پنجاب کی سرزمین اور بلونت سنگھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وہی زمین۔ وہی مٹی۔ وہی خوشبو۔ جگا سے کالے کوس تک کے فاصلے کو بلونت سنگھے کے افکار وخیالات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ مطالعہ اوران کے تجربات ومشاہدات نے ان کے تخلیقی سفر میں نئی نئی راہیں کھولیں اور وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ پنجاب، پنجاب کے رہن سہن، رسم ورواج کوموضوع تحریر بنانے والوں کی کمی نہیں رہی۔ مگرمیراخیال ہے کہ بلونت سنگھ کا پنجاب اورتھا اور وہ انوکھا پنجاب جو ان کی تخلیقات میں نظرآتا ہے صرف اورصرف انہی کی دریافت ہے۔

پنجاب کی بند اس طبیعت، شوخی، سرمستی اور نثار ہوجانے والے رویوں پریوں توہزاروں قصے لکھے گئے، مگرجس طور بلونت سنگھ نے لکھا وہ انوکھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلونت سنگھ مثالی مرد کی تعریف کے قائل نہیں تھے۔ ان کے کردار جیالے، جواں مرد اور نڈر تو ہوتے تھے، مگران میں عام انسانی کمزوریاں بھی رہتی تھیں۔ ہاں، ان کمزوریوں کے باوجود وہ انسان شکست کے قائل نہیں تھے۔ ہیمنگ وے کی طرح وہ انسان کوفاتح کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے تھے۔

ہرحال میں فاتح اور بلند۔ بلونت سنگھ کی کہانیوں میں محبت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ مگریہ محبت محض دودلوں سے نکلی ہوئی چنگاری نہیں ہے۔ بلونت سنگھ اس محبت کو آفاقی بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ وہ محبت کا کینوس اتنا وسیع کردیتے ہیں کہ اس میں پوری دنیا سماجاتی ہے۔ ایسی محبت جوپشکن، تالستائے، دوستو فسکی اور ترگنیف کے یہاں نظرآتی ہے، مگراوروں کے یہاں جس کی نظیر نہیں ملتی۔

حقیقتاً بلونت سنگھ کا پنجاب کوئی معمولی پنجاب نہیں ہے۔ جیسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٹاسٹائی، دوستو فسکی، گوگولی یاپشکن کاروس صرف انہی کاروس نہیں ہے بلکہ بسیط کائنات کی علامت ہے۔ بلونت سنگھ کاپنجاب بھی ہندوستانی سرزمین کا ایک معمولی خطہ نہیں ہے، اسے بڑے کینوس پر دیکھنا اور محسوس کرنا چاہیے۔ بلونت سنگھ کے پنجاب اوران کے کرداروں کو تاریخ کی رفتاری، سماجی تبدیلی، ظلم وجبر کی قوتوں سے نبردآزما علامت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

بلونت سنگھ کی کہانیوں یا ناولوں میں روسی مصنفین کا اثر بہت نمایاں ہے۔ جیسے روسی مصنفین کے یہاں کا ادب قزاقوں کی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ بلونت سنگھ کے یہاں قزاقوں کی جگہ ڈکیتوں نے لے لی ہے۔ یہ ڈکیت ویسے ہی جیالے اورنڈر ہیں جیسے روسی مصنفین کے قزاق۔ مثال کے طور کالے کوس کا ورسا سنگھ یا پھر ’رات، چاند اورچور‘ کے پالاسنگھ کو دیکھیے۔ جس طرح دوستو فسکی مکمل مرد کے تصور کو ایڈیٹ اور ridiculous man میں تلاش کرتا ہے۔ ممکن ہے بلونت سنگھ اس تلاش کے لیے پالاسنگھ اورورسا سنگھ جیسے کرداروں کا سہا لیتا ہو۔

”کالے کوس“ میں بھی روسی مصنفین کا اثرغالب ہے۔ مگر اس ناول میں بلونت سنگھ جس ادیب سے سب سے زیادہ متاثر نظرآتا ہے وہ ہیمنگ وے ہے۔ ہیمنگ کا محبوب موضوع جنگ تھا۔ انسان کی جدوجہد، جنگ اورسبقت لے جانا، یہ ایسے موضوعات تھے، جس پر ہیمنگ وے کی گرفت سخت تھی، جدوجہد نیکی اوربرائی کی جنگ یہاں بھی موجود ہے۔ یہی اصل جنگ بھی ہے۔ ایک ایسی جنگ جس نے ملک کو تقسیم کے دوراہے پرکھڑا کر دیا تھا اور چاروں طرف خون کی ندیاں بہہ گئی تھیں۔ کالے کوس اپنے دامن میں تقسیم کی یہ خون آشام کہانی بھی رکھتا ہے۔ پر زور کہانی اورحادثات وواقعات پرتخلیق کار کی فن کارانہ گرفت نے کالے کوس کو کافی اہم ناول بنادیا ہے۔

جیسا کہ شروع میں کہاگیا ہے کہ کالے کوس کی ابتدا محبت کے میٹھے میٹھے تجزیوں سے ہوتی ہے۔

ورساسنگھ چارگاؤں کا بدنام زمانہ نوجوان ہے۔ نڈر اور بہادر۔ ناول تین حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلا حصہ میلہ ہے، میلہ یعنی زندگی سے عبارت ہے۔ آنے اورجانے والوں کا قافلہ چلتارہتا ہے۔ دوسراحصہ جھمیلا ہے، دنیا میں آنے کے بعد جو واقعات وحادثات انسان کا مقصد بنتے ہیں یہ وہی جھمیلے ہیں۔ تیسراحصہ ہولا ہے۔ یہ حصہ اپنے دامن میں تقسیم کی آگ کو چھپائے ہے۔ لوٹ مار اور مار کاٹ کی لہو آگیں فضا ہے۔ اورایک انسان ہے جو ان سب سے نبردآزما ہے۔

اور بے شک فتح انسان کے مقدر میں لکھی ہے۔ وہ ہرجنگ کی کاٹ رکھتا ہے۔ اورجدوجہد کے پاؤں مسلسل اسے سفر پر اکساتے رہتے ہیں۔ میلوں، ٹھیلوں، جھمیلوں سے فارغ ہوکر انسان اسی محبت کی بستی میں پہنچ جاتا ہے۔ جوان سب سے نبردآزما ہے۔ اور جیسے آفاقیت حاصل ہے۔ دراصل یہ تینوں حصے خوب صورت استعاروں کی طرح ستاروں کی مانند روشن ہیں اورکہانی کی ترسیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

چارگاؤں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔ لیکن یہاں سکھ بھی اچھی خاصی تعداد میں ہیں۔ پیشورا سنگھ ایک جہاندیدہ بزرگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گووندی انہی کی الہڑ لڑکی ہے۔ گووندی ورساسنگھ کی شجاعت کی داستانیں سن سن کر اس سے محبت میں گرفتار ہوگئی ہے۔ پیشورا سنگھ کو خود بھی ورسا بہت پسند ہے۔ لیکن انہیں چوٹ تب پہنچتی ہے جب وہ ورسا سے گووندی کے رشتے کی بات کرتے ہیں اورانہیں ورسا سوئکا سا جواب سننے کوملتا ہے۔

”سردار جی! میں ازاربند کا ذراسا کمزور ہوں اوریوں بھ راہ چلتی لڑکیوں سے میری کوئی دلچسپی نہیں ہے۔“

ظاہر ہے اس جواب نے ایک غیر مند لڑکی کے باپ کو چوٹ ضرور پہنچائی ہوگی، مگر پیشورا سنگھ اس نشتر کو برداشت کرجاتا ہے۔ خسکست کے آنسوؤں کوپی جاتا ہے۔

کہانی کا سب سے مضبوط کردار صورت سنگھ ہے۔ یہ پیشورا سنگھ کا پڑھا لکھا ڈاکٹر لڑکا ہے جو ایک لڑکی کی مہندرا کور سے محبت کرتا ہے۔ دونوں مل کر گاؤں میں ڈسپنسری کھولنا چاہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بہانے گاؤں والوں کے دکھ سکھ کاعلاج کرنا چاہتے ہیں۔

صورت کا کردار دراصل میکسم گورکی کے مشہور ناول ’مدر‘ کے پاویل ولاسوف سے ملتا جلتا ہے۔ صورت سنگھ ایک انقلابی نوجوان ہے، جو گاؤں میں تعلیم کی نئی روشنی دیکھنے کاخواہش مند ہے۔ یہ نوجوان پاویل کی طرح شروع سے آخرتک خود کی تیار کی ہوئی الجھنوں میں گرفتار رہتا ہے۔ یہ ترقی پسند نوجوان ہے اور اس کے سہارے بلونت سنگھ اپنے نظریے کی وضاحت کچھ اس طرح کرتے ہیں۔

”ان کھیتوں اورپیڑوں کو دیکھو۔ ان انسانوں پر نگاہ ڈالو۔ اس ہوا کو محسوس کرو

بھولے بھالے معصوم گاؤں والوں پرصورت سنگھ کی تقریر اور باتوں کا رد عمل یہ ہوا کہ خود اس کا باپ پیشورا سنگھ بھی اس سے ناراض رہنے لگا۔ اس کی انقلابی باتیں سن سن کر ورسا سنگھ بھی اس کا دشمن بن گیا۔ گاؤں میں ڈسپنسری کھلنے کے حادثہ کو سب کے سب غلط نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ خاص کر مہندری کے کردار کو۔ جس کے بارے عام خیال یہ تھا کہ شرم وحیا بھول کر ایک جوان لڑکے کے ساتھ رہ رہی ہے۔ گاؤں والوں نے تو اس کو کرسٹینا تک کہنا شروع کر دیا تھا۔

مگر مہندری کو پتہ تھا کہ وہ کتنا بڑا کام کررہی ہے۔ اورصورت نے کتنی بڑی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک دن میں گاؤں والوں کا ذہن تو نہیں بدلا جاسکتا، مگروہ لوگ اگرایک ذہن بھی بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں توآگے چل کر گاؤں کی فضا دوسری ہو سکتی ہے۔ اس کا احساس دونوں کو تھا۔ اور یہی احساس پاویل کی طرح انہیں، مزید جدوجہد کے لیے حوصلہ اوراطمینان فراہم کر رہا تھا۔ ڈسپنسری کھل جانے کے بعد مہندرا اور صورت سنگھ کی خوشی کا اندازہ اس گفتگو سے لگایا جاسکتا ہے۔

”ہاں مہندری میں پنجاب کو ہر بار نئے سرے سے دیکھتاہوں۔ مجھے کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نادان بچے ہوں۔ اوراپنی زمین سے محبت میں، ہم سے جو بن پڑتا ہے، کرتے ہیں۔ لیکن شاید ہم بہت کم جانتے ہیں، بہت کم کرتے ہیں اورشاید جو کچھ ہمیں کرنا چاہیے وہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا“

بلونت سنگھ جس پنجاب کو ہمارے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان مکالموں کے ذریعہ آسانی سے اس کی وضاحت ہونے لگتی ہے۔ میں نے کہیں ذکر کیا ہے کہ بلونت سنگھ تخلیق کار سے زیادہ کیمرہ مین ہیں۔ ورساسنگھ اوران کے ڈکیت دوست دوسرے گاؤں میں ڈاکے کی یوجنا بناتے ہیں۔ یہ منظر جس طرح سے بلونت سنگھ نے قلمبند کیا ہے اس کا جواب نہیں۔ ڈاکہ زنی کا یہی منظر ہو بہو ان کے ’اول‘ رات چاند اور چور میں بھی ہے۔ یہاں بھی سانڈنیوں کے جملے کا ذکر ہے اور مجموعی طور پر دونوں کی فضا ایک سی ہے۔ بہرکیف ڈاکہ ڈالنے کے دوران ورسا سنگھ کی زندگی میں ایک نئی لڑکی بیلا داخل ہوتی ہے۔ گووندی کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کے ارمان لہو لہو ہو جاتے ہیں۔

یہ 6491ء کے دنوں کی بات ہے جب بیلا کو زخمی حالت میں لیے ورسا ڈرا سہما ہوا صورت سنگھ کی ڈسپنسری میں داخل ہوتا ہے۔ یہ وہ ورسا نہیں تھاجس نے کچھ مدت پہلے ڈسپنسری میں آگ لگائی تھی اور صورت سنگھ سے، جس کی ہلکی سی جھڑپ بھی ہوچکی ہے۔ مہندری بیلا کے زخموں کا علاج کرتی ہے۔ دراصل ایسا کرتے ہوئے ورسا سنگھ کے دل میں جمی ہوئی نفرت کی گرد کو وہ باہر نکالنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

’انسان فاتح ہے اورانسان کبھی نہیں مٹ سکتا۔ بلونت سنگھ کی کم وبیش تمام تر تخلیقات کا بنیادی نقطہ یہی خیال رہا ہے۔ اور یہاں اس نقطہ پر بلونت سنگھ پر ہیمنگ وے کا اثر پوری طرح غالب نظرآتا ہے ہیمنگ وے بھی انسان کی عظمت اور وقار کا دلدادہ تھا۔‘ اولڈ مین اینڈ د سی ’میں سینٹا گو کی اس آواز کومحسوس کیجئے۔

’انسان شکست کے لیے نہیں بنا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ مر سکتا ہے، لیکن مٹ نہیں سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
انسان کے لیے اذیت اورتکلیف کی کوئی اہمیت نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ !

’کالے کوس‘ کی کہانی میلہ جھمیلا ہوکر جب ’ہولا‘ کی طرف بڑھتی ہے تو فرقہ وارانہ فسادات کے طوفان میں گھرجاتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب سارے ہندوستان میں نفرت کی آندھیاں چل رہی تھیں۔ دلوں کے ٹکڑے ہوچکے تھے۔ چارگاؤں میں بھی زبردست قیامت برپاہوئی۔ ہندو مسلم دونوں ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے تھے۔ امرتسر اور لاہور جانے والی گاڑیوں میں ہندو اور مسلمانوں کی کٹی ہوئی لاشیں آتی تھیں۔ یہ سارے دلدوز مناظر بلونت سنگھ نے ایسی فنکارانہ چابکدستی سے قلمبند کیے ہیں کہ آنکھیں بھر آتی ہیں۔ چارگاؤں میں بھی جب تباہی آئی تو یہاں کے سکھوں کو بھی ہجرت کرنا پڑی۔ ورساسنگھ کسی طرح ایک بڑے جتھے کو لے کرامرتسر پہنچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، لیکن اسے دوسرے عزیزوں کی آمد کا انتظار تھا۔ لیکن تبھی اسے پتہ چلتا ہے کہ امرتسر والی گاڑی تو بیچ میں ہی کاٹ دی گئی۔

لیکن ورسا سنگھ کو پتہ چل جاتا ہے کہ گووندی زندہ ہے، گووندی جو زندگی بھر اس سے محبت کرتی رہی۔ اوروہ زندگی بھر جس سے دامن بچا تارہا۔ ورسا کو پتہ چلتا ہے کہ گووندی چارگاؤں میں ہے اور یہ علاقہ مسلمانوں کے اختیار میں ہے اوروہاں جانا موت کو دعوت دینا ہے تو وہ سر پرکفن باندھ لیتا ہے اور چارگاؤں کی طرف کوچ کرجاتا ہے۔ وہاں کے مسلمان اسے گلے سے لگا لیتے ہیں اور گووندی کو اسے سونپ دیتے ہیں۔

’رات، چاند اور چور‘ کاموضوع بھی کم وبیش وہی ہے جو کالے کوس کاہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں میلہ اور جھمیلا تو ہے لیکن ہولا نہیں ہے۔ ’رات، چاند اور چور‘ عنوان کا تعلق ناول کے اس مرکزی کھیم سے ہے، جب ایک رات چاند بدلیوں میں چھپا تھا، آندھیاں چل رہی تھیں اور سانڈنیوں کے قافلے کے ساتھ ناول کے ہیر و پالا سنگھ نے دوسرے گاؤں پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ تیارکیا تھا۔ اس واقعہ یا حادثے کو ناول میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ’کالے کوس‘ کی طرح اس ناول کا ہیر و بھی ڈکیت ہے اور چوریاں کرتا ہے۔ بہادر ہے، بے خوف ہے۔ پالا سنگھ جب سات سال کے بعد گاؤں لوٹتا ہے تو اسے سب کچھ بدل بدلا سانظرآتا ہے۔ وہ جیل کاٹ کر آیا ہے۔ پھر اسے سب کچھ یاد آنے لگتا ہے۔

پالاسنگھ سرنوں سے محبت کرتا ہے لیکن سرنوں شاید کسی اور کی محبت میں گرفتار تھی۔ یہ پرتھی پال سنگھ تھا جو فوج میں ملازم تھا۔ گاؤں آتا جاتا رہتا تھا۔ پڑھا لکھا تھا۔ پرتھی پال بھی سرنوں سے محبت کرتا تھا۔ پرتھی پال ان دنوں گھرآیا ہوا تھا۔ جانے سے پہلے وہ سرنوں کو جو چٹھی لکھتا ہے وہ سرنوں کی ماں چنداں کو مل جاتی ہے۔ چنداں ہنگامہ کھڑاکردیتی ہے۔ سرنوں کو اپنے ماں باپ کی اذیت سہنی پڑتی ہے۔ سرنوں پرتھی پال سے ملتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ وہ اسے بھگالے جائے۔ لیکن پرتھی پال منع کردیتا ہے۔

ادھر پالاسنگھ دوسرے گاؤں میں ڈاکے کامنصوبہ بناتا ہے۔ لیکن خدا کا حکم یوجنا ناکام ہوجاتی ہے۔ پالاسنگھ ناکام ہوکر گاؤں لوٹتا ہے۔ ادھر سرنوں کی شادی اس کی مرضی کے بغیر حولدار سے کردی جاتی ہے۔

رات کا اندھیرا ہے۔ دھند۔ پالا سنگھ کو کھیتوں کے پاس ایک سایہ نظر آتا ہے۔ یہ پرتھی پال ہے جو اپنی محبوبہ کے دیدارکاخواہشمندہے۔ غصہ میں ڈوبا ہوا پالاسنگھ پرتھی پال سنگھ کو مارڈالتا ہے اوراسے دریافت کرتی ہے۔

”سچ مچ اس غریب نے آپ کا کیا بگاڑ اتھا جوآپ اس کی جان لینے پر تل گئے۔“

کہانی، محبت کی کشمکش، نفرت کی شدت کو عبور کرتے ہوئے جس منزل پر پہنچی تھی، اس سے لگاتھا کہ یقیناً اب کوئی چونکانے والی بات ہوگی۔ مگر بلونت سنگھ کہانی کو دوسرا ہی موڑ دے دیتے ہیں پالاسنگھ گھرمیں اکیلی عورت (سرنوں ) اوراس قدرقریب دیکھ کر بے خود ہوجاتا ہے اور جبراً اسے اپنی ہوس کا شکاربنا بیٹھتا ہے۔

قیامت گزر جاتی ہے تو سرنوں اسے باہر جانے کا اشارہ کرکے دروازہ بند کرلیتی ہے اورپھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے۔

کہانی جب تک اپنے اختتام تک نہیں پہنچی تھی، احساس ہواتھا کہ ہو نہ ہو سرنوں اب پالاسنگھ سے عشق کا چکر چلائے گی پھراپنی انتقامی کارروائی پوری کرے گی۔ جب وہ اپنے محبوب پرتھی پال سنگھ کو معصوم اوربیچارہ کے نام سے یاد کرتی ہے تواس احساس کو مزید تقویت ملتی ہے۔ ممکن ہے بلونت سنگھ کے ذہن میں کمزور عورت کا تصوررہا ہو، جو جنم سے کمزور رہی ہے۔ مدافعت کی قوت جس میں برائے نام نہیں۔ تبھی تو جیسا ماں باپ نے چاہا سرنوں ویسا ہی کرتی رہی۔ یہاں تک کہ آخر میں اس کے عاشق نامراد نے اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا اور چلتابنا۔ اوروہ پھر سے ستی ساوتری بن کر دروازہ بند کرکے بیٹھ گئی۔ پالاسنگھ کی معرفت یہ کہنا چاہا ہو کہ مجرم ہنیت کو بدلا نہیں نہیں جاسکتا۔ مجرم، مجرم ہوتا ہے۔ واقعات وحادثات کی ضرب بھی اسے بدل نہیں سکتی۔

’رات، چاند اورچور‘ ان کمزوروں کے باوجود اس پنجاب کی عکاسی کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہے جس پنجاب میں بلونت سنگھ نے ایک مسکرائے ہوئے پنجاب کاتصور کیا تھا۔ ہیمنگ وے کی طرح بلونت سنگھ بھی انسان کی قوت برداشت، اس کے ضبط وتحمل، صبر واستقلال اورعزم وحوصلے کے قائل تھے۔ وہ انسانی خوبیوں کو اس کی ذات کی گوناگوں صفات میں تلاش کرتے تھے۔ ایک بڑے ناول کے دامن میں واقعات وحادثات کے جو سمندر ہوتے ہیں وہ سب ان دونوں ناولوں میں موجود ہیں۔ محبت کی جولانیاں، نفرت کی شدت، جنگ، میلے، ٹھیلے، اکھاڑے، کشتی، ڈاکہ زنی، سانڈنیوں کاحملہ ڈاکوؤں کی زندگی، انسانی فطرت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ دراصل بلونت سنگھ کہانی کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے یہاں جو ڈرامائی فضا کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔ اس کاجواب نہیں۔

بلونت سنگھ کے پنجاب کوجاننے کے لیے بلونت سنگھ کو ذات میں پوشیدہ پنجاب وجاننا ضروری ہے۔ یہ وہ پنجاب ہے جہاں ایمان داری ہے۔ امنگ ہے، بے خوفی ہے، ولولے ہیں، جوش ہیں اورجہاں انسانی عظمت کی شناخت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔

بلونت سنگھ کے یہاں بیدی کی طرح تہہ دار معنویت پاپیچیدگی نہیں ہے وہ کردار کی داخلی اور خارجی دونوں محرکات پرزور دیتے ہیں۔ ان کی طرز تحریر رزوز مرہ میں بولی جانے والی عام بول چال پر مبنی ہے۔

اس کا ہرکردار چہرے مہرے، بولی ٹھالی سے لے کر اپنے مکمل حلیے کے ساتھ قاری کے دل ودماغ پرنقش ہوکر رہ جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے۔ بلونت سنگھ کو نظرانداز کیا گیا۔

دراصل بلونت سنگھ نے اسی نکتہ کو اپنا سیلہ اظہار بنایا۔ اپنی تخلیقی ذہانت اور فنی انضباط کے ادارک کے لیے انہوں نے پنجاب کو بطور استعارہ استعمال کیا۔ یہ سچ ہے کہ بلونت سنگھ کے افسانوی بیان میں کوئی تہہ داری یاپیچیدگی نہیں ملے گی۔ مگران کے کردار ہماری عام زندگی سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا ضروری ہوگا کہ بلونت سنگھ پنجاب کو موضوع بنانے والے دوسرے فن کاروں کی نسبت ہم سے زیادہ قریب ہے ہاں ان کے فن کی قدروقیمت کاجو اندازہ لگایاجاناچاہیے تھا وہ اب تک نہیں لگایاجاسکاہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اردو افسانوی ادب میں ان کے مقام کاصحیح تعین ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *