فائز عیسی کی بات تو اول روز سے ان کی ایمانداری، اصول پسندی، حق گوئی، بے باکی و سچائی کی مثالیں دینے والے وکلاء حضرات، بار کونسلز، سول سوسائٹی سب دیتے ہی ہیں مگر اس سے بڑھ کر ان کا عدالتی کنڈکٹ اور ان کے دیے ہوئے فیصلے اس ضمن میں بولتے ہیں۔ اور کیا خوب بولتے ہیں۔ حق سچائی کی باطل جھوٹ سے صاف ستھری اور واضح تمیز کر دیتے ہیں۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مقتدر حلقوں نے قاضی فائز عیسی کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سلسلہ 2009 سے باقاعدہ جاری و ساری ہے جب وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر کیے گئے۔ مگر اس بار یہ حلقے ایک لمبے منصوبے کے ساتھ ان کے منصب کی تاک میں نکلے تھے۔ شاید جج صاحب کا جرم یہ بھی ہو کہ ان کا تعلق بلوچستان سے ہے؟ یا پھر وہ قائد اعظم کے رفیق خاص اور بلوچستان میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے والے اور بلوچستان بھر میں پاکستان کے قیام کی بھرپور تحریک چلانے والے قاضی محمد عیسی کے صاحبزادے ہیں؟

کیونکہ صاحب تاریخ میں ہم نے قائد اعظم کی ہمشیرہ، مادر ملت، کے ساتھ بھی ان کے تحریک پاکستان کی خدمات کے عوض برابر بدلہ ادا کیا ہوا ہے شاید! ؟ مگر اس بار تو منصوبہ سازوں کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں شاید۔ قاضی فائز عیسی نے جس دلیری بہادری اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مقدمہ لڑا ہے وہ ایسے منصوبے کو ہر طرح کی سبکی ہی دلواتا ہے۔ سیاسی، قانونی اور اخلاقی۔

مگر کون ہیں یہ مقتدر حلقے؟ بھائی ہم نے اس ضمن میں ان کو تلاش کرنے کا کوئی ٹھیکا نہیں لے رکھا۔ ان کو ملک کا تین دفعہ کا وزیراعظم اپنے نیچے نہیں ڈھونڈ سکا تو بندہ ناچیز تو ایک مزدور مہندس ہے۔ ایسا لوگ بتاتے ہیں، اخبارات بتاتے ہیں، صحافی حضرات بتاتے ہیں، کبھی کوئی انہیں تھرڈ امپائر کہتا ہے۔ مگر ان کا حلقہ احباب شاید بہت وسیع ہوتا ہے۔ اکثر شاید سیاست دانوں کے ٹولوں میں ہمہ وقت موجود ہوتے ہوں۔ یا شاید ریٹائرڈ فوجی افسران یا پھر معلوم نہیں حاضر سروس والوں میں بھی؟ جج، بیوروکریٹ، سول افسران، وکلاء، صحافیوں و دانشوروں تک بھی یہ حلقہ شاید پھیلا ہوا ہو۔ مگر واضح نشانات کے ساتھ عوامی منظر نامے پر نمودار نہیں ہوتے، ہاں البتہ عوامی بیانیے تراشنے یا عوامی فلاح و بہبود کے رستوں پر شاید اثر انداز ہوتے رہتے ہیں، بعض دفعہ مثبت یا اکثر منفی طور پر۔ شاید سوچ کا فقدان ہے یا فراوانی ہونے کا گھمنڈ ہے؟ یا اپنی انا کی اسیری کروانا مقصود ہوتا ہے۔ نہیں معلوم۔ حتمی رائے تو ہر کسی کی اپنی اپنی ہوتی ہے۔
البتہ اس کیس میں شاید اگر رائے کسی کی نا لی گئی ہو تو وہ شاید وزیراعظم پاکستان اور صدر پاکستان کے عہدوں پر مسلط دو اشخاص کی ہو سکتی ہے۔ یہ انہی عمران خان صاحب کی حکومت نے اعلی عدلیہ کے جج کے خلاف صدارتی ریفرنس بھیجا جو کبھی مشرف کے زمانے میں خود سڑکوں پر وکلاء کے ساتھ ججوں کے لیے مارے مارے پھرتے تھے۔ پابند سلاسل بھی ہوتے تھے۔ آزاد عدلیہ کے علمبردار تھے۔ اس کے خواب دکھاتے تھے۔ مگر موجودہ وقت میں شاید وہ اپنی ہی ذہنی کیفیت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ پتا نہیں کون سی خیالی دنیاؤں کا ملک چلا رہے ہیں۔ یا اپنی طرف سے کس نوعیت کے وزیراعظم ہیں؟ انہوں نے اپنا وہ ہی وکیل کیا جو الطاف حسین کا کبھی وکیل ہوتا تھا یا پھر کبھی جنرل مشرف کا! وقت کی ستم ظریفی ہی کہہ سکتے ہیں۔ بہرحال بغض عمرانی کا یہ والا پہلو ڈالے بغیر یہ تحریر ادھوری تھی بالکل۔ کیونکہ آج کل خاکسار بغض عمرانی میں آگے نکل چکا ہے بہت۔

شاید اس کی قصوروار محبت پاکستانی ہے۔ ایسی محبت جو بہت لا محدود ہے۔ بہت شدید ہے۔ وہ جو دن رات اس ملک کی سرحدوں، فضاؤں اور سمندری حدود کی نگہبانی کرنے والی آنکھوں پر نچھاور ہے۔ ان کے خونوں کے لیے اپنا ایک ایک قطرۂ خون سو سو بار نچھاور کر سکتی ہے ہاں مگر جو چیز برداشت نہیں کر سکتی وہ ان مقتدر حلقوں کی اس ملک کے ساتھ جاری بہتر سالہ کھلواڑ ہے۔ اس کھیل کو بہت کھیلا جا چکا۔ ملک پاکستان کی فلاح و بہبود و ترقی کی خاطر عوامی رحم کی اپیل ہے۔ 🙏 وگرنہ خدا اس وقت سے بچائے جب عوامی مرمت حرکت میں آ جائے!

Facebook Comments HS