نسل پرستی حماقت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر کے آنگن میں کھیلتے بچوں کو دیکھ کر اکثر گھر کے بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ ”پوت کے پیر تو پالنے میں ہی نظر آ جاتے ہیں“۔ یعنی اس کے مستقبل کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے لیکن افسوس کہ کہاوت کے لیے بھی آنگن میں کھیلتا صرف پوت ہی نطر آتا ہے۔ کیا اس کے ساتھ کھیلتی ”دھی“ بغیر پیروں کے جنم لیتی ہے یا پھر وہ پالنے کے بنا ہی پل جاتی ہے؟

بیٹے کے پیدا ہونے پر سینہ چوڑا کر کے شادمانی منانے والے کہ اس سے تو ہماری نسل چلے گی، وہ لوگ اپنے ساتھ بہت نا انصافی کرتے ہیں۔ اولاد اللہ کی طرف سے ہمارے پاس امانت ہے اور امانت میں خیانت نہیں کی جاتی، تو اپنی اولاد میں انصاف کریں۔

بہت محترم ہوتے ہیں وہ والدین جن کے گھر میں بیٹی جنم لیتی ہے اور اس سے بھی زیادہ قابل قدر بات یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی پرورش اور تربیت بہت خوبصورت انداز میں کرتے ہیں۔ خاندانی عمارت میں ایک خاتون کی بہترین تربیت والا ستون آپ کی بہترین نسل والے ستون سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیجیے کہ ایک ہی اصیل نسل کی دو ماؤں کی اولادیں ساری زندگی سگے سوتیلے کی جنگ لڑتے لڑتے اتنے بد نسلے ہو جاتے ہیں کہ سب رشتوں کا ادب اور احترام بھول جاتے ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ آپ کی اچھی تربیت آپ کی اچھی نسل سے زیادہ اہم ہے۔ بیٹی یا بیٹا دونوں کی پرورش و ذمہ داری والدین یعنی ماں اور باپ دونوں کا اولین فرض ہے۔

ہاں یہ بھی سچ ہے کہ آپ کی نسل آپ کے بیٹے سے ہی چلے گی لیکن کیا جن کے پاس بیٹے نہیں ہوتے وہ بے نام و نشان رہتے ہیں؟ بالکل نہیں، ہرگز نہیں! فرض کریں آپ کے اچھی اور اصیل نسل کے بیٹے کے ساتھ ایک بدلحاظ اور بد اخلاق بیٹی کا ساتھ جڑ جاتا ہے تو پھر کون رکھے گا آپ کی اچھی نسل کا بھرم؟ ہاں ایک بہترین تربیت والی خاتون کے زیر سایہ بہت سے بد نسلوں کو بھی پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔

بیٹے بیٹی کے فرق کو ختم کیجئے اور دونوں کو احترام دیجئے بہترین پرورش کیجئے اگر آپ دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ آپ کی اچھی تربیت آپ کی آنے والی اچھی نسل کا پتہ دیتی ہے۔ اولاد کی بہترین پرورش کے لیے اللہ سے مدد طلب کرتے رہیں۔ آج پرورش میں کی گئی کوتاہی کا انجام کل کو بہت برا مل سکتا ہے کیونکہ بدلحاظ اور بد اخلاق ہونا زیادہ بھیانک ہوتا ہے بنسبت کہ بد نسل ہونا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بشریٰ برہان خان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments