میں، گرونیا اور اس کا شوہر
ہم دونوں نے جلد ہی شادی کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے اسے انگوٹھی نہیں دی مگر انگوٹھی سے زیادہ اہم وہ کمٹمنٹ تھی جو ہمارے درمیان موجود تھی، وہ وعدے تھے جو ہم دونوں نے اپنی تنہائیوں میں ایک دوسرے سے کیے تھے، بغیر کسی گواہ کے اور بغیر کسی معاہدے کے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ سارے وعدے اور وہ کمٹمنٹ بھی ہمارے خواب کی طرح بکھر جائیں گے۔
میں اسے اپنے ساتھ لاہور لے کر آ گیا کہ اسے اپنے خاندان سے ملا دوں، مجھے یقین تھا کہ اسے سب لوگ پسند کریں گے۔ وہ گوری تھی، ہمارے ملک میں سب سے زیادہ تو رنگ کو ہی دیکھا جاتا ہے۔ گوری چٹی سفید لڑکی کو تو ہر ایک ہی پسند کرتا ہے۔ اس کا ناک نقشہ خوبصورت، کتابی چہرہ کیوں نہیں پسند آتا پھر سب سے بڑھ کر اس کے عادات و اطوار۔ وہ گھریلو سی آئرش لڑکی تھی۔ اس کی پرورش جس طرح کے خاندان میں ہوئی تھی اس سے مجھے ہمیشہ اپنا گاؤں یاد آ جاتا تھا۔ وہی گاؤں کے سادہ محبت کرنے والے لوگ۔ تھوڑی تھوڑی بات پر خوش ہوجانا، معمولی سی بات پر ناراض ہونا اور ناراض ہو کر بھی خوشی خوشی ہر ایک کی مدد کرنا۔
میں جب پہلی بار اس کے ساتھ ٹپریری کے ایک چھوٹے سے گاؤں انس میلان میں اس کے گھر گیا تو سب نے مجھے اپنے کھلے دلوں اور چوڑی بانہوں میں اس طرح لے لیا جیسے میں ان کے ہی گاؤں کا ہوں۔ ڈبلن شہر سے دور وہ گاؤں بھی مجھے پاکستان کا ہی کوئی گاؤں لگا تھا۔ فرق یہ تھا کہ لوگ گورے تھے، گاؤں سے باہر ایک چھوٹا سا پب تھا جہاں عورت مرد ساتھ جا سکتے تھے، شراب پی سکتے اور آئرش لوک اور باغی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے اور ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر گیلک ڈانس کر سکتے تھے۔ ان کے بچے ہمارے ہی بچوں کی طرح تھے، مائیں ہماری ہی ماؤں کی طرح بچوں کے مستقبل کے لیے ہراساں تھیں اور نانی دادیاں ہماری ہی نانی دادیوں کی طرح پیار و محبت سے بھری ہوئی تھیں۔ کوئی شرط نہیں تھی اس پیار میں۔ گرونیا کے ساتھ انہوں نے مجھے مکمل طور پر قبول کر لیا تھا، یہ گرونیا کا جادو تھا۔
آج کل تو ممکن ہے کئی سالوں پہلے ہمارے گھر والے کسی کالے پاکستانی کو شاید قبول نہیں کرتے۔ گرونیا کے بھائی نے باتوں باتوں میں مجھے بتایا تھا مگر تم تو کالے نہیں ہو اور دنیا بھی ذرا بدل گئی ہے۔ اس نے زور سے ہنستے ہوئے کہا اور ہم دونوں دیر تک ہنستے رہے تھے۔
کچھ نہیں بدلا تھا لاہور میں، گرمجوشی سے ملنے کے باوجود محبت سے گلے لگانے کے بعد بھی گرونیا میرے والدین اور خاندان کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ اہل کتاب تھی تو کیا ہوا، تھی تو عیسائی۔ گوری چٹی ہونے کے باوجود تھی تو آئرش۔ مجھے اس سے محبت تھی تو کیا فرق پڑتا تھا، زیادہ اہمیت تو اس بات کی تھی کہ میرے لیے میرے خاندان نے کوئی فیصلہ کیا ہوا تھا۔ میری شادی میری برادری میں میرے ماں باپ کی مرضی کے مطابق ہونا تھی یہی نظام برسوں سے چلا آ رہا تھا جس کی اپنی خوبیاں ہوں گی لیکن اس نظام میں گرونیا کی گنجائش نہیں تھی۔
میں جوان تھا، محبت میں سرشار تھا، وہ میری پہلی چاہت تھی، گرونیا میرے لیے سب کچھ تھی۔ میں نے بغاوت کردی اور صاف صاف کہہ دیا کہ میری شادی صرف اور صرف گرونیا سے ہوگی۔ میں زندہ گرونیا کے ساتھ رہوں گا اور مروں گا بھی گرونیا کے ساتھ۔ وہی میری زندگی ہے اور وہی میری کائنات ہے۔ میرے گھر والے مانیں تو ٹھیک ہے نہ مانیں تو مجھے بھی فراموش کردیں۔
وہ نہیں مانی، اس کا کہنا تھا کہ وہ اس احساس جرم کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتی کہ اس کی وجہ سے میں اپنی ماں، اپنی بہنوں، خاندان، گاؤں اور ملک کو چھوڑ کر آئرلینڈ میں آ بسوں۔ وہ کہتی تھی کہ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ میرے ساتھ پاکستان چلی جائے گی، وہ پاکستانی بن جائے گی کیوں کہ پاکستان سے میری محبت کا اسے شدید احترام تھا، محبت میں کسی کو تو قربانی دینی ہوتی ہے، وہ پاکستانی بن کر بھی آئرش ہی رہے گی کیوں کہ آئرلینڈ، ڈبلن، ٹپریری اور اس کے گاؤں کے سارے دروازے اس کے لیے کھلے رہیں گے، اس کے بچوں کے لیے کھلے رہیں گے، میرے لیے کھلے رہیں گے، لیکن اگر اس نے مجھ سے شادی کرلی اور ہم دونوں یورپ میں کہیں بھی رہیں، ہمارے لیے پاکستان کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ تمہارا خاندان سب کچھ اجنبی ہوگا میرے لیے تمہارے لیے اور ہمارے بچوں کے لیے، اس بوجھ کے ساتھ وہ زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ ساری زندگی ایک ایسے احساس کے ساتھ جینا اچھا نہیں ہے۔
مجھے بہت غصہ آیا، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرے ساتھ ایسا ہوگا، ہم جدا ہو گئے۔ بہت مشکل تھا وہ وقت نہ جانے کیسے گزر گیا۔ ایک ایک لمحہ جیسے عذاب تھا مجھے۔ نا جانے کیسے میں نے ہسپتال میں وقت گزارا، کیسے مریض دیکھے، ایک عجیب قسم کی اداسی پورے ذہن و دماغ جسم و جان میں رہی تھی لیکن وقت گزر جاتا ہے، وقت گزر گیا۔
میں نے پاکستان سے ناتا ہی توڑ دیا، میرے گھر والوں نے مجھے گرونیا سے جدا کر دیا، میں گھر والوں سے جدا ہوگیا تھا لیکن کئی سالوں کے بعد اپنی ماں کی بیماری کی خبر سن کر میں پاکستان آیا۔ ان کے کہنے سے شادی بھی کرلی، اپنی طرف سے نبھانے کی کوشش بھی کی مگر نازیہ میری بیوی میری محبوبہ نہیں بن سکی، اسے چاہنے کے باوجود وہ مقام نہیں دے سکا جو اس کا مقام ہونا چاہیے تھا۔ اسے تو شاید احساس نہیں تھا لیکن مجھے پتا تھا کہ وہ وہاں نہیں ہے جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔
عام لڑکیوں کی طرح اسے مجھ سے محبت بھی ہو گئی، ہمارے بچے بھی ہو گئے اور وہ ان بچوں میں مصروف ہو کر میری بے اعتنائی کو میرا انداز سمجھتی رہی۔ میں اپنے حالات میں رہتا رہا اور اپنے آپ میں کھویا رہا، اس میں نہ میرا کوئی قصور تھا اور نہ ہی نازیہ کا کوئی دوش، نہ ہی گرونیا اس کی ذمہ دار تھی اور نہ ہی میرے والدین۔ قصور وار تو حالات تھے جن پر میرا کوئی قابو نہیں تھا۔ جن پر کسی کا کوئی قابو نہیں ہوتا۔
ایک دن مجھے پتا لگا کہ اسے چھاتیوں کا کینسر ہوگیا ہے، پتا لگتے ہی جیسے میری رہی سہی دنیا بھی ڈھیر ہو گئی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مر جائے۔ مجھے پتا تھا کہ ہم لوگ پھر کبھی نہیں ملیں گے اور ملیں گے بھی تو ایسے ملیں گے جیسے کوئی شناسائی نہ ہو۔ نہ میں اس کی سانسوں کو محسوس کروں گا، نہ اس کی پلکوں کو چوم سکوں گا، میں ضرور اس کا تھا مگر وہ میری نہیں رہی تھی۔ ہمارے راستے جدا جدا تھے، ہمارے ہمسفر مختلف اور منزلوں کا کچھ پتا نہ تھا مگر پھر بھی اس کی بیماری میری برداشت سے باہر تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مر جائے۔
میں نے اسے فون کیا، فون کے دوسری طرف میری تھرتھراتی آواز کو اس نے پہچان لیا اور بڑے زور سے ہنسی۔ اس کی ہنسی میں وہ بات نہیں تھی، مگر مجھے یہ احساس ضرور ہوا کہ اسے میری آواز سن کر خوشی ہوئی ہے۔ نازیہ کو بتائے بغیر تیزی سے موت کی سمت جانے والی گرونیا سے میں نے کئی بار بات کی۔ بہت تھوڑے دنوں کے لیے زندگی پھر دلچسپ ہو گئی۔ اس کی آواز میں ایسا ہی جادو تھا وہ پھر پورے وجود کے ساتھ میری روح میں سما گئی تھی۔ منع کرنے کے باوجود گاہے بہ گاہے وقت بے وقت اس کی آواز سننے کے لیے میں اسے فون کر لیتا تھا۔ زندگی کتنی عجیب ہے انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر اس کی قسمت کے خلاف۔
پھر اس کے مرنے کی خبر بھی آ گئی۔
سشمیش مجھ سے ملنے کے لیے ہوٹل آیا۔ وہ ایک اچھا انسان تھا، گرونیا کو ایسا ہی بندہ ملنا چاہیے تھا۔ ہم دونوں دیر تک اس کی باتیں کرتے رہے۔ اسے میرے بارے میں سب کچھ معلوم تھا۔ وہ تم سے بہت محبت کرتی تھی۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔ بعض دفعہ مجھے تم سے شدید جلن ہوتی تھی۔ وہ مجھ سے بھی محبت کرتی تھی، میں اسے شدت سے چاہتا تھا اور مجھے یہ بھی پتا تھا کہ جتنی محبت میں کرتا ہوں اس سے کہیں زیادہ اسے مجھ سے محبت ہے لیکن اس کے باوجود بعض دفعہ مجھے احساس ہوجاتا تھا کہ تم اس کے پاس ہو۔
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

