لکھا کیسے جاتا ہے، لکھاری کا ذہن بانجھ ہو جائے تو کیا کرتے ہیں؟
تحریر سے متعلق سب سے اہم چیز ہے :
Development of idea
آپ کا آئیڈیا ڈیولپ ہونا چاہیے۔ پہلے جملے، پہلے پیرا گراف سے لے کر، جوں جوں آپ کی بات آگے بڑھتی جائے۔ بتدریج آئیڈیے کے گراف کو اوپر جانا چاہیے۔ اپنی بات کہتے، قاری کو پہلے نکتے سے آخری نکتے تک لے جائیں۔ اس آخری نکتے تک پہنچ کر قاری کے علم میں اضافہ ہو چکا ہو۔
ایک اور کم زوری جو ہماری رائٹنگ میں بہت نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ ہم ٹرانزیشن ورڈز یعنی رابطے کی اصطلاحات کا اچھے سے استعمال نہیں کرتے۔ جیسا کہ، مزید برآں، جب کہ، اس لیے، کیوں کہ، با وجود اس کے، وغیرہ۔ ایسے الفاظ آپ کے پچھلے جملے کو اگلے جملے سے جوڑتے ہوئے، آپ کی تحریر کو روانی دیتے ہیں۔
رائٹنگ اسکلز کو کیسے امپروو کیا جا سکتا ہے؟ اپنے لکھنے کی منصوبہ بندی کیجیے۔ لکھنے کے لیے رینڈم اپروچ نہ اپنائی جائے۔ ہوتا یہ ہے کہ ہم لکھتے ہیں، لیکن بس سیدھا لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمیں خود کو تھوڑا منظم کرنا چاہیے۔ ایسے میں گرافک آرگنائزرز کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ کی مشق سے ہم اپنی رائٹنگ اسکلز بہتر کر سکتے ہیں۔ اپنی رائٹنگ کو اچھے سے اسٹرکرچر کریں۔ تحریر کا ٹائٹل (عنوان) لبھاتا ہو۔ قاری کی توجہ حاصل کر سکے۔ ابتدائی سطور ایسی ہوں، جو قاری کو باندھ لیں اور تحریر کا اختتام بھی متاثر کن ہو۔
Practice makes a man perfect.
ہمارے سب کے اندر بھی ایک ایک کریٹک یا نقاد موجود ہے۔ ہم اس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے چاہیے۔ اگر میرے اندر کا کریٹک ہی مجھے کہہ رہا ہے کہ اس کو تھوڑا اور بہتر کر لو، اس کو تھوڑا اور سنوار لو، یا یہ جملے ٹھیک نہیں ہیں، اس کے لیے صحیح لفظ، صحیح علم کی ضرورت ہے تو اپنے کریٹک کی سنیں۔ اس کو سننا بہت بہت اہم ہے۔
لکھنے کا شوق ہے تو بس لکھیں۔ اگر آپ موٹی ویٹڈ نہیں بھی ہیں۔ آپ ڈاؤن ہیں۔ آپ لکھنا نہیں چاہ رہے، تو بھی لکھیں۔ اگر کسی ڈاکٹر کے پاس ایمرجنسی کیس آ جائے، تو وہ یہ کبھی نہیں کہے گا کہ وہ ”ڈاکٹر بلاک“ کا شکار ہے، اس لیے مریض کو دیکھ نہیں سکتا۔ یا اس کی مرہم پٹی نہیں کر سکتا۔ وہ ایسا نہیں کہے گا۔ اسی طرح کوئی پروفیشنل بھی اپنی ذمہ داری سے نہیں بھاگے گا، تو رائٹر کو چاہیے، وہ اپنی ذمہ داری قبول کرے اور کہے کہ میں رائٹر ہوں اور مجھے لکھنا ہے، نیز لکھ کے اس سے گزر جانا ہے۔
تحریر کے لازمی مراحل:
رائٹنگ ایک پراسس ہے۔ تحریر کو پانچ مراحل سے لازم گزرنا چاہیے۔
نمبر ایک: آپ آؤٹ لائن بناتے ہیں۔ مائنڈ میپ کرتے ہیں۔ اس کے لیے گرافک آرگنائزر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپنے سامنے گرافک آرگنائزر کا مکمل چارٹ تیار کر لیں۔
نمبر دو: تحریر سے پہلی کی تیاری کر کے، اب آپ لکھنے بیٹھے ہیں، تو آپ کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ اس روانی سے، اس ترتیب سے، یا اس تاثر کو کری ایٹ کرنے سے کہ جو رینڈملی لکھنے سے ممکن نہ ہوتی۔ اب اپنا پہلا ڈرافٹ لکھیے۔
نمبر تین: اپنی تحریر پہ نظر ثانی کریں۔ یہ یاد رکھا جائے کہ پہلا ڈرافٹ کسی صورت آخری ڈرافٹ نہیں ہے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کا پہلا ڈرافٹ ٹھیک ہو، پرفیکٹ ہو۔ آپ کو نظر ثانی کرنا ہوتی ہے۔ اب اپنی تحریر کو تنقیدی نگاہ سے بغور پڑھیں۔
نمبر چار: ایڈیٹنگ کریں۔ کمپیوٹر پہ لکھے کو ایڈٹ کرنا بہت آسان ہے اور جو لوگ لکھنے کے شوقین ہیں، مگر ٹائیپنگ کے لیے کسی اور کی مدد لیتے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ ٹائپنگ سیکھیں۔ جب اسکلز کی بات آئے گی، تو پھر نئی نئی مہارتیں سیکھنا ہوں گی، تا کہ انھیں استعمال کیا جا سکے۔ اگر گاڑی کے نئے ماڈل میں کوئی نیا فیچر یا میکنیزم آ تا ہے، اور آپ ڈرائیو کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو وہ میکنیزم سیکھنا ہی پڑے گا۔ اسی طرح لکھنے کے لیے بھی آپ کو نت نیا سیکھنا ہے۔ سیکھتے چلے جائیں۔
نمبر پانچ پہ مرحلہ ہے پبلشنگ کا۔ آپ کی تحریر، پڑھانے، دکھانے، اخبار میں بھیجنے، یا پرچے میں چھپنے کے لیے تیار ہے۔
لکھنے کے فن سے متعلق نظریات Theories of Writing
1: Ecocomposition Theory
آپ جس کائنات میں یا جس ماحول میں ہیں، اس کی تمام چیزوں کو تحریر میں استعمال کریں۔ تشبیہات، استعاروں اور حوالوں کے طور پہ، جو کہ ہم کرتے بھی ہیں۔ چاند، سورج، ستارے، پتھر، پھول، شبنم ہر چیز کا استعمال کرتے ہیں۔
2: Socio Cultural Theory
ہم اپنے معاشرے سے جو کچھ وصول کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم معاشرے کو دینا چاہتے ہیں، وہ تمام رویے جو آپ کی رائٹنگ پر اثر انداز ہوتے ہیں، آپ کی رائٹنگ جس پر اثر انداز ہوتی ہے، مثلاً پروین شاکر کا شعر لیں : ”وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا، بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی“ ، ہمارے یہاں عورت کو یہ مان ہمیشہ رہتا ہے لہذا اس شعر میں ہمارے معاشرے کا ایک رویہ اور ایک روایت نظر آتی ہے۔
3: Cognitive Theory
یعنی ہمارا مینٹل لرننگ کا طریقہ یا اسٹائل ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے، وہ ہماری رائٹنگ میں دکھتا ہے۔
4: Socio-Cognitive Theory
ہم ویسا ہی سوچتے ہیں اور ہمارا دماغ وہی سیکھتا ہے جو ہمارے آس پاس کا ماحول یا معاشرہ ہمیں سکھا رہا ہوتا ہے۔ یورپ میں رہنے والے کی لرننگ، اس کا بی ہیوئیر ہم سے مختلف ہوگا
لکھنے کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ان باتوں پہ خصوصی توجہ دیں :
آپ کو یہ پہچاننا ہے کہ رائٹنگ کے لیے آپ کنورجنٹ ہیں۔ یعنی آپ بہت سارے مختلف پہلوؤں کو سمیٹ کے لکھ سکتے ہیں۔ یا ڈاؤرجنٹ ہیں کہ آپ ایک بات کے ہزار پہلو، ہزار جہتیں دکھا سکتے ہیں۔
آپ نے اپنے لینگویج پراسس پہ دھیان دینا ہے۔ اپنے الفاظ کا ذخیرہ، رموز اوقاف، روانی۔ وغیرہ۔ اس پہ توجہ دیں کہ کہاں جملہ ختم ہو جانا چاہیے، کہاں جملہ کو بڑھایا جائے، تو اس بات میں زیادہ لچک اور گہرائی پیدا ہو گی۔ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ جملے کی ساخت کیسی ہو۔ سادہ یا طرح دار۔ خیال رہے کہ کہیں کمپلیکس جملہ، بات کی افادیت ختم نہ کر دے۔ یہ سب مکینکس آف رائٹنگ ہیں۔
لکھنے کی تکنیک سیکھ لی جائے، تو پھر بار بار شعوری کوشش نہیں کرنا پڑتی، یہ آپ کے جسم کے نظام میں شامل ہو جاتی ہے۔ انھیں Psycho۔ motor skills کہا جاتا ہے۔ لکھنے کے میکینکس سیکھ لیے جائیں، تو پھر ایک لکھاری توجہ دے سکتا ہے، نئے نئے موضوعات پر۔ نئے مضامین، موضوعات کی نت نئی جہتوں پر۔ نیا خیال، نئی کہانی، فینٹیسی کری ایٹ کرنا، انوکھے کردار، انوکھی دنیا تخلیق کرنا۔ جے کے رولنگ کی طرح ’ہیری پورٹر‘ جیسا ماحول تخلیق کرنا۔ ’ونڈر لینڈ‘ تخلیق کرنا۔ وغیرہ۔ یوں رائٹنگ ایک پر لطف تجربہ بن جاتا ہے۔
اس بات پہ توجہ دینا چاہیے کہ سوچنا کیسے ہے۔ اسے Meta cognition کہا جاتا ہے۔ اس بات پر سوچنا کہ سوچا کیسے جائے۔ اس میں گرافک آرگنائزرز مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ بچوں کو ان کی مدد سے ترتیب سے سوچنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فری رائٹنگ کیجیے۔ بس جو دل میں آئے لکھتے جائیے۔ یہ بھی بہت کار آمد تکنیک ہے۔
اپنا استاد خود بنیں۔ اس کے لیے رائٹنگ ٹولز، انٹرنیٹ کا استعمال کریں۔ اگر آپ نے اپنے رائٹنگ اسکلز کو پالش کرنا ہے اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا لکھا ہوا مواد، عام نہ لگے، وہ سب سے مختلف ہو، بلند ہو، اس کے لیے آپ کو بہت زیادہ پڑھنا ہے۔ ڈوب کے پڑھنا ہے۔ آغا حشر کاشمیری سے کسی نے پوچھا، ”آپ نے اتنا علم کیسے حاصل کیا“ ؟ انھوں نے کہا، ”میں ہر چیز پڑھتا رہتا ہوں۔ اخبار پڑھتا ہوں، دیواروں پر لکھا پڑھتا ہوں۔ کہانیاں پڑھتا ہوں۔ جس کاغذ میں کھانے کی کوئی چیز لیتا ہوں، اسے بھی پڑھتا ہوں“ ۔
دوسری تجویز یہ ہے کہ اپنی رائٹنگ کا ٹائم فکس کریں۔ چاہے کم لکھیں، پر ہر روز لکھیں۔ جو اشیا آپ کا وقت ضائع کرتی ہیں، جیسا کہ فیس بک، واٹس ایپ، ان سب کو بند کریں۔ اپنے اسٹائل کو پہچانیں۔ اس پہ کام کریں۔ پھر یہ دیکھیے کہ آپ کس صنف میں بہتر لکھ سکتے ہیں۔
اولگا ایک جگہ یہ بھی کہتی ہے، وہ کسی مسلم لڑکی یاسمین سے ملی۔ اس لڑکی نے اپنے ملک میں تحریک چلا رکھی ہے کہ سب لوگ لکھیں۔ اس کا کہنا ہے : ”دنیا کے باسیو قلم اٹھاؤ! کوئی بھی دلیر شخص ایک اچھی کتاب لکھ سکتا ہے۔ اس کی کاوش کا صلہ سماجی ترقی کی صورت میں، اس کو ملے گا۔ یہ غربت سے نکلنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنے لگ جائیں، تو ہم غربت ختم کر سکتے ہیں“ ۔
آج ہمارے یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے، ’ہر شخص کیوں لکھ رہا ہے‘ ؟! تو اس کا ایک ہی جواب ہے کہ بہت اچھا کر رہا ہے، وہ لکھ رہا ہے۔ لکھنا مثبت ایکٹیویٹی ہے۔ میں اکثر اپنی بیٹی سے کہتی ہوں کہ بہ جائے نیگیٹو ایکٹیویٹز میں پڑنے کے، چغلیاں کرنے سے، سوشل میڈیا گروپس میں چٹ چیٹ کرنے سے، یہ بہتر ہے کہ لکھو۔ یہ بہترین مصروفیت ہے کہ آپ کچھ پڑھ رہے ہیں یا پھر کچھ لکھ رہے ہیں۔

