لکھا کیسے جاتا ہے، لکھاری کا ذہن بانجھ ہو جائے تو کیا کرتے ہیں؟


منیر نیازی کہتے ہیں، ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں“ ۔ تو وہ لمحہ نکل جاتا ہے۔ ہم پرانے شعرا کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ وہ کپڑے یا دھاگے میں گرہ لگا لیا کرتے تھے، اپنا خیال باندھ لیا کرتے تھے۔ ’فلائٹس‘ کی مصنفہ ”اولگا تارچک“ نے اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ یہ غلطی نہیں کرتی۔ وہ اپنے نوٹ بک میں اپنے ہاتھ کے اوپر، کسی پوسٹ کارڈ کے اوپر، کہیں پر بھی، جہاں اس کو موقع ملے، گیسٹ سے ہٹ کر، ٹیبل سے سائڈ پہ ہو کے، وہ نوٹ کر لیتی ہے۔ تو یہ ایک اسٹریٹجی ہے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ آئیڈیا آپ کے ذہن میں چل رہے ہوں۔ جب تک وہ میچور نہیں ہوتے، آپ اسے کاٖغذ پہ اتارتے نہیں۔ رائٹر بلاک کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ذہن میں خیال چلتے رہتے ہیں۔ لوگ کئی سال ایک موضوع پہ سوچتے رہتے ہیں، پھر کہیں جا کے اس پہ کوئی کتاب یا کچھ لکھا کرتے ہیں۔ تو ”ٹائمنگ“ رائٹر بلاک کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

رائٹنگ بلاک کی دوسری وجہ، ڈسٹرکشن۔ ٹوٹ پھوٹ یا منتشر الخیالی۔ آپ کی توجہ دوسری چیزوں میں بٹی ہوتی ہے۔ ڈسٹرکشن بھی دو طرح کی ہو تی ہے۔ آج دنیا بھر میں بیرونی ڈسٹریکشن بہت زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا، جو ہمیں بہت سے کاموں سے روک لیتی ہے۔ خاص طور پہ رائٹنگ یا کری ایٹی ویٹی کا کوئی بھی کام ہو۔ اس کے علاوہ رائٹنگ بلاک کی وجہ آپ کی اندرونی ڈسٹرکشن بھی ہو سکتی ہے۔ آپ کے ذہن کا کسی اور چیز میں الجھے رہنا۔ کسی پریشانی میں رہنا۔ وغیرہ۔

اپنی تحریر کو ان پریشانیوں سے بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ Carpe diem۔ کیپچر دا مومنٹ۔ لمحے پر گرفت۔ اس لمحے کو پکڑلیں۔ میں نے اسی لیے اولگا کی رائٹنگ سے وہ حصہ سلیکٹ کیا، جس میں وہ بتاتی ہے کہ میں کیسے لکھتی ہوں۔ نوٹ کرنا جب خیال آئے، اس وقت نوٹ کرنا بہت ضروری ہے۔ Carpe diem۔

دوسری وجہ کسی قسم کا خوف ہوتا ہے، جو آپ کو لکھنے نہیں دیتا۔ خوف یہی کہ آپ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ خوف کہ میرا لکھا لوگوں کو پسند نہیں آئے گا۔ یا یہ کہ مجھے کون پڑھے گا۔ یہ خوف آپ کی تحریر میں رکاوٹ کا سبب بن جاتا ہے۔ تخیلق کو اپنے بہاؤ میں جانے دینا چاہیے۔ اس کو ہر گز نہیں روکنا چاہیے۔ خیال نے جنم لیا، تو لکھ ڈالیں۔ بے خوف ہو کے اسے دنیا کے سامنے لائیں۔

شیکسپیئر کے بارے میں آپ نے سنا ہو گا، وہ بھی اس خوف کا شکار تھا۔ وہ چھپ چھپ کر لکھتا تھا۔ جب تھیٹر کمپنی کا مالک آتا، تو شیکسپیئر اپنا لکھا چرر مرر کر کے اس کی باسکٹ میں پھینک دیتا تھا۔ ایک دن کمپنی کے مالک نے کوئی کاغذ اٹھا لیا اور پڑھا۔ وہ نہایت دل چسپ سطریں تھیں۔ وہیں سے شیکسپیئر کے رائٹنگ کیرئیر کا آغاز ہوا اور دنیا کو ایک بہترین تمثیل نگار ملا۔

رائٹر بلاک کا ایک ریزن پرفیکشن ازم بھی ہوتا ہے۔ اچھا پڑھ پڑھ کر اور سن سن کر اور ایسے لوگوں میں بیٹھ کر آپ کے ذہن میں اتنی پرفیکشن اپروچ آجاتی ہے۔ کہ آپ کو ایسے لگتا ہے کہ جیسے آپ جو لکھیں گے۔ وہ تو اتنا پرفیکٹ نہیں ہوگا۔ تو پھر آپ کو یہ چیز بھی لکھنے سے روکتی ہے۔

رائٹر بلاک کو توڑا کیسے جائے؟ ختم کیسے کیا جائے؟ پہلے تو یہ کہ آپ اس بات کا یقین کر لیں، ”رائٹنگ از آ مسل“ ۔ ۔ جیسے ہمارے پٹھے کام کرتے ہیں، رائٹنگ بھی ایسا ایک پٹھا سمجھ لیا جائے۔ آپ جتنی ایکسر سائز کریں گے، جتنا اسے پریکٹس میں رکھیں گے، موومنٹ میں رکھیں گے، مسل کام کرتا رہے گا۔ اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ نے رکنا نہیں ہے۔ رکاوٹ آئے گی، دل نہیں چاہے گا، ایسا ہونا فطری سی بات ہے، مگر لکھتے رہنا چاہیے۔ آپ کو بہت سی ایسی مثالیں مل جائیں گی کہ بڑے لکھاری اس رکاوٹ کو توڑنے کے لیے کیا کیا فضولیات لکھتے رہے۔ لیکن وہ لکھتے رہے۔ لہذا خود کو رائٹنگ بلاک کا شکار نہیں ہونے دینا۔ اپنے ذہن میں بس یہ رکھیے کہ آپ نے لکھنا ہے۔ آپ کچھ بھی لکھیں، چھوٹا موٹا لکھیں، لیکن لکھتے رہیں۔

رائٹنگ بلاک کی صورت میں دوسری منصوبہ بندی یہ ہو سکتی ہے کہ آپ ہائبرنیٹ کر جائیں۔ زیر زمین چلے جائیں۔ ایسا جانور کرتے ہیں۔ غائب ہو جائیں۔ منظر سے ہٹ جائیں۔ اولگا کی اس بات کو لیں کہ لوگ میرے آر پار دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں کئی مقام پر یہ دعوا کرتی ہے، کہ میں لوگوں کو نظر نہیں آتی۔ کیوں کہ وہ نہیں چاہتی کہ لوگ اس کو دیکھیں۔ وہ کہیں پر اپنی موجودی جتانا نہیں چاہتی۔ وہ مشاہدہ کرنا چاہتی ہے۔ کیوں کہ اسے کتابیں لکھنی ہیں۔ خاص طور پہ جب نہ لکھا جا رہا ہو، تو خاموشی سے مشاہدہ کریں۔ آپ انٹرنیٹ آف کر دیں۔ تھوڑی دیر کے لیے سوشل میڈیا سے ہٹ جائیں، تو ڈسٹرکشن ختم ہو جائے گی۔

مارک ٹوین کہتا ہے، آپ آؤٹ لائن اسٹریجی پہ کام کریں۔ میپنگ کریں۔ ہمیں ٹیچر کہتی رہتی تھیں کہ میپنگ کریں۔ آؤٹ لائن بناؤ۔ ہم اس وقت سمجھتے نہیں تھے، یا اس وقت بڑا بورنگ لگتا تھا کہ کیا میپنگ کریں! یہ چیز لکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر آپ رائٹر بلاک کا شکار ہیں اور آپ نے پہلے سے اپنے پراجیکٹ کی آؤٹ لائننگ کی ہوتی ہے، تو پھر جمپ کر جائیں دوسرے اسٹیپ پر۔ اس کو وہیں چھوڑ دیں، جہاں رکاوٹ لگ گئی ہے۔ اسے بعد میں مکمل کر لیں اور اس طرح آپ رائٹنگ بلاک سے نکل جائیں۔

ارنسٹ ہیمنگوے کہتے ہیں کہ آپ ہورڈنگ اسٹریٹجی بھی اپنا سکتے ہیں۔ ہورڈنگ اسٹریٹجی کا مطلب ہے کہ آپ انسپریشن کو ریزرو میں رکھیں۔ سب کچھ ایک ہی جگہ نہیں کہہ دینا۔ سب کچھ ایک ہی آرٹیکل میں، سب کچھ ایک ہی افسانے میں، ایک ہی مقام پر کہنے کی ضرورت نہیں۔ خیالات کے انبار کو اپنے لیے ’رائٹر بلاک‘ نہ بنا لیا جائے۔ اپنے پوائنٹس کو روک لیں۔

اکثر اوقات رائٹنگ بلاک کی وجہ، ریسرچ میں کمی بھی ہوتی ہے۔ ایسے میں آپ کو رائٹر بلاک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آپ ریسرچ کریں، کسی بھی ٹاپک پہ۔ جس پہ آپ لکھنا چاہ رہے ہیں، اگر اس کے لیے آپ کے پاس آئیڈیا، الفاظ کا ذخیرہ، واضح نہیں ہے، تو اپنی ریسرچ جاری رکھیں۔ اس طرح آپ خود کو رائٹر بلاک سے باہر نکال سکتے ہیں۔

ماحول تبدیل کرنے سے بھی آپ دوبارہ لکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ جگہ بدل لیں۔ تھوڑی چہل قدمی کر لیں۔ جہاں بیٹھ کر لکھتے ہیں، اس جگہ کو چھوڑ دیں۔

ایک اچھی تحریر کیسی ہوتی ہے اور ہم لکھنے میں کیا غلطیاں کر رہے ہوتے ہیں؟ رابرٹ فراسٹ کا کہنا ہے، اگر آپ اپنے لکھے پہ خود نہیں رو سکتے، اگر آپ اپنے لکھے پہ ہر بار خود حیران نہیں ہو سکتے، تو پھر قاری بھی ایسا نہیں کر سکتا۔ جب ہم لکھتے ہیں تو خیال نہیں رکھتے کہ ہم بور لکھ رہے ہیں۔ اپنی تحریر کو بار بار پڑھنا اور ہر بار وہ محسوسات، جس کے تحت وہ لکھی گئی، اسے ایک کام یاب تحریر بناتا ہے۔ غلطی یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی موضوع پہ لکھتے لکھتے، ہماری توجہ بٹ جاتی ہے۔ جس نکتے پہ ہمیں رہنا چاہیے، ہم اس سے ہٹ جاتے ہیں۔

کم زور تحریر کا تیسرا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس مواد نہیں ہے۔ لکھنے سے پہلے ریسرچ کرنا بہت ضروری ہے۔ پھر اپنے جملوں کو ’کرسپ ڈاؤن‘ کرنا چاہیے۔ جیسے فرانسس بیکن کا کہنا ہے۔

Brevity is the soul of wit

ضروری ہے کہ جب ہم لکھیں تو اپنے جملے کو کئی کئی بار پڑھیں۔ دیکھیں کہ اس میں کون سی اضافی الفاط نکال سکتے ہیں۔ طویل جملہ ہے، تو مختصر کریں۔ غیر ضروری الفاظ حذف کر دیں۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں لکھنا نہایت مہارت کا کام ہے۔ اس کے لیے آپ کو پریکٹس کرنا پڑتی ہے۔ ایک ایوریج رائٹر کے لیے ضروری ہے کہ وہ چھوٹے، بڑے، مختصر و طویل جملوں کے امتزاج سے لکھے۔ جملوں میں توازن ہو۔ کسی مخصوص فیلڈ کی اصلطلاح، یا الفاظ استعمال نہ کریں۔ مثلاً آپ کا قاری اگر ایک عام شخص ہے، تو آپ کا لکھا اس کو بھی سمجھ آنا چاہیے۔

تحریر میں روانی ہو۔ تصور کیجیے، آپ ڈرائیونگ کرتے یک دم بریک لگاتے ہیں، جھٹکے دیتے ہیں، یا اوور اسپیڈنگ کرتے ہیں، تو آپ کے ساتھ بیٹھا شخص، یا تو چیخ پکار کرے گا، یا کہے گا، گاڑی روکو! مجھے اترنا ہے۔ تو ایک لکھاری کو یہ بات سمجھنا چاہیے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


صفحات: 1 2 3