دندان ساز صدر، کھلاڑی وزیراعظم اور بے خبر فروغ نسیم – ناقابلِ اشاعت کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فروغ نسیم اس قدر قابل وکیل ہیں کہ انہیں عصر حاضر کا ”شریف الدین پیرزادہ“ کہا جا سکتا ہے۔ جب بھی حکومت کو کسی قانونی پیچیدگی یا مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو فروغ نسیم وزارت کا قلمدان چھوڑ کر کالا کوٹ پہن لیتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی انہوں نے اپنی وکالت کا جادو دکھانے کی بھرپور کوشش کی۔ اگرچہ اس اہم ترین مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی اور سپریم کورٹ کا لارجر بنچ تحقیقات کے بھاری پتھر کو چوم کر ایف بی آر کی طرف لڑھکانے کا حکم صادر کرچکا مگر میں ابھی تک فروغ نسیم کے ابتدائی دلائل کے سحر میں گرفتار ہوں۔

اخبارات میں جو تفصیلات شائع ہوئیں ان کے مطابق معزز جج صاحبان نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اور صدر کو جب ایسٹ ریکوری یونٹ سے سپریم کورٹ کے جج کے خلاف شکایت موصول ہوئی تو کیا انہوں نے اپنا ذہن استعمال کرتے ہوئے یہ جانچنے کی کوشش نہیں کی کہ کیا موصول ہونے والی معلومات اس قابل ہیں کہ انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے۔ سپریم کورٹ کئی فیصلوں میں آئین کی تشریح کرتے ہوئے اس نکتے کی وضاحت کر چکی ہے کہ صدر کی حیثیت محض ڈاکخانے کی نہیں ہے کہ جو چیز بھیجی جائے اس پر سوچے سمجھے بغیر دستخط کر دیے جائیں بلکہ صدر مملکت کو اپنا ”مائنڈ اپلائی“ کرنا چاہیے کہ آیا دستیاب معلومات درست ہیں یا نہیں۔

اس پر وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ صدرمملکت دندان ساز ہیں جبکہ وزیراعظم اگرچہ آکسفورڈ کے گریجوایٹ ہیں مگر وہ کھلاڑی رہے ہیں اس لیے انہیں جو کچھ سیکریٹریز کی وساطت سے بھیجا گیا، وہ انہوں نے آگے بھیج دیا۔

فروغ نسیم بہت منجھے ہوئے اور تجربہ کار قانون دان ہیں، وہ یقیناً اس بنیادی اصول سے واقف ہوں گے کہ قانون سے لاعلمی کو بطور جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ (Ignorance of the law is no excuse) ۔ ضروری نہیں کہ عوامی عہدوں پر متمکن شخصیات کو ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق مہارت حاصل ہو۔ اگر کسی کو معیشت کا گورکھ دھندہ سمجھ نہیں آتا تو اس کے لیے بہترین اقتصادی ماہرین کی خدمات بطور مشیر حاصل کی جا سکتی ہیں، کوئی قانونی موشگافیوں سے واقف نہیں تو ایک سے بڑھ کر ایک قانونی ماہرین موجود ہیں، ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ہر دور میں حکمرانوں کو ذہین و فطین مشیروں کی خدمات میسر رہی ہیں اور کبھی کسی حکمران نے یہ عذر پیش نہیں کیا کہ چونکہ مجھے قانونی معاملات کی کچھ خبر نہیں اس لیے میں کسی غلطی یا خطا کا ذمہ دار نہیں۔ جب کوئی فوج جنگ ہار جاتی ہے تو سپہ سالار یا کمانڈر انچیف شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیتا ہے حالانکہ وہ خود اگلے مورچوں پر نہیں لڑ رہا ہوتا۔ جب کوئی ٹرین حادثہ ہوتا ہے تو ریلوے کا وزیر مستعفی ہو جاتا ہے اور ڈرائیور کے بجائے اسے حادثے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ اگر عوامی عہدے پر براجمان شخص اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے، کوئی ٹھیکہ غیر قانونی طور پر دیا جاتا ہے تو وہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتا کہ میں چونکہ ان پڑھ ہوں اور قواعد و ضوابط سے واقف نہیں تھا اس لیے مجھ سے حساب کتاب نہ مانگا جائے۔

ماضی میں کئی بار سپریم کورٹ نے تحلیل کی گئی اسمبلیاں اس لیے بحال کر دیں کہ انہیں تحلیل کیے جانے کی سمری پر دستخط کرتے وقت عوامی عہدے پر متمکن شخص نے اپنا ذہن استعمال نہیں کیا۔ جب چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا اور انہوں نے اپنی معطلی اور سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو تب بھی جنرل پرویز مشرف کی نمائندگی کرتے ہوئے شریف الدین پیرزادہ نے یہی موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے سربراہ حکومت کی حیثیت سے جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف موصول ہونے والی شکایات صدر پرویز مشرف کو بھیجیں اور انہوں نے یہ مواد سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا مگر سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے اس تاویل کو تسلیم نہیں کیا۔

اگر اس دلیل کو تسلیم کر لیا جائے کہ وزیراعظم اور صدر کو جو سمری متعلقہ محکموں اور وزارتوں کی طرف سے بھیجی جاتی ہے، وہ اپنا ذہن استعمال کیے بغیر اس پر دستخط کر دیتے ہیں تو پھر صدر اور وزیراعظم کو ”کٹھ پتلی“ کی حیثیت حاصل ہو جائے گا جن کی ڈور ہر وزارت اور محکمے میں بیٹھے سیکشن افسر ہلا رہے ہیں۔ اس استدلال کو درست تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ جن سابق صدور، وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزرا، چیف سیکریٹریز اور سرکاری افسروں کے خلاف نیب، ایف آئی اے یا دیگر اداروں کے ذریعے جو مقدمات چلائے جا رہے ہیں وہ سب ختم ہو جائیں گے کیونکہ جب بھی کوئی سمری تیار ہوتی ہے تو وہ متعلقہ محکمے کا کلرک تیار کرتا ہے اور یہ سمری سیکشن افسر کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی اس محکمے کے سیکریٹری، وزیر اور پھر وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری تک پہنچتی ہے۔

جب فائل وزیراعظم کی میز پر پہنچتی ہے تو نہ صرف اس پر ریمارکس کی بھرمار ہوتی ہے بلکہ پرنسپل سیکریٹری زبانی طور پر بھی بتا دیتا ہے کہ یہ کیا معاملہ ہے اور اس پر کیا احکامات جاری کرنے ہیں۔ اس حساب سے تو کرپشن، بد انتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت تمام شکایات پر کارروائی اس کلرک کے خلاف ہونی چاہیے جو سمری تیار کرتا ہے کیونکہ صدر دندان ساز ہیں اور وزیراعظم کھلاڑی۔

میری دانست میں تو فروغ نسیم نے عدالت میں وفاق کا دفاع کرتے ہوئے یہ کہہ کر صدر اور وزیراعظم کی توہین کی ہے کہ انہیں کچھ معلوم نہیں گویا دونوں کی حیثیت ”کٹھ پتلی“ یا ڈاکخانے ”کی سی ہے۔ پاکستانی شہری کی حیثیت سے میں صدر اور وزیراعظم کے عہدے سے متعلق ان توہین آمیز ریمارکس پر احتجاج کرتا ہوں اور تعجب اس بات پر ہے کہ ابھی تک نہ تو ان دلائل کی وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں کسی نے تحریک استحقاق پیش کی ہے۔ گویا دندان ساز صدر مملکت اور کھلاڑی وزیراعظم کا خیال ہے کہ ان باتوں سے ان کا استحقاق مجروح نہیں ہوا۔ یعنی وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ معلوم نہیں اور کسی بات پر انہیں مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد بلال غوری

بشکریہ روز نامہ جنگ

muhammad-bilal-ghauri has 14 posts and counting.See all posts by muhammad-bilal-ghauri

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *