مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے”

“ایسا کیا کر دیا اس نے؟”

“وہ ایک لڑکے کی محبت میں مبتلا ہے، اس سے رہ و رسم رکھے ہوئے ہے، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا”

” کیا قتل کے سوا کوئی اور راستہ نہیں؟”

” یہ میری عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے، بیٹی نے باپ کی پگ اچھالی ہے”

“مجھ سے کیا چاہتے ہو؟”

“تم بحثیت وکیل مجھے بتاؤ کہ قتل کے بعد مجھے کم سے کم سزا کیسے ہو سکتی ہے”

“دیکھو، غیرت کے نام پہ مارو گے تو ولی ہونے کے ناطےکم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ دس برس قید ہو گی، سزائے موت نہیں ہو سکتی”۔

ایک عورت کو قتل کرنے کے لئے ایک مرد نے دوسرے مرد سے مشورہ لیا اور عورت بھی وہ، جو پندرہ سالہ بیٹی تھی۔ وکیل دوست کا دل نہ لرزا، نہ کانپا کہ ایک بیٹی موت کے دہانے پہ کھڑی ہے۔ غیرت کے نام پہ ہونے والےقتل کے بعد سزائے موت نہ ہونے کی تسلی کروائی اور گھر کو لوٹ گیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے شام میں کافی پیتے ہوئے تاش کی بازی لگاتے ہوئے مختلف چالیں زیر بحث آئیں جو نہ تو کسی کو ہیجان میں مبتلا کریں اور نہ ہی کوئی احساس جرم ہو۔

سزائے موت نہ پانے کی نوید کے ساتھ اس رات وہ باپ ایک کلہاڑی لے کر اپنی پندرہ سالہ بیٹی کے کمرے میں گھسا اور ایک ہی وار میں سر تن سے جدا کر دیا۔ بیٹی کے خون میں بھیگ کے باپ کا شملہ پھر سے اونچا ہو گیا، عزت و غیرت کو درپیش چیلنج کو نبٹا لیا گیا۔ یہ ہے مشرق میں ایک لڑکی کا مقام!

یہ کہانی ہے ہمارے ہمسایہ ملک ایران میں رہنے والی ایک بیٹی رومینہ اشرفی کی!

حیرت کاہے کی، ایران ہو یا افغانستان، ہندوستان ہو یا پاکستان، عورت کو دیکھنے، پرکھنے، جانچنے اور فیصلہ سنانے والی وحشت بھری آنکھ اور ہاتھ میں تھامے گئے آلہ قتل میں سرحدوں کی لکیروں سے کوئی فرق نہیں پڑا کرتا!

قصہ کچھ یوں ہے کہ رومینہ اشرفی کو ایک لڑکے سے محبت ہوگئی۔ کوئی انوکھی بات نہیں کہ مرد وعورت کی محبت کی گونج تو روز ازل سے کائنات میں موجود ہے۔ رومینہ کو اس لڑکے نے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہا اور اس کے رشتے کا طلبگار ہوا۔ رومینہ اشرفی کے باپ نے سختی سے انکار کر دیا کہ لڑکے کا خاندان اسے پسند نہیں تھا۔ رومینہ کی خواہش جاننے کے باوجود باپ ٹس سے مس نہ ہوا کہ بیٹی کی خواہش کی اہمیت خاک کے برابر تھی۔ یہاں تک کی کہانی ویسی ہی ہے جیسے ہم صدیوں سے سنتے دیکھتے چلے آئے ہیں۔

لیکن آگے کی داستان مختلف رنگ رکھتی تھی۔ رومینہ کا باپ، باپ نہیں رہا تھا، وہ ایک مرد بن چکا تھا جسے ایک عورت کی ہستی پہ بلا شرکت غیرے ملکیت کا زعم تھا۔ وہ بازار سے زہر خرید کے لایا اور رومینہ سے متقاضی ہوا کہ وہ زہر پی کے خود کشی کر لے۔

رومینہ نے باپ سے کہا،

“بابا، میں گھر سے چلی جاؤں گی، ایک رقعہ چھوڑ جاؤں گی۔ آپ یہ ہی سمجھیے گا اور اعلان کیجیے گا کہ میں مر گئی” اور وہ دنیا چھوڑنے کی بجائے گھر سے چلی گئی۔

غم و غصے سے پاگل ہوتا مرد ہار ماننے کو تیار نہیں تھا، اسے بیٹی کی موت ہی سکون دے سکتی تھی۔ بیٹی کا سراغ لگایا اور اغوا کا پرچہ درج کروایا۔ بیٹی بازیافت ہوئی لیکن اس بیان کے ساتھ کہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھی۔

“اپنی مرضی”…. وہ لفظ جنہوں نے رومینہ کے موت کے پروانے پہ دستخط کر دیے۔

رومینہ کو گھر لایا گیا، وکیل سے مشورہ کیا گیا اور اندھیری رات میں لڑکی کا سر اس کے جسم سے جدا کر دیا گیا۔ لیجیے، عزت و غیرت کے تقاضے پورے کر دئیے گئے۔

ایران کی رومینہ ہو، افغانستان کی زرگل یا پاکستان کی رضیہ، کیا فرق پڑتا ہے؟ ایشیائی معاشروں میں گھر کی لڑکی اور باڑے میں بندھے جانور کے نصیب کا تعین مالک کے ہاتھ میں ہوا کرتا ہے۔ لڑکی کی پسند اور مرضی وہ پرخار رہ گزر ہے جس پہ چلنے والی کے جسم و روح میں چھید ہونا مقدر ہوا کرتا ہے۔

ہمارے کچھ سوال ہیں جو ہم اٹھانا چاہتے ہیں!

کیا ہوتا اگر رومینہ کی جگہ رومین اشرفی ہوتا اور کسی لڑکی سے محبت کے بعد زندگی ساتھ گزارنے کی خواہش کرتا؟ کیا اس کا باپ اپنے بیٹے کا سر ویسے ہی تن سے جدا کرتا جیسے رومینہ کی گردن دھڑ سے اتر گئی؟

کیا ہوا؟ جواب دینا مشکل ہے نا! چلیے ہم بتائے دیتے ہیں تاکہ آپ کو گریبان میں جھانکنے کی زحمت نہ کرنی پڑے۔

ایشیائی معاشروں میں جب کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے تو اہل خانہ کے چہروں پہ دبی دبی سی مسکراہٹ پھیلتی ہے اور اپنے سپوت کی ابھرتی جوانی کا افتخار محسوس کیا جاتا ہے۔ کہیں کہیں باپ ماں کو چھیڑتے ہوئے یہ بھی کہتا ہے” ارے سنتی ہو، بیٹا پالنے سے پاؤں نکال رہا ہے”۔

نہ عزت کا جنازہ نکلنے کی فکر آن گھیرتی ہے اور نہ ہی غیرت کو کسی قسم کی آنچ پہنچنے کا اندیشہ۔ کوئی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ پوت جس لڑکی سے عشق کی پینگیں بڑھا رہا ہے، وہ کسی اور کی دختر نیک اختر ہے اور شاید کہیں اور کسی کی عزت وغیرت خطرے میں ہے۔ خیال یہی ہوتا ہے “ لڑکے تو ایسا کیا ہی کرتے ہیں، ہاں لڑکیوں کو والدین کی عزت کا بھرم رکھنا ہوتا ہے”۔

یہ کس طرح کی عزت وغیرت ہے جس کی پیاس بیٹی کے لہو سے بجھتی ہے اور بیٹے کی اداؤں سے۔ یہ کس طرح کا قانون ہے جو بیٹی کو قتل کرنے پہ باپ کی کچھ برس کی قید کو کافی سمجھتا ہے۔ ایک اور بات جان لیجیے اگر یہی قتل ماں کرے تو اس کو قانون میں کسی قسم کی چھوٹ نہیں کہ عورت کی غیرت کے تصور کا اندراج کہیں نہیں۔

ہمیں تو آج تک یہ ہی سمجھ نہیں آئی کہ غیرت کس چڑیا کا نام ہے؟ یہ بھی دریافت نہیں کر پائے کہ مرد اپنے مسخ شدہ کریہہ جذبات کو غیرت کا نام دے کے ایک عورت پہ اس کا بوجھ کیوں لاد دیا کرتے ہیں؟

خالق نے ایک مخلوق مرد و عورت کے نام سے بنائی اور بنیادی لاحقے ایک جیسے ٹھہرے ۔ اب نہ جانے یہ غیرت و عزت کا پھندنا نہ جانے کس نے اور اور کیسے عورت کی گردن میں ٹانگ دیا بالکل ویسے ہی جیسے بکری کو نکیل ڈال دی جائے۔ دودھ دینا بند کر دے یا ذرا اڑیل ہو جائے تو گردن پہ چھری پھیرنے کے لئے زیادہ سوچ بچار نہیں ہوا کرتی۔

رومینہ اشرفی! تمہارے باپ کے نزدیک تم گلے کی ایک بھیڑ ہی تھیں، جسے وہ اپنی مرضی سے ہانکتا تھا۔ تمہاری قربانی کرتے وقت اس کے پیش نظر ایک ہی بات تھی، تم اپنی مرضی سے باپ کی ملکیت سے نہیں نکل سکتیں۔ تم کیوں بھول گئیں کہ تم صرف باپ کی مرضی کے مرد کے ساتھ رشتہ بنا سکتی ہو۔

یہ ہے مردوں کا معاشرہ، جہاں کا ہر قاعدہ، ہر قانون، ہر سزا عورت کے لئے اور ہے، مرد کے لئے اور۔ یہی وہ نظام ہے جس نے مرد کو عورت پہ ہر طرح کا ظلم روا رکھنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

“ کر دو قتل، سزائے موت نہیں ہو گی۔ تم باپ ہو اور باپ ولی ہونے کے ناطے کچھ بھی کرے، یہ اس کا حق ہے”

یہ حق باپ کو کس نے تفویض کیا ہے؟ ہمیں اس کا جواب چاہیے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *